عمران خان کو نا اہل نہیں ہونا چاہیے


بہت عرصہ پرانی بات نہیں ہے، ماضی قریب کا ہی ذکر ہے۔ زرداری حکومت کی بات ہے۔ جب ہر طرف سوئس اکاؤنٹس کاغلغلہ مچا ہوا تھا۔ کرپشن کے اس اسکینڈل کی ہر جانب دھوم تھی۔ میڈیا خبر کو مصالحے لگا کر کہانی بنا رہا تھا۔ یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے۔ سوئس کورٹس کو لکھے جانے والے خط کا تذکرہ تھا۔ سوئس عدالتوں کو خط لکھنے کے لئے عوامی دباؤ بڑھتا جار ہا تھا۔ حکومت کی نا اہلی، بیڈ گورننس، ترقیاتی پروجیکٹس پر عدم توجہی، لوڈ شیڈنگ کا بحران، بے نظیر شہید کے قاتلوں کی تلاش سب مسائل پس پشت چلے گئے تھے۔ ہر جانب سے بس ایک ہی شور سنائی دے رہا تھا۔ خط لکھو ورنہ گھر کو جاؤ۔ عدالتیں بھی خط کے لئے اصرار کر رہی تھیں۔ خط لکھوانے کے لئے جو کوششیں کی جا رہی تھیں اس میں ہم بھی بساط بھر شامل تھے۔ ہمیں اس دورِ جنوں میں بہت سی باتیں بھول گئیں۔

ہم بھول گئے کہ قانون کے مطابق صدر کے علاوہ وزیر اعظم کو بھی استثنی حاصل ہے۔ اگرچہ یہ استثنیٰ صدر کی طرح کا نہیں ہے۔ لیکن وزیر اعظم کو اپنے آئینی افعال کی انجام دہی میں مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ ہم سب نے اس بات کو پس پشت ڈالا اور پوری شدت سے کرپشن کے خلاف مہم میں جت گئے۔ جیسے کرپشن ایک خط کے لکھے جانے سے ہی تو ختم ہوجانی تھی۔ یوسف رضا گیلانی اس وقت آہ و زاری کرتے رہے کہ خط تو پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔ اب میں کون سا خط لکھوں؟ یہ بات بھی اب سمجھ آتی ہے کہ سوئس عدالتوں کو پہلے ہی خط لکھا جا چکا تھا اور اس کا جواب بھی آچکا تھا۔ جس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ اس طرح کی دستاویزات ہم آپ کے حوالے نہیں کر سکتے کر لو جو کرنا ہے۔

اب جو پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ گیلانی صاحب درست کہہ رہے تھے۔ ہم سب غلط تھے۔ جس پر ہم سب کو نادم ہونا چاہیے۔ معافی مانگنی چاہیے۔ کم از کم میں تو معافی کا خواستگار ہوں۔ خیر قصہ کوتاہ عدلیہ کی جانب سے گیلانی صاحب پر ایک نیا خط لکھنے پر اصرار ہونے لگا۔ خط کا متن عدلیہ کی جانب سے تجویز کیا گیا۔ گیلانی صاحب نے پھر کہا کہ خط تو لکھا جا چکا ہے اور جواب بھی آچکا ہے۔ لیکن عدالت اس بات سے مطمئن نہیں ہوئی۔ بار بار وارننگ دی گئی۔ گیلانی صاحب لیت و لعل سے کام لیتے رہے۔ تاوقتیکہ ایک دن عدلیہ نے جلال میں آکر ملک کے منتخب وزیر اعظم کو گستاخ اور نافرمان قرار دے کر توہین عدالت میں نا اہل قرار دے دیا۔

وزیر اعظم پاکستان جھوٹے، دھوکے باز اور ملعون قرار پائے۔ عدلیہ کی حکم عدولی کر کے نہ وہ صادق رہے نہ امین اور نہ ہی وزیر اعظم۔ توہین عدالت میں گیلانی صاحب کو تیس سیکنڈ کی سزا بھی ہوئی۔ چونکہ سزا ہوئی اور عدلیہ سے سزا یافتہ شخص وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان نہیں رہ سکتا۔ اس لئے گیلانی صاحب ٹھنڈے ٹھنڈے قصر وزیر اعظم سے اپنے آبائی گھر ملتان کو سدھار لئے۔ ہم سب نے ایک لمحہ بھی خیال نہیں کیا کہ یہ شخص ہزاروں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوا ہے۔ کروڑوں لوگوں کے نمائندوں نے اس کو وزارت عظمی کا منصب سونپا ہے۔ لوگوں کے ووٹ کا احترام ہونا چاہیے۔ مینڈیٹ کی تعظیم ہونی چاہیے۔ جمہوری اقدار کی تکریم ہونی چاہیے۔ یہ سب نہیں ہوا اور منتخب وزیر اعظم توہین عدالت پر گھر بھیج دیا گیا۔ جو کچھ اس وقت ہوا تھا وہ غلط ہوا تھا اور جو کچھ اب ہونے والے والا ہے وہ بھی غلط ہونے والا ہے؟

عمران خان کی آف شور کمپنیوں کا معاملہ فاضل عدالت میں زیرغور ہے۔ بہت سے مقدمات ہیں۔ کوئی آف شور کمپنی کا قصہ ہے، کہیں فارن اکا ؤنٹس کی فائل کھلی ہے، کہیں بین الاقوامی فنڈنگ کا قضیہ ہے، کہیں کاؤنٹی کرکٹ کے معاہدے دستیاب نہیں، کہیں اپنی بیلنس شیٹ ہی نہیں پوری ہو رہی، کہیں بنی گالہ کی زمین کے کاغذات دستیاب نہیں، کہیں راشدی خط کا بکھیڑا کھلا ہوا ہے تو کہیں کیری پیکر سیریز کا معاہدہ اوریہ معاملہ درپیش ہے کہ انعامی رقم کہاں سے، کیسے، کس اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی، کوئی کاغذ دستیاب نہیں ہے، کہیں بھارتی ڈونرز کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ کوئی اسرائیلی لابی سے تانے بانے ملا رہا ہے اور کوئی یہودی لابی کا ذکر کر رہا ہے۔

خاں صاحب سادے آدمی ہیں۔ نواز شریف کے خلاف پاناما میں کرپشن کے خلاف مہم چلاتے ہوئے بھول گئے کہ کاغذات تو ان کے بھی پورے نہیں ہیں۔ رسیدیں تو ان کے پاس بھی نہیں ہیں، تلاشی کانعرہ ان کے لئے بھی لگ سکتا ہے۔ اسی لئے متوقع وزارت عظمی کے جوش میں خان صاحب نے بہت سے ایسے ثبوت دے دیے جو عدالت میں ان کو کاذب قرار دے دینے کے لئے کافی ہیں۔ نواز شریف کی تحقیقات کے لئے تو جے آئی ٹی کو بڑی عرق ریزی کرنی پڑی تھی۔ عمران خان کے معاملات بہت سہل ہیں۔ فاضل عدلیہ کے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت آسان ہے کہ عمران خان اب صادق اور امین نہیں رہے۔ عدلیہ سے آنے والا فیصلہ نوشتہ دیوا ر کی طرح سب کے سامنے ہے۔ رائے عامہ بھی یہی کہتی ہے کہ اگر وزیراعظم کو صادق اور امین نہ ہونے پر گھر بھیجا جا سکتا ہے تو عمران خان کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنا چاہیے۔ ان کو بھی باسٹھ، تریسٹھ کے عتاب کا سامنا کرنا چاہیے۔ ان کی بھی نا اہلی ہونی چاہیے۔

میں نے گزشتہ عرصے میں عمران خان، کے پی حکومت اور پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر بہت کھل کر تنقید کی ہے۔ اس سب کے باوجود میں نہیں چاہتا کہ عمران خان کو صادق اور امین کی کڑی شرط پر نا اہل کیا جائے۔

ہم سب گناہ گار ہیں۔ ہم سب نے کبھی نہ کبھی جھوٹ بولا۔ سب سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ آئین میں موجود صادق اور امین کے کڑے معیار پر ہم میں سے کوئی بھی پورا نہیں اترتا۔ یہ شرط اتنی دشوار ہے کہ اس پر پورا ترنے کی قسم نہ کوئی جرنیل کھا سکتا ہے نہ کسی جج کی یہ بساط ہے نہ کسی سیاستدان میں اتنا ظرف ہے۔ یہ نبیوں کا کام ہے۔ یہ پیغمبروں کی صٖفت ہے۔ یہ عطائے خداوندی ہے۔ ہم سب عام انسانوں میں سے کوئی بھی اس چھلنی سے پار نہیں جا سکتا۔ ہم سب کے گناہ عظیم ہیں۔ ہم معافی طلب کر سکتے ہیں۔ گڑگڑا کر دعا کر سکتے ہیں۔ اپنی بساط کے مطابق اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر سکتے ہیں لیکن صادق اور امین نہیں ہو سکتے۔

میری دعا ہے کہ صادق اور امین کے نام پر اب سیاستدانوں کی ہزیمت کا سلسلہ بند ہو۔ نواز شریف ہوں یا عمران خان یا گیلانی اگر انہوں نے کوئی کرپشن کی ہے، کوئی جرم سرزد ہوا ہے کوئی لوٹ مار کی ہے تو اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ لیکن ایک ڈکٹیٹر کے عطا کردہ صادق اور امین کی ہتھکڑی سیاستدانوں کے ہاتھ میں اب مز ید نہیں لگنی چاہیے۔ عوام کے نمائندوں کا احتساب عوام کی ذمہ داری قرار دیا جانا چاہیے۔ ووٹ کوحتمی اور اٹل طاقت تصور کیا جانا چاہیے۔ انتخابات کو اصل احتساب قرار دینا چاہیے۔ ففٹی ایٹ ٹو بی کے اثر سے ہم نکل آئیں ہیں اب باسٹھ اور تریسٹھ کی ہتھکڑی سے بھی نجات حاصل کرنی چاہیے۔ ذرا ذرا سی بات پر توہین عدالت کی لاٹھی سے بچنا چاہیے۔ ورنہ ستر سال کی طرح ہزار سال گزر جائیں گے اور کوئی منتخب وزیر اعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکے گا۔

نواز حکومت کی غلطی یہ ہے کہ اپنے دور حکومت میں ان کا زیادہ تر دھیان دھرنوں سے لڑنے، سڑکیں بنانے اور بجلی کے بڑے منصوبے مکمل کرنے پر رہا مگر قانون سازی کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ اب اس ایوان کو پہلی فرصت میں آئین کے چہرے سے یہ کلنک کا داغ مٹانا چاہیے۔ کچھ لوگوں کی رائے میں اگر صادق اور امین کی تلوار، جو کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے سے ہی متصادم نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی سراسر خلاف ہے، ہٹا دی جائے تو نواز شریف پھر وزیر اعظم ہو سکتے ہیں، عمران خان بھی نا اہل ہونے سے بچ سکتے ہیں، حکومتیں اپنی جمہوری مدت بھی پوری کر سکتی ہیں، اور اس معاشرے میں جمہوری اقدار بھی پنپ سکتی ہے۔ ہمیں ڈکٹیٹروں سے نجات بھی مل سکتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 82 posts and counting.See all posts by ammar