تبدیلی کا فریبِ نظر اور بیگانگی کا غیر جمہوری عمل


پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں رہنے والی تمام سماجی اکائیوں کی ایک جمہوری رائے ہے۔ رائے کا احترام ایک انسان دوست سماج کی نشانی ہے۔ اگر کوئی کسی ا ب ج پارٹی کا طرف دار ہے تو اس کا معنی یہ نہیں کہ دوسرا اسے ل م ن پارٹی کا رکن بنانے کی زبردستی کوشش کرے کیونکہ یہ بھی ایک نیم دانش ورانہ جبر کی علامت ہے اور نظریاتی نو آبادیات قائم کرنے کا ایک چلن۔ دونوں پوزیشنیں یا بیانیوی صورتیں اپنی اپنی جگہ محترم ہیں۔ لیکن جو بکھراؤ پچھلی ایک دہائی یا اس سے قبل دیکھا گیا ہے اس کی نظیر ملنا ایک مشکل امر ہے۔ یہ جو بیگانگی (Othering) کا چلن سماج میں بذریعہ پرائیویٹ چینلز اور سوشل میڈیا کے ہمارے سماج میں در آیا ہے یہ قوم کے مجموعی تصورِ وجود اور شناخت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب بیگانگی کے ذریعے دو گروہ بنائے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک مراعات یافہ اکائی بن جاتی ہے گویا دوسرے اس فوقیتی سطح پر اپنا وجودی استحکام نہیں رکھتے اور اگر رکھتے بھی ہیں تو انتہائی حقیر یاکم تر سطح پر۔ پی ٹی آئی کی سیاست بیگانگی کے عمل کی سیاست ہے۔ حالانکہ پارٹی کا کلیدی منشور ”تبدیلی“ کا بیانیہ ہے۔ تبدیلی کے بیانیے کو سمجھنا معاصر سیاسی فہم کے لیے بہت ضروری ہے۔ تاریخی طور پر اس کی درج ذیل صورتیں متن ہیں:

1۔ سماجی بافتوں کی تشکیلِ نو
2۔ معاشی نظام کی نئی اور غیر روایتی تعبیر
3۔ سماج کے آدرشی منظر نامے سے احتراز
4۔ مروج نظامِ حکومت کی تبدیلی

ان چار صورتوں کے علاوہ تاریخ میں ہمیں تبدیلی کی کوئی نئی تعبیر نہیں ملتی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی اقتدار میں آجاتی ہے تو تبدیلی کی کون سی صورت کا اطلاق کرے گی؟

1۔ کیا سماج کو ایک جامع شناختی اکائی بنائے گی؟ ایک نمائندہ جامع شناختی اکائی کے لیے کسی آفاقی یا غیر آفاقی (مثلاً نیشنل ازم) بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی تکثیریت کی قائل ہے۔ اس کی سیاست اپنانے والی نہیں لہاذا سماجی بافتوں کے درمیان خلیج بڑھے گی جو سماجی کلیتی منطقے کی نفی ہے۔ گویا فکری انتشار کا تسلسل سے ہی اس کا وجود برقرار رہے گا جو فی الوقت اس کا معروضی چلن ہے گویا تبدیلی کی کوئی صورت رونما نہیں ہوگی۔

2۔ دوسری بات معاشی نظام کی نئی اور غیر روایتی تعبیر ہے۔ کیا پی ٹی آئی مارکسی فکر کی نمائندہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو جو یقیناً پاکستان کے مرکزی آفاقی آدرش سے متصادم ہے۔ گویا یہ بھی ممکن نہیں۔ تو پھر ptiکس تبدیلی کی بات کررہی ہے؟ کیا آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے نجات پالی جائے گی؟ اگر تحریک انصاف ایسا سوچ رہی ہے تو یہ بہت ہی معصومانہ سوچ ہے۔ کیا سرمائے کا عفریت اتنی آسانی سے اپنے چنگل سے نکلنے دے گا؟ ٹیری ایگلٹن نے کہا تھا کہ طالبان حکومت سامراج (سرمائے) کے خلاف تازہ دنوں میں واحد مزاحمت تھی اگر ایسا تھا تو سرمایہ دار نے ویرانے پن کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اس کے لیے آپ کو ایک بڑی اور غیر روایتی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس پر عمل کرنے والا ایک بھی مفکر تحریک انصاف میں موجود نہیں۔ گویا کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔

3۔ تیسری غور طلب بات سماج کے تہذیبی اور کلامی آدرشی منظر نامے سے احتراز۔ یعنی ٹرکش ماڈل وغیرہ۔ ایسا اول تو ممکن نہیں چونکہ اپنے معاصر سماج سے بافتوں کی علاحدگی کے لیے جوفکری خلجان، ابہام اور خلا درکار ہوتا ہے وہ فی الوقت موجود نہیں۔ یہ کم از کم ایک دو دہائیوں کا مسلسل عمل ہوتا ہے جس میں مبلغانہ رویے کو سماجیات تک محدود رکھا جاتا ہے نہ کہ انفرادی شخصیات تک۔ تحریک انصاف کے پاس تبدیلی کا ایسا کوئی بیانیہ ہے نہ ہی فارمولا۔ گویا سماجیاتی علوم اور عوامل اسٹیٹس کو کو برقرار رکھیں گے۔ گویا تبدیلی زمینی سطح پر ناموجود ہوگی۔

4۔ آخری اور سب سے اہم بات نظام کی تبدیلی۔ نظام کی تبدیلی کی بات دوجماعتیں کرتی ہیں ایک جماعتِ اسلامی اور دوسری تحریک انصاف دونوں کا دعوی کافی مضحکہ خیز ہے۔ تبدیلی ایک یکسر تبدیلی کا نام نہیں ہے باوجودیکہ ایسا غلط ہوگا کہ مغربی جمہوریت کے ذریعے شریعت کے نفاذ کی بات کی جائے اور تبدیلی کی بات اسٹیٹس کو کے عناصر اور روایتی نظام کے تحت کی جائے۔ اگر تو تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ وہ نیک اور قابلِ رشک کردار کے لوگوں کو عہدوں پر لا کر اپنے تبدیلی کے بیانیے کی فتح کو ثابت کرے گی تو اسے پہلے ایسے مثالی نیک اور قابل ِ رشک لوگوں کی رونمائی کرنا ہوگی۔ پھر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ محض نیک پروین لوگ سسٹم کے متوازی ایک بہتر نظام ثابت ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ سب پٹے ہوئے اور روندے ہوئے مہرے اپنی سیاسی موت سے بچنے کے لیے تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں۔

ان سب کے باوجود اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تبدیلی کے بیانیے پر حق بجانب ہے تو انہیں اپنی پوزیشن کو واضح کرنا ہوگا کیونکہ کلامیے کی سطح کی تبدیلی محض فلسفیانہ مباحث میں ہی مناسب لگتی ہے زمینی سطح پر نہیں۔ بس مجھے کوئی معزز تحریک انصاف کارکن یہ بتا دے کہ آپ کس تبدیلی کی بات کررہے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

الیاس بابر اعوان کی دیگر تحریریں
الیاس بابر اعوان کی دیگر تحریریں