روس کے داچا میں دو روز


یہاں روس میں، بڑے شہروں کے باسی، بیشتر لوگوں کو دیہات کی زندگی بہت ہی اچھی لگتی ہے۔ جس سے سنو وہ شہر سے دور فضا کی پاکیزگی کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتا۔ مگر شہروں کی فضا کو آلودہ ہوئے تو زیادہ عرصہ نہیں ہوا یہی کوئی سو سوا سو برس کی صنعتی زندگی اور بعد میں مشینی گھوڑوں یعنی گاڑیوں کے عام اور زیادہ ہونے سے شہروں اور قصبوں کی ہوائیں مسموم ہوئی ہیں مگر روسی شہریوں کو اس سے پہلے بھی موسم گرما میں شہر سے باہر رہنے کا لپکا رہا تھا۔ بادشاہ اپنے حامیوں اور حواریوں کو شہر سے دور دیہاتوں میں زمین کے جو ٹکڑے دیا کرتے تھے وہ دیے جانے کے روسی لفظ ” داست“ کی اسم صفت یعنی دیا گیا بن گئے اوریوں شہر سے باہر قطعہ ہائے زمین میں بسائے گئے گھروندوں کو ”داچاً کہا جانے لگا، ان گھروندوں کے ساتھ ملحق زمین میں پھول پھلواڑی، سبزی ترکاری بہ قسم کھیرے، ٹماٹر، چقندر، گاجر، آلو اگانے اور ان کی فصل اٹھانے کا شغل کیا جاتا ہے۔

جی ہاں باقاعدہ شغل جو مئی سے ستمبر تک ہوتا ہے۔ ستمبر میں خزاں کا آغاز ہوتے ہی داچا کو بند کیے جانے کا کام شروع ہو جاتا اور ستمبر کے آخر سے داچے میں آنا منسوخ کیونکہ سردی بڑھ جاتی ہے۔ اکتوبر نومبر میں لونڈے لپاڑے، لڑکیاں بالیاں یا پھر داچوں کے دروں دروازوں کو لگے تالوں کی، بیویوں سے چھپا کر چابیاں بنوانے والے شوہر اپنی محبوباؤں کے ساتھ راتیں رنگین کیے جانے کی خاطر ان دور افتادہ گھروں میں کبھی کبھار شب بسری کی خاطر آتے ہیں۔ دسمبر میں تو وہی ایسے گھروں میں رہنے کی جرات کر سکتا ہے جن کے گھروں میں کمروں کو گرم رکھے جانے کا بندوبست ہو۔ اب ایسے گھر بہت زیادہ ہیں ویسے ہی جیسے ہمارے ہاں امراء کے ” فارم ہاوسز ” ہوتے ہیں یعنی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلے شاندار بنگلے جن میں دو یا دو سے زائد گاڑیاں لازماً کھڑی ہوتی ہیں۔ مگر اکثریت کے واقعی داچے ہیں۔

میری روسی اہلیہ کو بھی باغبانی اور کھیتی باڑی کرنے کا از حد شوق ہے۔ اس نے بھی اچھے زمانوں میں چھ ”سوتک“ یعنی تقریباً ڈیڑھ کنال کا ٹکڑا چھ ہزارڈالرکی مساوی رقم میں لے لیا تھا جس میں ایک واجبی سا گھر، دو سیب کے درخت اور گھاس دار میدان تھا۔ اس نے یہاں خوب پھلواڑی بنائی۔ گھر کے اندر لکڑی لگوائی۔ یوں وہ پوری گرمیاں اس جگہ پر بسر کرتی ہے جبکہ میں ماسکو شہر میں اکیلا رہتا ہوں۔ وہ ہرسال مجھے داچا چلنے کو کہتی ہے مگرمیں ٹال جاتا ہوں۔ اب اس کو یہاں مناسب گھر تعمیرکروانے کی آرزو ہے کیونکہ یہ علاقہ ماسکو شہر میں شامل ہونے سے اس کے داچے کی خالی زمین کی قیمت پچھتر ہزار ڈالر کے مساوی ہو چکی ہے۔

ہر شخص کا اپنا اپنا مزاج ہے۔ مجھے دیہات میں آنا کوئی اتنا ناگوار نہیں لگتا لیکن میں دیہہ میں 24 گھنٹوں سے زیادہ رہوں تو اکتا جاتا ہوں۔ مجھے شہر پسند ہیں جہاں لوگ ہوں۔ تنوع ہو۔ رونق ہو۔ تہذیب ہو۔ تمدن ہو۔ تحرک ہو۔ محرک ہو۔ صدا ہو۔ تحیرہو۔ تبسم ہو۔ تناؤ ہو۔ دیہات میں وہی گھاس پات۔ درخت بوٹے۔ گھروں میں دبکے لوگ۔ کبھی کبھار بڑے گھروں کے لوگوں کے تحفظ پر مامور کتوں کے بھونکنے کی آواز پھر خامشی۔ صبح کی مختصر تازگی۔ دوپہر کی ویرانی۔ شام کی اداسی اور رات کا تنہا پھیکا پن۔

تاہم کئی بار جانے کا وعدہ کرکے عین وقت پر انکار کرنے یا اغماض برتنے کے بعد اس بار میں اہلیہ کے ہمراہ چلتا بنا۔ سوچا یہ فیس بک نام کا جو سوشل میڈیا ہے لگتا ہے اس کی لت لگ چکی ہے چنانچہ انٹرنیٹ پیکیج لیے بنا جاوں گا۔ یہ بھی سوچا کہ پندرہ روز کے لیے چلا جاوں، لیپ ٹاپ ساتھ لیتا جاوں اور نامکمل ناول پورا کر ڈالوں۔ پھر ارادے میں ترمیم کی۔ کچھ مہ وشوں سے تحریری رہ و رسم چل نکلی ہے جسے عرف عام میں چیٹ کرنا کہتے ہیں، ان سے کہا جمعہ یا اتوارکی شام لوٹ آوں گا۔ جانے سے پہلے جو کام کیا وہ یہ کہ اخبار کے لیے مضمون لکھ کر ارسال کر دیا۔

سال پہلے ماسکو میں زمین کے اوپر چلنے والی نئی سرکولر میٹرو کا افتتاح ہوا تھا۔ اس کا ایک سٹیشن گھر سے کچھ زیادہ دور نہیں لیکن مجھے اسے استعمال کرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا اس لیے معلوم ہی نہیں تھا کہ جو نئی تعمیر دکھائی دینے لگی ہے وہ یہی سٹیشن ہے۔ اہلیہ نے تعریف کی تھی چنانچہ اس کے کہے پر بجائے زیر زمین ریلوے سٹیشن کا رخ کرنے کے الیکٹرک بس پکڑی جسے یہاں ”ترولی بوس“ کہتے ہیں۔ یہاں کی پوری ٹرانسپورٹ میں ایک عرصے سے یکساں وائی فائی نظام ہے چنانچہ میں ان دس پندرہ منٹ میں بھی جب بس متعلقہ نئے سٹیشن کے نزدیکی سٹاپ پر رکی انٹرنیٹ سے استفادہ کرتا رہا۔

اوور گراونڈ نئی ٹرین جدید اور بے آواز تھی۔ اس نئی ٹرین کی نشستیں مناسب اور ڈبے ایر کنڈیشنڈ تھے۔ سات ڈبوں میں ادھر سے ادھر آرام سے آیا جایا جا سکتا ہے۔ مسافر زیادہ نہیں۔ میں اہلیہ سے علیحدہ نشست پر بیٹھ کر پاوں پھیلائے نیٹ چیٹ میں مصروف رہا۔ درکار اسٹیشن آنے سے پہلے خاتون خانہ نے متنبہ کیا اور ہم اس آرام دہ بنا شور گاڑی سے نکل کر راہداریوں سے گزرتے عام زیرزمین میترو کی پرشور گاڑی میں جا بیٹھے۔ بنا شوروالی ریل گاڑی کے بعد آج عام میترو کا شور کچھ زیادہ شوریلا ہو گیا تھا ویسے بھی اس لائن پر ریل گاڑی کا شور کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم میں اس شورمیں بھی ” چیٹ“ میں جتا رہا۔ اہلیہ دیکھتی رہی لیکن شکر ہے اسے اردو نہ سمجھ آتی ہے اور نہ پڑھ سکتی ہے۔ مجھ سے پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو تو میں نے بے ضرر سی باتیں بتا دیں۔ چیٹ فرینڈ کو الوداع کہا اور میٹرو سے نکل کر باہر آ گئے جہاں کے ایک سٹاپ سے 531 نمبر بس پر سوار ہو کر واتوتن نامی قصبے پہنچنا تھا۔ زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کارڈ ٹچ کرکے رکاوٹ عبور کی اور نشست سنبھال لی۔

دیکھا تو ماسکو سے دور کے قصبے میں جانے والی اس بس میں بھی وائی فائی کی علامت چسپاں تھی۔ انٹرنیٹ جھٹ سے دوبارہ کھول لیا۔ ایک دوسری دوست موجود تھی۔ بیوی بیچاری کہتی رہی کہ باہر دیکھو۔ تم چھ سال بعد جا رہے ہو، بہت کچھ نیا بن چکا ہے۔ کیا نیا بن چکا میں نے باہر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈال کر پوچھا پھر کہا بس نئی عمارتیں ہی تو ہیں اور ایک بارپھر سے خوباں سے دل لگی میں مگن ہو گیا۔ 35 منٹ کا سفر لگتا تھا پلک جھپکنے میں کٹ گیا تھا۔ اب واقعی انٹرنیٹ سے رابطہ منقطع ہو چکا تھا۔ ایک سپر سٹور سے بیگم نے خریداری شروع کی اور ہم نے صفائی کرنے والی پر نظریں گاڑ دیں۔وہ بھی ملتفت ہو گئی۔ چنانچہ مسکاہٹوں اور فقروں کا تبادلہ ہوتا رہا۔ پردیسی اور پنچھی ٹکتے تھوڑا نہ ہیں۔ خریداری تمام ہوئی۔ سودا لے کر باہر نکلے۔ خاتون نے فون کرکے ٹیکسی کال کی۔ پانچ سات منٹ میں ییلوکیب حاضر۔

ایک چلبلا سا نوجوان تاجک ڈرائیور تھا۔ اس نے سامان ڈکی میں رکھوایا پھر بے پرواہی سے تیز چلاتا ہوا ہمارے داچا کے باہر چھوڑ گیا۔ پہلے باہر والا جالی دار گیٹ کھولا۔ پھر ہری دوب والی ذاتی گلی میں پچیس قدم چل کر سیاہ گیٹ پر پہنچے۔ بیوی نے قفل کھولا تو پھول ہی پھول۔ سامان گھر کے باہر رکھ کر میں تصاویر اتارنے میں لگ گیا۔ خاتون نے کہا کہ کرنے کو کام تو بہت ہیں۔ ساتھ ہی لان کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ گھاس تراشنی ہے۔ مجھ سدا کے سست نے کہا، “ مشین کہاں ہے۔ میں تراشتا ہوں“۔ وہ بولی کہ یہ کام ایک پورا سلسلہ ہے پھر مجھے گھاس کاٹ کرتمہیں دکھانی ہوگی تاکہ درست اور ہموار کاٹ سکو۔ چند منٹ بعد اس نے مشین کی تاروں کے سلسلے جوڑے اور لان کے چاروں جانب سے گھاس تراشنا شروع کی۔ لمبائی کے رخ دو لائنیں تراش کر اس نے مشین مجھے تھما کر کہا کہ دیکھنا ہر بار آدھی لائن تراشنا مناسب ہوگا۔ اس کام کے دوران اس نے 220 وولٹ والی تار اپنے کندھے پر جھلائی ہوئی تھی۔

میں نے مشین پکڑتے ہوئے کہا، “ دیوانی ہوکیا۔ کرنٹ لگنے سے خائف نہیں ہو؟ “۔ جواب دیے بغیر اس نے اتنا کہا کہ دیکھنا تار مشین کے نیچے نہ آ جائے۔ کرنٹ سے تم بچنا۔ میں نے تین لائنیں ہی تراشی تھیں کہ اس نے واویلا کر دیا، تم بہت سی گھاس چھوڑے جا رہے ہو اورآ کر مشین پھر سے خود سنبھال لی۔ کچھ دیر کے بعد بولی، لو سنبھالو مشین۔ میں نے یہ کہہ کرانکار کردیا کہ تم کبھی میرے کام سے مطمئن ہوتی ہی نہیں چنانچہ خود ہی کرو۔ خود کمرے میں آکر خبریں دیکھنے لگا۔ فارغ ہو کر باہرنکلا تو وہ لان کے علاوہ گیٹ کے سامنے کا حصہ بھی ہموار کرکے فارغ ہو چکی تھی۔ میں حیران ہوا۔ ساتھ ہی کرسی لان کے ایک کنارے پر زرد بڑے بڑے پھولوں کے ساتھ ڈال کر ہاتھ سے کتابت کردہ دہلی میں چھپی منشی پریم چند کی کہانیوں کی کتاب پڑھنے لگا۔ کیا سادگی ہے پریم چند کی تحریر میں مگر پرمغز اور بامقصد کہانیاں۔

مچھروں نے پنڈلیوں پر حملے شروع کر دیے تھے چنانچہ جرابیں چڑھا کر پاجامہ جرابوں میں اڑس کر کتاب پڑھنا جاری رکھا۔ آٹھ بجے سورج ڈھلنے کے نزدیک پہنچا تو باہر کی ٹونٹی سے وضوکرکے عصرکی نماز پڑھی۔ اس دوران اہلیہ اپنے کھیت سے توڑی بغیر کھاد اورزہریلی ادویہ والی سٹرابری کا مربہ تیار کرچکی تھی۔ میں نے گرم گرم مربہ کھانے کی خواہش کی اور باہرلان میں بچھی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا جہاں بیوی نے مٹی کی چپنی نما منقش تھالی میں سٹرابری کا گرم مربہ لا کر پیش کر دیا۔ منہ تو جلا پرمربہ لذیذ تھا۔

وہ رات کا کھانا تیارکرتی رہی۔ میں برآمدے اورکچن کے ایک سرے پربچھے دیوان پر لیٹا کتاب پڑھتا رہا۔ ساتھ ساتھ کبھی سیلفی تو کبھی بنتے کھانے کی تو کبھی بکھرے سامان والے کمرے اور کوٹھڑی کی تصاویر اتارتا رہا۔ مرغ آلو کا سالن پکی پکائی روٹی کے ساتھ کھایا اور چائے کے ساتھ چاکلیٹ کیک۔ خبریں دیکھیں اور کتاب پڑھنا جاری رکھا۔ وہی کہانی پڑھنے کو مل گئی جو ساتویں جماعت کے نصاب کی اردو کتاب میں پڑھی تھی یعنی ” غم نہ داری بز بخر“۔ اس کہانی کے علاوہ اسی کتاب کی ایک کہانی میں ایک دلچسپ کہاوت بھی پڑھی کہ“ نہ بیوہ مرے نہ کھنڈر ڈھئے“۔ پرانی اردو سے ویسے بھی میرا ناستلجیا وابستہ ہے ویسے ہی جیسے لکھنئو کے ساتھ۔ ویسی اردو تواب رہی نہیں جو بچی تھی اس کا حلیہ پہلے ہندی چینلوں نے بگاڑا پھر پاکستان میں نئے کھلنے والے اردو چینلوں پر بولنے والوں نے ہندی والوں کی نقل کرکے اس کا ستیا ناس کر دیا۔ اور کہتے ہیں لکھنئو بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ میں نے تو لکھنئو دیکھا ہی نہیں۔

میری روسی اہلیہ کام کی دیوانی ہے۔ صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک وہ نچلی نہیں بیٹھ سکتی۔ تھکی ہاری لیٹی کوئی رسالہ دیکھنے لگی۔ میں کوٹھڑی میں بستر پر لیٹا منشی پریم چند کی کتاب تمام کرنے کے بعد ویسی ہی پرانی کرشن چندر کی کتاب پڑھنا شروع کر چکا تھا۔ جھانک کر دیکھا تو وہ روشن لیمپ کے ساتھ ہاتھ میں رسالہ تھامے انٹاغفیل ہو چکی تھی۔ ہانک لگا کرجگایا اور لیمپ بجھا دینے کی تلقین کی۔ ساڑھے بارہ بجے رات خود بھی بجلی بجھائی اور سو گیا۔

رات اسے اس کی سہیلی کا فون آیا تھا جسے سننے کے بعد اس نے بتایا تھا کہ صبح منبع سے پانی لینے جانا ہے۔ میں نے کہا تھا میں بھی چلوں گا۔ اس نے پوچھا صبح سویرے چلو گے سات بجے جس پر میں نے کہا تھا تو پھرکیا ہوا۔

رات کسی وقت آنکھ کھلی۔ رفع حاجت کے لیے نکلا تو روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ آ کرلیٹ گیا اور سوچا کہ صبح تو ہو ہی چکی۔ تھوڑی دیر میں چشمہ آب پر جانا ہی ہوگا۔ تھوڑی دیر بعد سوچا کہ وقت دیکھ لوں۔ ابھی صبح کے چار بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ نیند تو لگتا تھا آنے کی نہیں۔ کروٹیں بدلنے سے پرانی چارپائی کی چرچراہٹ کے سبب اس نے بیدار ہو کر پوچھا نیند کیوں نہیں آ رہی۔ کیا بتاتا بس اتنا کہا کہ اپنے فون سے سم نکال کر دے دو تاکہ میں اس کے نیٹ پر اخبار دیکھ سکوں۔ اس نے کہا اٹھا لو فون۔ اس کے پاس بیٹے کا دیا پرانا آئی فون فور ہے جسے کھولنا اسے نہیں آتا۔ تاہم اس نے کوشش کی۔ ناکام ہو کر فون مجھے پکڑایا اور اپنی چارپائی پر لیٹ کر سو گئی۔ میں نے اس فون کے نیٹ سے استفادہ کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ روشنی گل کرکے سونے کی سعی کرنے سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔ بالآخر چھ بجے اٹھا۔ باہر جا کے وضو کیا۔ حسب عادت فجر قضا پڑھی۔ لان میں ایک سوقدم گن کر واک شروع کی۔ یہاں روز کی چھ کلومیٹر تو نہ کر سکا البتہ تین کلو میٹر پورے کر ہی لیے۔ پونے سات بج چکے تھے۔ خاتون کو جگا کے کہا کیا پانی بھرنے نہیں چلنا۔ سوا سات بجے گھر سے نکلے۔ راستے میں اس کی سہیلی منتظر ملی۔ وہ دونوں بیگ کارٹس میں پانچ پانچ لیٹر کی تین تین خالی بوتلیں رکھے اورمیں موبائل فون کیمرے سے مسلح آگے بڑھے۔ میں تیز تیز چلتا ان سے آگے نکل گیا۔

چشمے تک پہنچنے کی خاطر لکڑی کی سیڑھیاں اترتے ہوئے دیکھا کہ ایک تاجک شخص پہلے سے اپنی بوتلیں بھررہا ہے۔ روس میں چشمے بہت ہیں اورصحت بخش پانی کے ہرچشمے پر کلیسا نے قابض ہو کر لکڑی کا ایک گھروندا بنا کر تحریریں اورتصویریں گاڑ دی ہیں۔ اور پانی کے چھوٹے چوبچے بنا کر انہیں مقدس پانی میں بدل دیا جس کے یخ بستہ پانی میں باعقیدہ لوگ ڈبکیاں لگا کر فیض حاصل کرتے ہیں۔ جس چشمہ پر ہم پہنچے اس کی سیڑھیوں سے باہر دو آدمیوں کے قد برابر پراسلاوین صلیب گاڑی گئی ہے اورعمارت بند چوبچہ کے باہر 2011 سن لکھا ہے۔ ان کی صلیب اس لیے مختلف ہوتی ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق عیسی کے پاوں بھی ایک پھٹی پر گاڑے گئے تھے چنانچہ ان کی صلیب کے نچلے حصے پر ایک اور مگر ٹیڑھی پھٹی نصب ہوتی ہے۔

پانی سے بھری بوتلیں اوپر پہنچائیں۔ پھر اپنی بیوی کی کارٹ پکڑ کے میں تیز رفتاری سے بہت آگے نکل کر ادھر کی سڑک مڑ گیا جس پر امراء کے بنگلے ہیں۔ جہاں بنگلے ختم ہوتے ہیں وہاں کے لوہے والے گیٹ سے نکل کر کھڑا ہو گیا۔ خواتین پہنچ گئیں۔ اس کی سہیلی الوداع کہہ کر اپنی کارٹ کھینچتے ایک جانب کو نکل گئی جبکہ ہماری جانب چڑھائی ہے۔ کارٹ بیوی کو دینا چاہی تو بولی میں نے سہیلی سے یہی کہا تھا کہ مشکل مقام پر مجھے پکڑا دے گا۔ مردانگی دکھانے کو چڑھائی پر بھی وزن کھینچتا رہا اورتھک گیا۔ اب باقی راستے کے لیے بیوی نے ہنس کر ہتھ گاڑی پکڑ لی۔

ملک پاکستان میں نامعلوم کیا ہوا ہوگا۔ انٹرنیٹ کی کمی بری طرح محسوس ہو رہی تھی۔ میری بے چینی دیکھتے ہوئے بیوی نے ایک بار پھر اپنے فون سے سم نکالنے کی کوشش کی مگر لا حاصل۔ سوچا چلو اس فون پر ہی فیس بک دیکھ لیتے ہیں۔ کوئی تواطلاع ہوگی مگر فیس بک اس کے بیٹے کا پاس ورڈ مانگ رہا تھا۔ تنگ آ کر باہر سیب کے درخت تلے میٹرس بچھا کر پھر سے کرشن چندر کو پڑھنا شروع کیا۔ بنگال کے قحط کے تناظر میں لکھی طویل کہانی کو پڑھ کر آنکھیں چھلک چھلک آئیں اور دل گرفتہ رہا۔ چار بجے سہ پہر پھر کمرے میں آ گیا کیونکہ حدت ہو گئی تھی۔ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے والدہ مرحومہ کی یاد آئی۔ اس لیے کہ کرشن چندر کی اشتمالیت پسندی سے مزین خوبصورت تحریریں پڑھ کر میں نے ان کی کہیں سے لی گئی ایک چھوٹی سی بلیک اینڈ وائٹ تصویر کے نیچے لکھا تھا، “ خدائے ادب، کرشن چندر“ اور تصویر چھوٹے سے فریم میں لگا کر رکھ دی تھی۔ میری والدہ کسی کے ساتھ لفظ خدا وابستہ کرنے اورخاص طورپرایک ہندو ادیب کے ساتھ منسلک کرنے سے مجھ پر بے حد برہم ہوئی تھیں۔ بہت وضاحت کی کہ اماں ادب کا ہی تو خدا کہا ہے۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ خدا خدا ہوتا ہے اوروہ بھی ایک۔ یہ صفت کسی کے ساتھ نہیں لگائی جا سکتی۔ انہوں نے وہ تصویر اتروا اورالفاظ مٹا کر ہی دم لیا تھا۔

انٹرنیٹ سے دوری، فیس بک روابط سے کٹنا اورباوجود ماحول کے پرفضا اور گل آمیز ہونے کے اس کی یکسانیت چوبیس گھنٹے بعد ہی چبھنے لگی تھی۔ دل کر رہا تھا کہ ٹیکسی بلا کر نکل لوں مگر سوچتا تھا کہ بیوی کا جی خراب ہوگا جسے کہہ چکا تھا کہ کل جاوں گا۔ پھر وہ پوڑیاں ( پین کیک) بھی تو تل رہی تھی۔ کرشن چندر کے افسانوں کی کتاب ”ان داتا“ پڑھنا جاری رکھی۔ پوڑیاں کھائیں۔ دیہات میں ڈوبتے سورج کا نظارہ کیا۔ رات ہو گئی۔ دراز ہو گیا۔ کتاب تمام کی اور یہ مضمون لکھنا شروع کر دیا۔ خاتون آج بھی ٹیبل لیمپ روشن چھوڑ کرسو گئی تھی۔ اسے آواز دی وہ ہڑبڑا کر بیدار ہوئی تو اسے روشنی گل کرنے کا کہہ کر، کرشن چندر کا بچوں کے لیے لکھا ناول ” ہمارا گھر“ پڑھنا شروع کر دیا۔ پچپن یاد آنے لگا جب ایسی کہانیاں اچھی لگتی تھیں۔ لیمپ بجھا کر میں بھی سو گیا۔

پونے سات بجے اس کی سہیلی کا فون آ گیا۔ تیار ہو کر نکلے۔ میں پھر تیز تیز چلتا ان دونوں سے کہیں پہلے منبع کے نزدیک پہنچ، سیڑھیاں اتر، چشمے کے سامنے دھرے بنچ پر جا کر کے بیٹھ گیا۔ یہ خاصی دیر بعد پہنچیں۔آج میں نے دونوں خواتین کی پانی بھری دو دو پانچ لیٹر کی بوتلیں اٹھا کر سیڑھیاں چڑھ کر ان کے بیگ کارٹس میں رکھیں۔جب دونوں نے اپنی اپنی تیسری بوتل اپنے اپنے بیگ میں رکھ کر ہک بند کر لیے تو میں نے دونوں کے کارٹس پکڑ لیے اوریہ جا وہ جا۔ راستے میں ایک تیزرفتارٹرک اور ایک بڑی گاڑی میرے کام میں مخل ہوئے۔ ریڑھیاں پہیوں کے بل الٹیں مگر میں انہیں پھر سیدھا کر اس مقام تک لے گیا جہاں میری اہلیہ کی سہیلی کو جدا ہونا تھا۔ گھر پہنچ کر چائے پی۔ آج خوب جی بھر کر گرم پانی سے نہایا۔ کل ایک عرصے بعد نہانے سے چھٹی کی تھی۔ ابلے ہوئے چپن کدو کے ساتھ ابالے گئے سادہ موٹے چاول اور لسی کا زبردست ناشتہ کیا۔ بچوں کا ناول تمام کیا اوراب یہ مضمون تمام کرتے ہی ظہرانہ کھا کر شہر لوٹنے کی تیاری کروں گا یعنی جانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جاوں گا۔ دیہات کی واحد دکان تک چل کر جاوں گا جہاں سے ٹیکسی شہر کو جانے والی شاہراہ پر لے جا کر چھوڑ دے گی۔ وہاں سٹاپ سے ماسکو جانے والی بس پر بیٹھتے ہی نیٹ پر دنیا سے رابطے بحال ہو جائیں گے اور میں بھرے پرے شہروں کا متوالا نہال ہو جاوں گا کہ شکر ہے دیہات سے جان چھوٹی البتہ میری بیوی اسی طرح وہاں صبح سے شام تک مصروف کار رہے گی شاداں و فرحاں۔ ارے بھئی تبھی تو کہتے ہیں کہ پسند اپنی اپنی۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔