منٹو کا افسانہ اور ہمارے موجودہ حالات پر فیض کی نظم


ادب و ثقافت کی ترویج و پزیرائی کسی بھی معاشرے کے مہذب ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے دانشور معاشرے کا شعور اور ضمیر سمجھے جاتے ہیں۔ سوچ اور اظہار رائے کی آزادی کے بغیر کسی بھی معاشرے کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد کئی موضوعات پر اظہار رائے پر قدغن لگا دی گئی اور اُن کے بیان کو جرم قرار دے دیا گیا۔ اردو ادب کو اپنے کئی دانشوروں پر ناز ہے کہ وہ اس زباں بندی کے باوجود پاکستانی قوم تک سچ پہنچاتے رے۔ یہ سچائی ہمیں کبھی فیض کی شاعری میں نظر آتی ہے اور کبھی منٹو کے افسانوں میں پڑھنے کو ملتی ہے۔ سعادت حسن منٹو کے کئی افسانے 1947؁ کے فسادات کے پس منظر میں لکھے گئے۔ انہوں نے فسادات میں ہونے والی اُن المناک داستانوں کو بیان کیا ہے جو ابھی بھی ایک ممنوعہ موضوع ہیں۔

سعادت حسن منٹو کا افسانہ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ بظاہر ہندوستان اور پاکستان کے پاگل خانوں کے تبادلے کی کہانی ہے مگر دراصل کہانی میں منٹو نے تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی ہجرت اور دونوں ملکوں کی مضحکہ خیز پالیسوں کو قلم بند کیا ہے۔ انہوں نے اس کہانی میں انسان کی اپنی مٹی سے محبت کی شدت کو بھی بیان کیا ہے۔ وہ محبت جو سیاست اور مذہب کی لگائی دیواروں اور باڑوں کو ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار کا اصل نام بشن سنگھ ہے مگر وہ اپنے علاقے سے بے پناہ محبت کی وجہ سے وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ بن جاتا ہے۔ وہ اس ملک میں جہاں اُسکا وطن’’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘ نہیں تھا، جانے کی بجائے موت کو گلے لگا لیتا ہے۔

سعادت حسن منٹو ایک ایسا نام ہے جس کے بغیر اردو افسانے کی صنف مکمل نہیں سمجھی جاتی۔ اُ ن کے افسانوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اُنہیں اپنی زندگی میں کچھ افسانوں کی وجہ سے مقدموں کی پیشیاں بھگتنا پڑیں۔ انہوں نے اپنے کچھ افسانوں پر لگے فحاشی کے الزام کے خلاف نہایت موثر مضامین لکھے ہیں جو کہ اپنے طور پر اردو ادب کا شاہکار ہیں۔ انہیں اس بات کا خوف تھا کہ کہیں اُنہیں جیل نہ ہو جائے۔ لکھتے ہیں کہ ’’ڈرپوک آدمی ہوں، جیل سے بہت ڈر لگتا ہے۔ یہ زندگی جو بسر کر رہا ہوں جیل سے کم تکلیف دہ نہیں۔ اگر اس جیل کے اندر ایک اور جیل پیدا ہو جائے اور مجھے اس میں ٹھونس دیا جائے تو چٹکیوں میں دم گھٹ جائے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو نے تقسم کے بعد 1948ئی میں بمبئی سے پاکستان میں آنے کا فیصلہ کیا۔ مگر تقسیم سے ہونے والی تبدیلیوں کو ذہنی طور پر تسلیم نہ کر پائے۔ اپنے افسانے ’’ٹھنڈا گوشت ‘‘ کے مقدمے کی تفصیل۔ ’’زحمت مہر درخشاں ‘‘ میں لکھتے ہیں، ’’کوشش کے باوجود ہندوستان کو پاکستان سے اور پاکستان کو ہندوستان سے علیحدہ نہ کر سکا۔ بار بار دماغ میں یہ الجھن پیدا کرنے والا سوال گونجتا، کیا پاکستان کا ادب علیحدہ ہوگا۔ ۔ اگر ہوگا تو کیسے ہوگا۔ وہ سب کچھ جو سالم ہندوستان میں لکھا گیا تھا، اُس کا مالک کون ہے۔ کیا اُس کو بھی تقسیم کیا جائے گا۔ کیا ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے مسائل ایک جیسے نہیں۔ کیا اُدھر اردو بالکل ناپید ہو جائے گی۔ کیا ہماری سٹیٹ مذہبی سٹیٹ ہے۔ سٹیٹ کے تو ہم ہر حالت میں وفادار رہیں گے، مگر کیا ہمیں حکومت پر نکتہ چینی کی اجازت ہو گی۔ ‘‘

منٹو نے ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی انسانی حیوانیت اور بربریت کے اُن مناظر کو اپنے افسانوں میں قلمبند کیا جو قتل وغارت اور عورتوں پر جنسی تشدد کی صورت میں فسادات کے دوران نظر آئے۔ پھر تقسیم کے بعد معاشرے میں جو افراتفری اور انتشار پھیلا۔ اس کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ’’میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ جو اتنا زبردست بھونچال آیا ہے۔ شاید اس کے کچھ جھٹکے آتش فشاں پہاڑ میں اٹکے ہوئے ہیں۔ باہر نکل آئیں تو نوک پلک درست ہوگی۔ پھر صحیح طور پر معلوم ہو سکے گا کہ صورتِ حالات کیا ہے۔ ‘‘

افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘تقسیم کے دو، تین سال بعد کے پس منظر میں لکھا گیا۔ اس افسانے میں تقسیم کے بعد دونوں حکومتوں کے لغو پالیسیوں کے نتیجے میں ہونے والے انسانی المیہ کو بیان کیا گیا ہے۔ منٹو کی ذہنی کیفیت جو اُنہوں نے بیان کی ہے کہ آیا اُنہیں حکومت پر نکتہ چینی کی اجازت ہوگی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی سٹیٹ کو اپنی وفاداری کی یقین دہانی دلانے کے باوجود اُس پر کھل کر نکتہ چینی کرنے سے خائف تھے۔ اپنے افسانے ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘میں انہوں نے پاگلوں کے زبان سے وہ کہلوایا جو ایک صحیح الدماغ شخص کہنے کی جرات نہ کرسکتا تھا۔ اُن کے افسانے کے پاگل خانے دراصل دونوں ملکوں کا استعارہ ہیں اور اُن میں رہنے والے پاگل دونوں ملکوں کے عوام ہیں جنہیں ہجرت کے آلام و مصائب سے گزرنا پڑا۔

منٹو اپنے اس افسانے’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘کے شروع میں لکھتے ہیں، بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہیے۔ یعنی وہ مسلمان پاگل جو ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں اُنہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اورجو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے۔ ۔ ‘‘ پھر لکھتے ہیں ’’پاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی، اس لیے اُن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اُنہیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جا رہا ہے۔ بشن سنگھ بھی اُن پاگلوں میں سے ایک تھا۔ بشن سنگھ کے بارے میں منٹو لکھتے ہیں کہ وہ پندرہ سال سے پاگل خانے میں تھا، ’’ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سویا۔ لیٹا بھی نہیں تھا، البتہ کبھی کبھی کسی دیوار سے ٹیک لگا لیتا تھا۔ ہر وقت کھڑا رہنے سے اس کے پائوں سوج گئے تھے۔ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں۔ مگر اس جسمانی تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ‘‘

بشن سنگھ کو جب معلوم ہوا کہ اُس کو ہندوستان کے پاگل خانے میں بھیجا جا رہا ہے اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کر دیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ جہاں کا وہ رہنے والا ہے اور جہاں اس کی زمینیں ہیں اب کس ملک کا حصہ ہے، اس بات کا اُسے کسی نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ منٹو لکھتے ہیں کہ ’’پاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں تو اس نے حسب عادت قہقہہ لگایا اور کہا وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں۔ اس لیے ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا۔ بشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ بڑی منت وسماجت سے کہا کہ وہ حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو، مگر وہ بہت مصروف تھا اس لیے اسے بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن تنگ آکر وہ اس پر برس پڑا، اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی مُنگ دی دال آف وا ہے گورو جی دا خالصہ اینڈ وا ہے گورو جی کی فتح۔ جو بولے سو نہال، ست سری اکال۔

اس کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو۔ سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے‘‘۔ منٹو نے اپنے افسانے میں بشن سنگھ کی زبانی یہ جملہ کچھ لفظوں کی تبدیلی کے ساتھ بار بار دہرایا ہے۔ مگر صرف ایک جگہ ہی اس کا مطلب واضح کیا۔ یوں لگتا ہے کہ باقی جگہوں پر وہ اس کے معنی قارئین کے تصور پر چھوڑدیتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ پاگل بشن سنگھ کے بظاہر بے مقصد اور بے ربط جملوں کے اصل ترجمے سے خائف ہیں کہ کہیں اُنہیں سٹیٹ کے خلاف مقدمے میں نہ دھر لیا جائے۔

افسانے کے آخر میں پاگلوں کو سرحد پار بھیجا جانے لگا۔ اُس کی تفصیل منٹو بیان کرتے ہیں، جب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلقہ افسر کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا، ٹوبہ ٹیک سنگھ کہا ں ہے۔ پاکستان میں یا ہندوستان میں۔ متعلقہ افسر ہنسا، پاکستان میں، یہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ پاکستان کے سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے، مگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ انیکس دی بے دھیانادی مُنگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان۔ اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان چلا گیا۔ اگر نہیں تو اسے فوراًوہاں بھیج دیا جائے گا مگر وہ نہ مانا۔ جب اُس کو زبردستی دوسری طرف لے جایا جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی۔ آدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لیے اس سے مزید زبردستی نہیں کی گئی۔ اُس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام ہوتا رہا۔ سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ اِدھر اُدھر سے کئی افسر دوڑ ے آئے اور دیکھا وہ آدمی جو پندرہ سال سے اپنی ٹانگوں پر کھڑا تھا، اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان ہے۔ ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں، ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا ہے۔ ‘‘ بشن سنگھ کا دل اپنے وطن کی جدائی برداشت نہ کر سکا اور اُس نے دھڑکنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت بشن سنگھ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک ہو گئے۔

سعادت حسن منٹو نے 1948 میں جو سوالات اٹھائے کہ ’’کیا ہندوستان اور پاکستانیوں کے بنیادی مسائل ایک جیسے نہیں؟ کیا پاکستان کا ادب علیحدہ ہوگا؟ اگر ہوگا تو کیسے ہوگا۔ وہ سب کچھ سالم ہندوستان میں لکھا گیا۔ اُس کا مالک کون ہے؟ ۔ کیا اُس کو تقسیم کیا جائے گا؟ ‘‘ان سوالات کے جوابات سے ہم اب تک محروم ہیں۔ بدقسمتی سے اگر کسی نے ان سوالات کو پوچھنے کی جرات بھی کی تو اسے سٹیٹ کے وجود کا مخالف سمجھ لیا گیا اور غدار قرار پایا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ 70سال پہلے جو بھونچال آیا تھا اُسکے جھٹکے ابھی بھی آتش فشاں پہاڑ میں اٹکے ہوئے ہیں اور ’’فضاکی نوک پلک‘‘ ابھی درست نہیں ہوئی۔ ابھی بھی ہمیں صحیح صورت ِ حال معلوم نہیں ہوئی۔ اس صورتِ حال کا صحیح طور پر معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس لیے زندہ قومیں اپنے ماضی کو کلُی طور پر سمجھ کر، اُس کی کامیابیوں اور غلطیوں کو اپناتے ہوئے مستقبل کی طرف قدم بڑھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان بننے کا مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم ہندوستان کے ساتھ مخلص دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھا سکتے اور اُس دشمنی کو ختم نہیں کر سکتے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے وسائل اپنے عوام کی بہبود کی بجائے ایک دوسرے کی تباہی کے سامان پر خرچ ہو رہے ہیں۔ اُس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام کی ابتلا ابھی بھی جاری ہے حالانکہ ’’پاگلوں کی اکثریت ‘‘اس دشمنی کے حق میں نہیں ہے۔

مندرجہ بالا مضمون سعادت حسن منٹو کی سو سالہ سا لگرہ کے جشن کے موقعے پر 2012 میں واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی ایک تقریب میں پڑھا گیا۔

نواز شریف کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے سےانتہائی مایوسی ہوئی۔ ہم نے 70سال میں کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ایک مرتبہ پھر عوامی مینڈیٹ کو پامال کیا گیا ہے۔ اب اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنا کسی سویلین پرائم منسٹر کے لئے ممکن نہیں ہو گا خصوصاً فارن پالیسی کے معاملے میں۔ اب اسٹیبلشمنٹ آزادانہ طور پر علاقائی تنازعات کو اپنی مرضی کے مطابق چلائے گی۔ بدقسمتی سے اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان مڈل ایسٹ میں نیوٹرل نہیں ہوگا اور ایران کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ بھارت، افغانستان کے ساتھ پہلے ہی خراب ہیں۔ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک اور تاریک دن ہے۔ فیض احمد فیض کی یہ نظم اس دن کو ہمارے لیے یوں بیان کرتی ہے۔

نثار میں تیری گلیوں کے۔
نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم وجاں کو بچا کے چلے
ہے اہل ِ دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ وخشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بنے ہیں اہل ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔