میں بوسیدہ دیواریں پینٹ کرنا چاہتا ہوں


وسیم چھلاوے نے کہا تھا کہ ’ یہ جو پینٹنگ ہے یہ کینوس پر نہیں بنی۔ یہ میری چھوٹی بہن کے اسکول کی چادرہے۔ اس نے اس سال میٹرک کیا تو ابا نے اسکول سے اٹھا دیا۔ اس نے اپنے اسکول کی چادر کو کلف لگا کر میرے لئے کینوس کے کپڑے میں بدل دیا۔ یہ درخت نہیں ہیں، یہ میرے درد ہیں جو میں اپنے بہن کی چادر پر اتار دیے ہیں۔ جانے تم نے ’’ رافٹ آف میڈوسا‘‘ دیکھی ہے یا نہیں۔ ژان لوئی کے رافٹ آف میڈوساکے عرشے پر ننگ دھڑنگ لاشیں پڑی ہیں۔ میری بہن کی چادر پر ننگ دھڑنگ درد پڑے ہیں‘۔

وسیم ایک آرٹسٹ تھا جو بالاخر معاشی مجبوریوں کے ہاتھوں رنگ ساز بن گیا۔ اسے آسمان پینٹ کرنا تھا۔ چار برس ادھر جب اس نے مجھے آخری خط بھیجا تھا تو لکھا تھا ’ ابا نہیں رہے مگر دنیا ویسی ہی ہے۔ مجھے اب بھی پکاسو کی the weaping woman میں خوبصورتی نظر نہیں آتی۔ اپنے دردوں کے ساتھ زندہ ہوں۔ اب پینٹ نہیں کرتا صرف رنگ کرتا ہوں۔ افسوس صرف اس بات کا ہے کہ میں اپنا آسمان پینٹ نہیں کر سکا‘۔

1965ء کی جنگ کے دوران انتظار حسین شاکر علی سے ملے۔ پوچھا کہ دفاع وطن کے لئے آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا، ’میں چاند پینٹ کر رہا ہوں‘۔ انتظار حسین نے کہا کہ جنگ کے دوران چاند پینٹ کرنا یعنی چہ؟ شاکر علی نے کہا، ’چاند پاکستان میں بھی چمکتا ہے اور ہندوستان میں بھی‘۔ یہ واقعہ مرشدی وجاہت مسعود نے نقل کیا تھا اور عنوان باندھا تھا ’ میں چاند پینٹ کرنا چاہتا ہوں‘۔ اختتامی جملوں میں لکھا تھا کہ ’ بھائی، میں ایک معمولی صحافی ہوں اور اپنے قلم سے چاند پینٹ کرنا چاہتا ہوں جو راوی پر بھی چمکے اور پشین کے پہاڑوں پر بھی۔ جس کی کرنیں عمر کوٹ کے گھروں پر بھی روشنی بکھیریں اور بالا حصار کی گھاٹیوں میں بھی راستے روشن ہوں‘۔

اس پر ہر دل عزیز دوست عابد میر نے عنوان باندھا کہ ’ میں خاموشی پینٹ کرنا چاہتا ہوں‘۔ کیسا دل گرفتہ بیان تھا۔ لکھتے ہیں، ’ہم جو بولنا چاہتے ہیں، بول نہیں سکتے۔ جو کہنا چاہتے ہیں، کہہ نہیں سکتے۔ جو لکھنا چاہتے ہیں لکھ نہیں سکتے۔ ایک ایسے ملک سے آپ ضرور پیار کیجیے، اور چاند پینٹ کرنے کی کوشش کیجیے، مگر ہم تو ایسے میں محض زندہ رہنے کی سعی میں چپ کی چادر تان لینے پر کتفا کرتے ہیں۔ میری دھرتی کے معصوم بچے، میرے دل دار ساتھی، میرے پیارے میرے عزیز مزید کسی درندگی کا شکار نہ ہوں، اس لیے میں تو خاموشی پینٹ کرنا چاہتا ہوں۔ بدھا جیسی پْروقار اور متانت بھری خاموشی، جس کے بطن سے ایک متانت بھری نسل کے جنم لینے کی امید کے ساتھ میں اس کی مسلسل تخلیق میں منہمک رہنا چاہتا ہوں۔ خاموش ہونا چاہتاہوں، اور آپ سے بھی اسی پْروقارخاموشی کے ساتھ، میری بامعنی خاموشی کو سمجھنے کی خواہش رکھتا ہوں‘۔

یہی المیہ کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا ہے۔ باپ اس خوف سے بیٹے کو کسی شہر نہیں بھیج سکتا کہ کہیں کسی درندگی کا شکار نہ ہو جائے۔ بیٹا گھر سے باہر نکلتا ہے تو ماں قمیض کے اندر اس کے بازو پر امام ضامن باندھ دیتی ہے کہ شاید زندہ گھر لوٹ آئے۔ المیہ دیکھییے کہ امام ضامن قمیض کے اوپر بھی نہیں باندھ سکتی کہ اس سے بیٹے کا عقیدہ ظاہر ہو جائے گا اور کسی نامعلوم گولی کا نشانہ بن جائے گا۔ آپ کو جانے یاد ہو یا نہ ہو مگر مجھے فروری کی وہ یخ بستہ راتیں یاد ہیں جب ہزارہ برادری کے معصوم بچے رات کو منفی درجہ حرارت میں اپنے بھائیوں باپوں کے جنازوں کے ساتھ حسرت و یاس بھری آنکھوں سے کھڑے رو رہے تھے۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ ان کے بھائیوں کو کس جرم میں مارا گیا تھا۔

دن تو مجھے جنوری 2014 کا بھی یاد ہے جب زائرین کے بس پر خود کش حملہ کیا گیا اور ستر سے زائد انسان جان کی بازی ہار گئے تھے۔ 2001 کے پودگلی چوک حملے سے لے فروری 2013 ہزارہ ٹاؤن حملے تک اور جون 2017 میں ایک خاتون اور مرد کو سر عام دن، دیہاڑے سڑک پر گولی مارنے تک، ہزاروں لاشوں بکھری پڑی ہیں جنہیں اپنا جرم معلوم نہیں۔

کوئٹہ کی ہزارہ برادری خوف کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک بچی سمیہ چنگیزی نے امید کے چند چراغ جلانے کی کوشش کی ہے۔ سمیہ چنگیزی اقبال عظیم کے اس شعر کی تشریح بن کر سامنے آئی ہے ’ قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں۔ اس کو خبر نہیں کہ لہو کی بولتا بھی ہے‘۔ سمیہ نے مگر لہو کی جگہ رنگ کا انتخاب کیا ہے۔ سفید رنگ جو امن کی علامت ہے۔ سمیہ کو کسی سے بدلہ نہیں لینا اسے بھی بس سفید رنگ سے ٹوٹی پھوٹی دیواریں پینٹ کرنی ہیں تاکہ خوفزدہ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے دلوں میں زندہ رہنے کی کوئی امنگ جاگ سکے۔

سمیہ چنگیزی نے مری آباد میں بنجر پہاڑ سے متصل مری آباد کے کچے در و دیوار کو سفید رنگ سے رنگنے کا آغاز کیا ہے۔ سمیہ نے اپنے اس کام کو ’’ Paint it Peace‘‘ کا نا م دیا ہے۔ چند نوجوانوں، بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ مل کر سمیہ امن کی تصویر پینٹ کرنا چاہتی ہے۔ اسے امید ہے کہ جس پہاڑ کے دامن میں وہ کچی دیواروں پر امن کا سفید رنگ چھڑکنے کی کوشش کر رہی ہے ایک دن اسی پہاڑ کی اوٹ سے امن کا سورج طلوع ہو گا۔

حسن معراج نے ٹینکر دھماکے کا ایک واقعہ لکھا تھا ’ ایک جلی ہوئی موٹر سائکل کے ساتھ سات آٹھ سال کا بچہ انتہائی انہماک سے کچھ کھرچ رہا تھا۔ اپنے ایک ہاتھ میں موجود پتھر سے وہ موٹر سایکل کے مختلف حصوں کی کھرچن، دوسرے ہاتھ میں موجود سبز رنگ کے مومی لفافے میں ڈالتا جا رہا تھا۔ میں نے بچے سے پوچھا کہ اس شاپر میں کیا ہے۔ کہنے لگا، میرا بھائی ہے‘۔ سمیہ چنگیزی اس آس پر دیووروں پر سفید رنگ بکھیر رہی ہے کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب کسی مومی لفافے میں بچہ کا بھائی نہیں اس کی کتابیں ہوں گی۔

ہم آدھے ادھورے لوگوں کے ہاتھ میں قلم ہے۔ ہم لوگ یا چاند پینٹ کر سکتے ہیں۔ ہم یا خاموشی پینٹ کر سکتے ہیں یا پھر ٹوٹی پھوٹی دیواریں پینٹ کر سکتے ہیں۔ حسن معراج واپس پلٹے گا تو اسے ساتھ لے کر بنجر پہاڑ کے دامن میں ان بوڑھوں، بچوں اور نوجوانوں کے سنگ ان بوسیدہ دیواروں کو تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی مگر پینٹ ضرور کریں گے۔ سمیہ چنگیزی! تم یہ برش تھامے رکھنا۔ یہ سفید رنگ اور کچی دیوار یں نہیں ہیں۔ یہ برلن کی خود آلود سڑکوں پر یاہودی منوہن کے وائلن کے سر ہیں۔ یہ گٹار گلے میں لٹکائے کیلیفورنیا کی سڑکوں پر کھڑے باب ڈلن کا ‘ وقت بدلے گا‘ کے بول ہیں۔ یہ جان لیوئس کی وہ چیخ ہے جو اس نے گھڑسوار فوجیوں کو دی کہ گھوڑے دو۔ یہ رنگ زندگی کی امید ہے۔ زندگی امید پر ہی بسر کی جاتی ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 148 posts and counting.See all posts by zafarullah