ممتاز شاعر احمد مشتاق سے ایک ملاقات


اس معرکے میں عشق بیچارہ کرے گا کیا
خود حسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے
یہ جو بھی ہو بہار نہیں ہےجناب من
کس وہم میں ہیں دیکھنے والے پڑے ہوئے

کئی برس قبل استاد محترم سے یہ اشعار سنے جو سادہ الفاظ میں گہرے مفہوم کے حامل تھے۔ بالیدگئی خیال متاثرکن تھی۔ دریافت کرنےپر معلوم ہوا کہ شاعر کا نام احمد مشتاق ہےاور موصوف کئی دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ تصنیف حیدر نے لکھا تھا کہ ایسی شاعری اردو میں کرنے والے شاید ہی کچھ لوگ ہوں گے جن کو خیال کے ساتھ اتنی ہی سادہ اور خوبصورت زبان بھی ملی ہو۔ ناصر کاظمی، انتظار حسین، مظفر علی سید جیسے نابغوں کے ہم عصر اور ہم راہی رہے ہیں۔ ایک مشہور ادیب نے لکھا تھا کہ اچھا ادب پڑھنے کے بعد ادیب سے ملاقات کی خواہش ایسے ہے جیسے اچھا سیخ کباب کھانے کے بعد بکرے میاں سے ملنے کی خواہش۔ گزشتہ ماہ لاہور میں برادرم محمود الحسن سے ملاقات کے دوران اتفاقی طور پر معلوم ہوا کہ مشتاق صاحب گزشتہ کئی سال سے ہیوسٹن میں قیام پذیر ہیں اور ان سےاکثر بات چیت رہتی ہے۔

خوش قسمتی سےہم اس انکشاف سے قبل کچھ وقت اس شہر میں گزار چکے تھے، اور مستقبل قریب میں وہاں جانے کا ارادہ تھا۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے مشتاق صاحب سے فون پر غائبانہ تعارف بھی کروا دیا۔ بھائی محمود نے زاد راہ کے طور پر کچھ کتب حوالے کر دیں کہ مشتاق صاحب تک پہنچا دی جائیں۔ نیو یارک پہنچ کر جھجکتے جھجکتے انہیں فون کیا تو انہوں نے کمال شفقت سے اپنے گھر کا پتہ اور ملنے کا وقت بتلا دیا۔ ہیوسٹن پہنچ کر پہلی فرصت میں ان سے رابطہ کیا، گھر کا پتہ دوبارہ پوچھا اور متعلقہ بس پر سوار ہو گئے۔

 ان کا مستقر شہر کے وسطی حصے(جہاں ہمارا قیام تھا) سے لگ بھگ پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ لاہور میں استاد محترم بھی شہر سے اتنا ہی دور رہتے ہیں اور ایک دفعہ ان کی طرف جاتے ہوئے اجمل کمال پوچھ بیٹھے تھے: کیا فیصل آباد آ گیا ہے؟ ہم بس پر سوار ہوئے تو چلچلاتی دھوپ کا سماں تھا البتہ ان کے گھر کے نزدیک پہنچے تو طوفانی بارش کا سامنا تھا۔ ہیوسٹن چونکہ میدانی علاقہ ہے لہٰذا یہاں سیلاب بھی آ جاتا ہے اور اس دن سڑکوں پر کھڑا پانی لاہور کے نشیبی علاقوں کی یاد دلا رہا تھا۔ ان کے ٹھکانے پرپہنچے تو وہ گیراج کے دروازے پر کھڑے تھے۔ اپنا تعارف کروایا اور ان کے ہمراہ گھر میں داخل ہوئے۔

اسی بارے میں: ۔  بہادر شاہ ظفر کی قبر کس حال میں ہے؟

ان کی اہلیہ نے سلام دعا کے بعد سر اور کپڑے خشک کرنےکا کچھ بندوبست کیا کیونکہ بارش نے ہمیں شرابور کر دیا تھا۔ جتنا وقت ان کے ہاں گزارا، ہماری خاطر تواضع چلتی رہی۔ وہ سترہ برس پہلے پاکستان گئے تھے اور کرشن نگر میں اپنا سابقہ گھر تلاش نہ کر سکے تھے۔ جس رفتار سے لاہور شہر بدل رہا ہے، قیاس ہے کہ کچھ سال بعد وہاں لاہور ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گا۔ گفتگو شروع ہوئی تو ان کی امریکہ آمد کا ذکر ہوا۔ لگ بھگ بیس برس انہوں نے نیویارک میں گزارے، پھر کچھ وقت فلوریڈا اور گزشتہ دس برس سے ہیوسٹن میں مقیم ہیں۔

حافظہ انہوں نے بلا کا پایا ہے اور دہائیوں پرانے واقعات یوں سناتے ہیں گویا کل ہی کی بات ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کے متوالے ہیں۔ پاکستان کی ادبی اور سیاسی تاریخ کے بیشتر کرداروں پر ان سے بات ہوئی اور وہ سب لکھنے کا حوصلہ نہیں پڑتا کیونکہ اس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام (اور کام) آتے ہیں۔ ہماری وہاں موجودگی کے دوران (طوفانی بارش کی وجہ سے) بجلی چلی گئی اور ہم لوگ اس کے بعد شمع کی روشنی میں بیٹھے رہے (جس پر ہمیں ان کا ایک شعر یاد آیا: اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی؛ باہم خزاں کا دور تھا اندر اندھیری رات تھی)۔ ان سے ان کی شاعری کے متعلق پوچھنے کی کوشش کی تو کمال مہارت سے کنی کترا گئے۔

ادبی تنظیموں (جیسے حلقہ ارباب ذوق، انجمن ترقی پسند مصنفین) کے متعلق ان کی رائے تھی کہ ہر ادارے کی ایک منطقی عمر ہوتی ہے، اس کے بعد اسے دھکا لگا کر سٹارٹ نہیں کیا جا سکتا۔ کالم نویسی ان کی رائے میں ایک موروثی پیشہ بنتی جا رہی ہے۔ کئی برس قبل ان کا ایک شعر سنا تھا لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ شاعر کون ہے:

اسی بارے میں: ۔  مشہور سندھی گیت ’ہو جمالو‘ کا خالق ایک لاوارث پل ہے

میں نے کہا کہ دیکھو یہ میں، یہ ہوا، یہ رات
اس نے کہا کہ میری پڑھائی کا وقت ہے

ان کو بتایا کہ ماضی قریب میں یہ صورت حال خاکسار پر گزری تو یہ شعر بہت یاد آیا۔ پوچھنے لگے کہ بھئی آپ کیا لکھتے ہیں، اور ہم اپنی بے مائیگی چھپاتے چھپاتے موضوع بدل گئے، بتایا کہ کچھ عرصے سے سفرنامہ لکھنے کی مشق جاری ہے۔

 کتابوں کے رسیا ہیں اور ایک وسیع ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ ہم نے مظفر علی سید کی کتاب، یادوں کی سرگم، کی تلاش میں آدھا لاہور چھان مارا لیکن ہر بار ناکامی ہمارا مقدر ٹھہری۔ مشتاق صاحب کےپاس وہ کتاب تھی اور انہوں نے ہمیں مستعار دے دی۔ شام کا وقت ہوا چاہتا تھا، وہ چاہ رہے تھے کہ میں کھانا کھا کر جاوں لیکن بجلی کی عدم موجودگی کے باعث اسے گرم کرنا ممکن نہ تھا (اور میزبان شرمندہ ہوئے جاتے تھے) لہٰذا میں نے ان سے رخصت کی اجازت مانگی اور اپنے ٹھکانے کی طرف چل دیا۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 28 posts and counting.See all posts by abdulmajeed