خدیجہ کو انصاف مبارک ہو، لیکن میں خوش نہیں


خدیجہ کے مجرم کو تو سزا مل گئی لیکن میں خوش ہونے کے باوجود خوش نہیں ہوں۔ اس لئے کہ پاکستان میں آج بھی خدیجہ جیسی سینکڑوں لڑکیاں موجود ہیں جو انصاف کے لئے دربدرہیں۔ خنجروں کے وار سہہ کر، موت کے منہ سے واپس آنے اورچودہ مہینے تک کانٹوں پر لوٹنے والی خدیجہ کو انصاف مبارک، لیکن میں خوش نہیں ہوں۔ اس لئے کہ ملک کے طول وعرض میں آج بھی خدیجہ جیسی سینکڑوں خواتین موجود ہیں جو خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔ خدیجہ کے والدین اور کڑے وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو سلام لیکن میں خوش اس لئے نہیں ہوں کہ آج بھی سینکڑوں ایسے والدین موجود ہیں جو اپنے جگر کے ٹکڑوں، اپنی بیٹیوں کے لئے انصاف مانگنے تک کے قابل نہیں ہیں۔

ایک ایسا معاشرہ جس میں تھانے کچہری کا نام سن کر ہی بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہوجائے، جہاں گھر سے نکلنے والی ہر لڑکی کو گلی میں گھومتے اور سڑک کنارے کھڑے مرد اپنی نظروں کے تیروں سے گھائل کرنے پر تلے ہوں۔ جہاں تعلیم کے حصول کی خواہش اس لئے دبا دی جاتی ہے کہ گھر سے نکلنے والی لڑکیوں کو محفوظ خیال نہیں کیاجاتا اور جہاں روزگار کے حصول اور معاشرے کی ترقی کے لئے کام کرنے والی خواتین کو دفتروں میں طرح طرح کی مشکلات درپیش ہیں ایسے میں کوئی ذی ہوش خوش کیسے رہ سکتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اس طرح کے واقعات میں معصوم اوربے قصور ہونے کے باوجود لڑکیوں کی آنے والی خانگی زندگی میں زہر گھل جاتا ہے اور کوئی مرد ان سے رشتہ جوڑنے کو بھی تیار نہیں ہوتا ایسے معاشرے میں ایک خاتون کا انصاف اور اپنے حق کے لئے ڈٹ جانا معمولی بات نہیں۔ شاید قدرت نے خدیجہ کو زندگی اسی لئے دی تھی کہ وہ دوسروں کے لئے ایک مثال بن جائے، ان درندہ صفت مردوں کے لئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ زور زبردستی سے کسی خاتون کے ساتھ تعلق رکھنا ہی مردانگی ہے۔

اس معاشرے میں ایک نہتی لڑکی چودہ ماہ تک االلہ کے سہارے انصاف کے لئے ڈٹی رہے تو یہ بہت ہی قابل تعریف ہے لیکن میں خوش نہیں ہوں کیونکہ ہم آج بھی اس طرح کے ظلم اور زیادتی کا شکار ہونے والی بچیوں اور خواتین کا نام ع، ش کے پردے میں لیتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ بدنام نہ ہو جائیں۔ بدنامی؟ جی ہاں میرے ملک میں ظلم کا شکار ہونے والا بدنام ہو اور ظالم اکڑ کر چلے تو میں خوش کیسے ہوسکتا ہوں۔ ہم آئے دن کفارِ مغرب کو مطعون کرتے ہیں کہ وہاں لڑکے لڑکیوں کو ماد ر پدر آزادی ہے لیکن یقین جانئے اس معاملے میں وہ ہم سے بڑے مسلمان ہیں اس لئے کہ وہاں کوئی طرم خان کسی خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر چھو بھی نہیں سکتا۔ تعلیم کے لئے ان کا گھر سے باہر نکلنا معمولی بات ہے۔ دفاتر اور دکانوں میں کسی خاتون کو یہ فکر لاحق نہیں کہ اس کی عزت محفوظ نہیں۔ گھر کے اندر ہو ں یا باہر، سکول کالج ہو یا دفتر، گلی محلہ ہو یابس اور ٹرین کا سفر، اکیلی ہو یا کسی کے ساتھ، دن ہو یا رات، ریاست کا دبدبہ اس قدر ہے کہ کوئی مجرم بچ نہیں سکتا اسی لئے جبری زیادتی کے واقعات یورپ کے کافروں کے ہاں ہمارے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستان کی بن بیاہی مائیں اور ناجائز بچے کچھ کہتے ہیں -2

دوہفتے گزر چکے، ملتان کے نواحی علاقے راجہ پورمیں زیادتی کے ایک واقعے کے بعد بے غیرتوں کے ایک گروہ نے پنچایت (جو کسی دور میں مفت اور فوری انصاف کی علامت تھی )کے نام پر ایک ایسا فیصلہ کیا جو انسانیت کے چہرے پرایک بدنما داغ بن گیا۔ سولہ جولائی کوجب ایک کم عمر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیاتو ڈنڈے کے زور پر بڑے بڑوں کے منہ کھلوانے والی پنجاب پولیس اس واقعے سے ہی بے خبر رہی۔ دو دن بعد زیادتی کا شکار بننے والی لڑکی کے باپ نے زیادتی کرنے والے لڑکے کی بہن کو اپنے بیٹے کے حوالے کردیا۔ ایسی ایسی شرمناک تفصیلات مجھ تک پہنچی ہیں کہ لکھنے سے قاصر ہوں، لرزا دینے والی تفصیلات کہ خود سنتے ہوئے میں اذیت کا شکار رہا۔ اس قدر اذیت کہ خواہش کے باوجود اس موضوع پر لکھنے کے قابل نہ ہوسکا۔ پولیس لیکن سوتی رہی تا آنکہ اخبارات اور ٹی وی چینلز نے طوفان بپا کردیا۔

برادر محترم وجاہت مسعود سے گفتگو میں یہ موضوع چھڑا تو کہنے لگے اس موضوع پر ضرور لکھو، حضور والا!اس معاشرے کا حال کیا لکھوں جہاں مرد کا کیا بھی عورت کو بھوگنا پڑتا ہے؟ ایک واقعہ ہوا جبری زیادتی کے ظلم کا شکارعورت، اس کا بدلہ دے تو بھی عورت، کبھی کبھی تو مرد ہونے پر شرم آتی ہے۔ ہائے یہ معاشرہ! جہاں االلہ کے رسول ﷺ کے نام پر جان دینے اور لینے والے جابجا پھرتے ہیں لیکن ان کے کردا ر کو اپنانے والے خال خال۔ وہ ہستی جس نے یتیموں کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کرنے کی تلقین کی۔ ہائے افسوس کہ ایک یتیم بچی کے ساتھ ظلم کرنے والا کوئی اور نہیں اس کا اپنا ہی خاندان تھا۔ اس کو زیادتی کے لئے اپنے بیٹے کو پیش کرنے والا اس کے باپ کی جگہ تھا اور نام ہے امین! جی ہاں دیکھا آپ نے اس نے امانت کی حفاظت کیسے کی؟ اپنی ہی رشتہ دار بچی کوجبری زیادتی کا نشانہ بنانے والے کا نام بھی خوب ہے، حق نواز!مر د حق نے خوب حق نوازی کی۔ ۔

معاملہ اس وقت کھلا جب لڑکی کی ماں داد رسی کے لئے تھانے گئی۔ تھانے کے بادشاہ ایس ایچ اور نے دکھیاری ماں کو شام تک تھانے میں بٹھائے رکھا، شام کو ایس پی کے حکم پر انہیں خواتین کے داد رسی کے لئے بنائے گئے سنٹر میں بھیج دیا۔ داد رسی سنٹر میں بچی کا میڈیکل ہوا اور مقدمہ درج کیا گیا۔ تحقیقات ہوئیں تو شرمناک تفصیلات سامنے آنے لگیں۔ ملک بھر کے چینلز پر ماتم بپاتھا لیکن صوبے کی پولیس کے سربراہ کو صرف رپورٹ درکار تھی۔ حضور والا، رپورٹ تو صوبے کی ہر دیوار پر لکھی ہے، پڑھنا سیکھئے اور اس سے بھی زیادہ اپنے فرائض پر عملداری کا سبق ضروری ہے۔ غنیمت ہوئی صوبے کا حکمران بچیوں کی دادرسی کے لئے پہنچا، انصاف کا وعدہ کیا اور بہتر گھنٹے میں رپورٹ طلب۔

رپورٹ پیش خدمت! لیکن پولیس کے شیر ابھی تک مرکزی ملزم کو تلاش نہیں کرپائے۔ ملک کے سب سے بڑ ے منصف نے وقت نکالا تو بھی رپورٹ طلب، رپورٹ پیش خدمت! لیکن اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پہلے واقعے میں زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کی میڈیکل رپورٹ مشکو ک ہوچکی اور حیران کن امر یہ ہے کہ رپورٹ تیار کرنے والی ڈاکٹر بھی چھٹی پر جا چکی، دیکھتے ہیں پولیس اپنے وعدے کے مطابق سات دن میں چالان پیش کرتی ہے یا نہیں۔ اب بتائیے میں کیسے خوش رہوں؟ لیکن مجھے یقین ہے کہ میرے خوش نہ ہونے پر خدیجہ ناراض نہیں ہوگی کیونکہ کل ہی کبیروالا سے خبرآئی ہے کہ پندرہ سال کی ایک بچی کو جبری زیادتی میں مزاحمت کی قیمت چکانے کے لئے اپنی ٹانگ سے محروم ہونا پڑا۔ ایک اور سن لیجیے لودھراں میں ایک شادی شدہ خاتون کو سسرال نے تیزاب پلاکر مارڈالا۔ تو جناب ان حالات میں آپ ہی بتائیے کہ کیسے خوش رہا جائے؟ کیا یہ انسانی معاشرہ ہے؟ قانون اپنی راہ کیوں نہیں اپناتا؟ پولیس کیوں اپنے فرائض سے غافل ہے؟

اسی بارے میں: ۔  بانو قدسیہ ... اشرف المخلوقات

نواز شریف کی چوری کا فیصلہ چھ مہینے میں سنانے اور عدالتی کارروائی کی کڑی نگرانی کرنے کا حکم دینے والے منصف کہاں ہیں؟ کیاقوم کی بیٹیوں کی سلامتی کا فرض پولیس کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے بھی فرائض میں شامل نہیں؟ دو چاریا دس بیس مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے تو کیوں نہ لوگ اس گھناؤنے فعل سے بازآجائیں؟ لیکن ایسا کرے گا کون؟ ہمیں ہی کرنا ہوگا، اسی قوم کو، آسمانوں سے فرشتے اتر کر یہ فرض انجام نہیں دیں گے کہ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے لیکن اگر ہم یہ نہ کر سکے تو پھر ’’داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں ‘‘۔

کالم لکھ چکاہوں تو عائشہ گلالئی کے عمران پر بدکرداری کے الزامات کی خبر یں مل رہی ہیں۔ عائشہ نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران عمران خان پر بہت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دونوں فریقین کی طرف سے ایک دوسرے کی کردار کشی کے لئے تابڑتوڑ حملےکیے جارہے ہیں۔ بادی النظر میں عمران خان کا تشخص ایک رنگین مزاج انسان کا ہے، خاکسار ان کی سیاسی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہتا ہے لیکن یہ معاملہ ذرا ٹیڑھا محسوس ہورہا ہے۔ عمران کے سیاسی نظریات سے مخالفت کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا جہاں کا گند ان کے سرڈال دیا جائے۔ یہ بات سمجھ سے باہرہے کہ چار برس تک عائشہ گلالئی کی غیرت نازیبا پیغامات برداشت کرتی رہی اور اب اچانک اس کی غیرت جاگ گئی۔ عائشہ گلالئی نے اگر عمران خان کے خلاف اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی نہ کی تو وہ خود تو جھوٹی ثابت ہو گی ہی اس معاشرے کی خواتین کے لئے بھی باعث شرم ثابت ہوگی۔


اسی بارے میں
خدیجہ حملہ کیس: زبان خنجر چپ ہی رہے گی 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔