پاکستانی سیاست اور اسٹار پلس


ایک وقت تھا جب پاکستان میں بھارتی ٹی وی چینلوں کا طوطی بولتا تھا۔ انڈین ڈراموں نے پاکستانی خواتین کو ایسا لبھایا کہ گھریلوں زندگیوں میں اثر انداز ہونے لگے۔ جن میں بھارتی مقبول ٹی وی چینل اسٹار پلس کے کبھی نہ ختم ہونے والے (سوپ) ڈرامے انتہائی مقبولیت کے حامل رہے۔ ”ساس بھی کبھی بہو تھی“ سے لے کر ”کسوٹی زندگی کی“ جیسے ڈراموں نے پاکستانی کلچر کو اِس قدر اثر انداز کیا کہ بچہ جوان بوڑھا سب پر اِس کے منفی اثرات ظاہر ہونے لگے۔ ہر گھر سازشوں کا اڈہ نظر آنے لگا۔ ساس بہو کے درمیان انڈیا پاکستان کی طرح کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ گئی تھی۔ رشتوں کی حرمت کا احساس ناپید ہونے لگا تھا۔ بے راہ روی اس طرح نوجوان نسل میں سرائیت کرچکی تھی کے ہر گلی کا لونڈا خود کو سوجل اور گھر کے دروازے پر کھڑی لڑکی خود کو کشش سمجھنے لگے تھی۔

یہاں بھی بھلا ہو مشرف کا کہ جس نے انڈین چینلز پر پابندی عائد کرکے پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کو لائنسنس جاری کیے۔ جس کے بعد بھی ایک عرصے تک پاکستانی عوام پاروتی، میر، سوجل اور کشش کے کرداروں میں ڈھلے رہے۔ اور تب تک اس کے سحر سے باہر نہ نکلے جب تک پاکستانی ڈراموں میں سوجل کشش جیسے کرداروں نے جنم نہ لے لیا۔

اِسی طرح سینتیس سال پہلے کی بات ہے جب امریکہ میں دو طاقتور پہلوانوں کو آپس میں لڑایا جاتا تھا جسے ہمارے یہاں کشتی کہا جاتا ہے۔ اِس حوالے سے ڈبلیو ڈبلیو ایف (ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن) کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا۔ جس میں دو پہلوان آپس میں اپنی تن سازی اور پہلوانی کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔ یہ کھیل نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا میں پسند کیا جانے لگا۔ جبکہ بچے بوڑھے جوان سب ہی اسے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ اکھاڑے میں موجود پہلوان جیت کے لیے جائز و ناجائز ایسے ایسے حربے استعمال کیا کرتے کہ دیکھنے والے شائقین دنگ رہ جاتے تھے۔

شائقین کی تعداد میں روز بروز اضافے کے سبب ڈبلیو ڈبلیو ایف کے لیے یہ کھیل ایک انتہائی منافع بخش کاروبار بن چکا تھا۔ لوگوں کے لیے یہ کھیل اب صرف تن سازی اور پہلوانی کا مقابلہ نہیں رہا تھا۔ بلکہ ان کے لیے یہ ایک انٹرٹینمنٹ بن چکا تھا۔ شائقین اب پہلوانوں کے داؤ پیچ سے محظوظ نہیں ہوتے تھے بلکہ دو پہلوانوں کے درمیان جیت کےلیے جائز وناجائز راستے اختیار کرنا ان کی دلچسپی کا باعث تھا۔ اکھاڑے میں موجود پہلوان بھی شائقین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پہلوانی کم انٹرٹینمنٹ زیادہ کرنے لگے تھے۔ جس کے باعث ادارے کو اپنا نام ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جگہ ڈبلیو ڈبلیو ای (ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ) رکھنا پڑا۔ پہلوانوں کی نورا کشتی کا یہ سلسلہ جوں کا توں آج تک جاری ہے اور عوام میں آج بھی اسی طرح مقبول ہے۔

آج اگر پاکستان کی سیاست پر نظر ڈالیں تو یہ بھی کبھی نہ ختم ہونے والے کسی سوپ ڈرامے سے کم نظر نہیں آتی۔ جبکہ سیاسی اکھاڑے میں سیاستدانوں کی نورا کشتی ڈبلیو ڈبلیو ای کا سماں باندھتی نظر آتی ہے۔ جہاں سیاسی اکھاڑے کے منجھے ہوئے کھلاڑی شائقین کو اپنے سحر میں اِس طرح مبتلاکیے رکھتے ہیں کہ مجال ہے شائقین کا دھیان کسی اور جانب چلا جائے۔

ایک جانب تو اِن سیاستدانوں نے اسٹار پلس کے طرز پر ایسے ایسے سوپ ڈرامے تیار کر رکھے ہیں کہ عوام کو اس جنجال پورا سے نکلنے کی ایک منٹ کی فرصت نہیں۔ جہاں سوئس کیسز سے لے کر میمو گیٹ، میمو گیٹ سے لے کر دھرنہ ایڈونچر، دھرنہ ایڈونچر سے پانامہ لیکس، پاناما لیکس سے اقامہ لیکس اور اب نا اہلی کی طویل اقساط پر مبنی باسٹھ تریسٹھ کا کبھی نہ رکنے والا سوپ تیار ہے۔

عوام اِن سیاسی سوپ سے ایسے لطف اندوز ہوتے ہیں کے لوگ اسٹار پلس کے ڈرامے اور ڈبلیو ڈبلیو ای کی ریسلنگ دیکھنا بھول گئے ہیں۔ اِسی عوامی شوق کو دیکھتے ہوئے سیاسی بازیگروں نے اصولی سیاست چھوڑ کر نورا کشتی کی سیاست کو فروغ دینا شروع کردیا۔ اور گڈ گورننس جیسے بیانیہ کو سرد مہری کی نظر کرتے ہوئے خود کو سیاسی اکھاڑے میں مدت پوری ہونے تک محدود کرلیا ہے۔

اِس سارے کھیل میں ہمارے میڈیا کا کردار اُن ساس بہو کا سا ہے جو دن رات شوہر اور بیٹے کے کان بھرتے نہیں تھکتے۔ جبکہ سوشل میڈیا کا تو حال ہی مت پوچھئیے۔ جہاں نظریاتی تقسیم کا ایسا سیلاب اُمڈ آیا ہے کہ ہر ایک اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد تعمیر کرکے اُس کی امامت کرتا دکھائی دیتا ہے۔

اِس سے پہلے کہ ہمارے یہ غیر سنجیدہ رویے ہماری نسلوں میں منتقل ہوں اور کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ بنیں۔ ہمیں اِن سب چیزوں کو ان کی اصل حالت میں واپس لانا ہوگا۔ جس کا جو کام ہے اُس سے وہی کام لینا ہوگا۔ سیاستدانوں کو سیاسی اکھاڑے سے نکل کر نورا کشتی کا کھیل اب بند کرنا ہوگا۔ صرف مدت پوری کرنے کے بجائے مقدس پارلیمنٹ میں بیٹھ کر گڈ گورننس کی اعلیٰ مثال قائم کرنی ہوگی۔ ہمیں اِن غیر سنجیدہ اور رنگین بیانیوں سے نکل کر سنجیدہ بیانیہ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک ایسا بیانیہ دے جائیں کہ پھر انھیں کسی متبادل بیانیے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔