لاڑکانہ کا ایدھی سینٹر اور کالے چشموں والے مسیحا


پاکستان پیپلز پارٹی پر سندھ حکومت کے حوالے سے بہت سے الزامات لگتے رہے ہیں کہ اس حٖکومت نے صوبہ سندھ کی زمینوں کو کوڑیوں کے بھاؤ لینڈ مافیا اور ملک ریاض کے حوالے کر دیا ہے۔ کراچی کی مشہور زمانہ چائنا کٹنگ کا سہرا بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے سر جا تا ہے۔ سندھ کے درالخلافہ کراچی، حیدر آباد، سکھر میں غیر قانونی پلازے، پانی کے ہائیڈریٹس، ہوٹل، فش فارمز پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این ایز، ایم پی ایز، وڈیروں، جاگیرداروں اور ان کے کارندوں کا قبضہ ہے۔ دوسری طرف انسانیت کی دن رات خدمت کرنے والا لاڑکانہ کا ایدھی سینٹر بھی ان کی وجہ سے غیر محفوظ ہے جس کی حالت زار دیکھنے والی ہے۔

لاڑکانہ کے حوالے سے ایک عام شخص یہ خیال کرتا ہے کہ شاید لاڑکانہ کسی پیرس شہر سے کم نہیں ہوگا کیوں کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے اور اس شہر سے کئی بار پاکستان کے وزراء اعظم منتخب ہوئے مگر افسوس کہ لاڑکانہ جیسا سیاسی تاریخی شہر زبوں حالی کا شکار ہے۔ لاڑکانہ کا ایدھی سینڑ جو سول ہسپتال کے ساتھ واقع ہے کسی مسیحے کے تلاش میں ہے کہ کوئی پاکستان پیپلز پارٹی کا انسان دوست مسیحا زمین پر آئے اور سول ہسپتال کے مسمار ہوئے اس ایدھی سینڑ کو دیکھے کہ کس طرح لاڑکانہ کی دوزخ نما گرمی میں بے سرو سامان یہ ایدھی سینڑ کام کر رہا ہے۔

بقول ایدھی سینڑ کے ورکرز کے، کہ ایدھی سینڑ کا ایک بڑا کمرا ہوتا تھا اور اسے کے ساتھ ایک پانی کے ٹینکی بنی ہوئی تھی جس سے لوگ اس آفت زدہ گرمی میں پانی پیتے تھے مگر افسوس کہ یہ سینڑ بھی ایک ظالم جلاد کے نظر سے نہ بچ پایا جو اس زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اس نے ضلع انتظامیہ سے ساز باز کر کے انہیں بے گھر کر دیا اور اب وہ ایک تنبو میں رہ کر انسانیت کی خدمت کر کے بابائے انسانیت کے مشن کو آگے لے کے چل رہے ہیں۔

لاڑکانہ کے ایدھی سینڑ کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اور ایک لمحے کے لیے یہ خیال آتا ہے کے شاید انسانیت مر گئی ہے اور انسانیت کی خدمت کرنے والا یہ رفاہی سینٹر ہماری آنکھوں کے سامنے بکھرا پڑا ہے ہر طرف اس کا ٹوٹا پھوٹا سامان پھیلا ہوا ہے۔ لاوارث افراد کی تصاویر جو ایدھی سینڑ کے کمرے میں لگی ہوئی ہوتی تھیں کہ شاید کوئی ان کا پیارا کبھی ان تصاویر کو پہچان پائے مگر افسوس کہ لاڑکانہ کی بے رحم دھوپ نے ان تصاویر کے نقوش مٹا دیے ہیں۔ دوسری طرف ایدھی سینڑکے ٹھنڈے پانی کی سبیل جس کو سول ہسپتال کے مریض، گزرنے والے غریب غربا پی کر سکون کا سانس لیا کرتے تھے افسوس کہ ہم نے ان لوگوں سے پینے کے پانی کی سہولت بھی چھین لی۔

ایدھی سینڑ کی اس جگہ پر شاید پیپلز پارٹی کا کوئی با اثر نمائندہ اپنے لیے کسی پلازہ بنانے کی تیاری کر رہا ہوگا۔ اسی لیے ایدھی سینڑ کو مسمار کر کے اس کے اھلکاروں کو تنگ کر کے بھگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مگر آفرین ہے ایدھی سینٹر کے ورکرز پر جو اس حال میں بھی دن رات انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کو کوئی غم نہیں کہ بجلی ہے یا نہیں، ان کے پاس پانی ہے یا نہیں، سخت دھوپ اور بارش میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف ہماری سندھ حکومت کے کرتا دھرتا، گاڈ فادرز جن کا انتظار اس مسمار شدہ ایدھی سینڑ کو ہے کہ شاید کوئی پیپلز پارٹی کا مسیحا آئے گا اور اس انسانیت کے مسمار شدہ سینڑ کو دیکھ کر رحم کھائے گا اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی لاج رکھے گا۔ مگر شاید اس ایدھی سینڑ کو پتہ نہیں کہ آج کل یہ حکومت کرنے والے مسیحا زمین پر نہیں بلکہ آسان پر گھومتے ہیں۔

سیدھا نو ڈیرو ہاؤس، بلاول ہاؤس، زرداری ہاؤس، نواب شاہ، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دبئی یا لندن ہوتے ہیں۔ یہ کالے چشمے والے کیا جانیں غریب کی زندگی اس کی مشکلات، اس کی بیماری، آٹا گھی کا بھاؤ، یتیموں کی پرورش، لاوارثوں کے دکھ درد، اور لاوارث لاشوں کی تدفین، ایدھی سینٹر اور انسانیت کا رشتہ۔ اگر فرض کریں کہ یہ کالے چشمے والے مسیحا ووٹ مانگنے زمین پر آبھی جائیں تو بھی ان کی آنکھوں پر لگے کالے چشموں، ان کے گاڑیوں پر لگے کالے شیشوں اور گاڑیوں کی لمبی قطاروں میں یہ لاڑکانہ کا مسمار شدہ انسانیت کا ایدھی سینڑ کہاں دیکھ پائیں گے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔