ماریا تورپیکئی وزیر کون ہیں؟


ماریا تورپیکئی وزیر 22 نومبر 1990 کو جنوبی وزیرستان میں پیدا ہونے والی سکواش کی پروفیشنل کھلاڑی ہیں۔ وہ خاتون کھلاڑی ہونے کی وجہ سے شروع سے ہی طالبان کے نشانے پر رہی ہیں۔ ان کے ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے سکواش کے مشہور کھلاڑی جوناتھن پاور نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ان کی ٹریننگ کی۔ جوناتھن پاور ورلڈ چیمپئین اور برٹش اوپن چیمئین رہے ہیں۔

ماریا اپنے بارے میں بتاتی ہیں کہ ”میں پاکستان کے دور دراز علاقے وزیرستان میں پیدا ہوئی جسے عام طور پر دنیا کی خطرناک ترین جگہ کہا جاتا ہے۔ ہاں بہت کم لڑکیاں سکول جا پاتی ہیں اور کھیلوں میں حصہ نہیں لیتیں۔ لیکن میری پرورش عام لڑکیوں سے مختلف انداز میں ہوئی۔ چار برس کی عمر میں میں نے اپنے بال کاٹ دیے، اپنے لڑکیوں والے کپڑے جلا دیے اور اپنے بھائی کے کپڑے پہن کر لڑکوں جیسی زندگی گزارنے لگی۔ میرے والد خواتین اور مردوں کی برابری کے قائل ہیں اور انہوں نے روایات کو ایک طرف رکھتے ہوئے مجھے بھیس بدلنے کی اجازت دی تاکہ میں ایک کھلاڑی کی حیثیت سے ابھر سکوں۔ جب میں 12 برس کی تھی تو میں آل پاکستان جونئیر ڈویژن ویٹ لفٹنگ میں دوسرے رینک پر تھی۔ پھر میں نے سکواش کو دریافت کیا۔ جب پشاور کی لوکل سکواش اکیڈمی نے میرا برتھ سرٹیفیکیٹ مانگا تو میری اصل شناخت ظاہر ہو گئی۔ خوش قسمتی سے ڈائریکٹر کے خیالات بھی میرے والد جیسے تھے اور انہوں نے مجھے ریکٹ تھما دیا“۔

جلد ہی ماریا پاکستان بھر میں مقابلوں میں حصہ لینے لگیں۔ لیکن ان کے خاندان کو طالبان کی طرف سے جان سے مار ڈالنے کی قابلِ یقین دھمکیاں موصول ہونے لگیں۔ ماریا کے لئے کھیلنا محفوظ نہ رہا تھا۔ وہ تین برس تک اپنے گھر میں قید رہیں اور اپنے کمرے کی دیواروں سے بال مار مار کر پریکٹس کرتی رہیں۔

اس دوران انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں کو ہزاروں ایمیلیں کیں اور پاکستان سے نکلنے میں مدد کی درخواست کی۔ ایک دن ان کی دعائیں قبول ہوئیں اور ایک شخص نے ان کی مدد کرنے کی حامی بھر لی۔ یہ کوئی عام شخص نہیں تھا بلکہ سکواش کا ایک بہت بڑا کھلاڑی اور سابقہ ورلڈ چیمپئین جوناتھن پاور تھا۔ اس نے ماریا کو دعوت دی کہ وہ ان کے پاس کینیڈا آ جائیں اور ٹورنٹو میں ان سے سکواش کی تربیت لیں۔ ماریا اس وقت سے کینیڈا میں تنہا رہ رہی ہیں لیکن وہ پاکستان کے لئے کھیلتی ہیں۔

ماریا کہتی ہیں کہ ”بیشتر اوقات جب میں اپنی زندگی پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے اس پر یقین ہی نہیں آتا ہے۔ میں نے ایک عام سی قبائلی لڑکی کے طور پر جنم لیا تھا جو اپنے گھر سے باہر نہیں جا سکتی ہے اور آج میں ایک پروفیشنل سکواش پلیئر ہوں۔ میرا خاندان میرا سب سے بڑا مددگار رہا ہے۔ میرے والد کی محبت، دوستی اور تعلیمات نے مجھے جبر کی دنیا میں راستہ بنانے میں مدد کی۔ حتی کہ طالبان کی دھمکیاں بھی مجھے نہ روک پائیں۔ آج میں خوش ہوں اور اپنے خوابوں کو حقیقت کا جامہ پہنا رہی ہوں۔ میں نے اپنے خوف پر قابو پایا اور سمجھوتہ نہیں کیا۔ میں اب پہلے سے بہت زیادہ طاقتور ہوں اور دنیا میں تعلیم، کھیل اور صحت کے ذریعے ایک مثبت تبدیلی لانے کے لئے پرعزم ہوں“۔

ماریا کو بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں جن میں سرفہرست پاکستان کا صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 632 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar