شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے حق میں نہیں: رانا ثنا اللہ


پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی وزیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت میں کئی ارکان کی رائے میاں شہباز شریف کو پنجاب کی وزارتِ اعلی سے ہٹا کر وزیر اعظم بنانے کے فیصلے کے حق میں نہیں ہے۔

بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ میاں شہباز کو اس مرحلے پر پنجاب سے ہٹا کر مرکز میں نہیں لے جانا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے شاہد خاقان عباسی کی حلف برداری کی تقریب میں میاں شہباز شریف کی غیر حاضری اور میاں حمزا شہباز کی قومی اسمبلی میں عدم شرکت کو کوئی اہمیت نہیں دی اور شریف خاندان اور پارٹی کے ان دو اہم ارکان کی غیر حاضری سے پارٹی کے اندر اختلافات کی قیاس آرائیوں کی بھی سختی سے تردید کی۔

میاں نواز شریف نے اپنی نا اہلی کے اگلے روز نون لیگ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کو اپنی جگہ وزیر اعظم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ میاں شہباز شریف کے قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے تک کی درمیانی مدت کے لیے مری سے متعدد مرتبہ منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی کو عارضی یا عبوری وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا تھا۔
میاں نواز شریف کے اس فیصلے پر بڑی احتیاط سے رائے زنی کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے جو پارٹی کے فیصلے کے تابع ہے۔ پارٹی کے دیگر اراکین کی اس فیصلے پر رائے کے بارے میں جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا جن ارکین کو بھی اپنی رائے دینے کا موقع ملا ہے ان کی اکثریت کا یہی خیال ہے کہ میاں شہباز شریف کو صوبہ چھوڑ کر مرکز میں نہیں جانا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کے لیے ابھی آٹھ دس دن کی مہلت ہے جس میں اس فیصلے پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔

پنجاب میں جاری کئی ترقیاتی منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور ان کی بنیاد پر وہ آئندہ انتخابات میں لوگوں سے ووٹ مانگنے جائیں گے۔ انھوں نےکہا کہ اگر میاں شہباز شریف کو اس مرحلے پر پنجاب سے ہٹا دیا گیا تو ان منصوبوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب ہی پاکستان مسلم لیگ کا گڑھ ہے اور یہاں ہی آئندہ انتخابات میں بڑا معرکہ ہونے جا رہا ہے۔

کچھ حلقوں کی طرف سے یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ میاں نواز شریف کی جگہ پارٹی کے کسی اور رکن کو وزیر اعلی پنجاب بنانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور صوبے میں پارٹی ہی کی حکومت قائم رہے گی۔ اس رائے کو رد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ تاثر اور خیال درست نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاق میں میاں نواز شریف کو ہٹائے جانے پر پارٹی کو نقصان تو ہوا ہے اور اسی طرح میاں شہباز شریف کی جگہ پنجاب میں کسی اور کو لانے سے فرق پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ کیا یہ ضروری ہے دونوں جگہوں پر پارٹی کو نقصان ہو۔ پارٹی کو یہ دیکھنا ہو گا کہ کس طرح نواز شریف کو ہٹائے جانے سے نقصان کو کم سے کم کیا جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 363 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp