عمران خان کی نااہلی پر عدالت مشکل میں


دو اگست کا دن بھی عمران خان کی نا اہلی کے لئے دائر درخواست کی سماعت کی نذر ہو گیا۔ ساڑھے گیارہ بجے شروع ہونے والی سماعت اڑھائی بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔

درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے تحریک انصاف کے غیرملکی فنڈز کیس میں اپنے جوابی دلائل میں کہا کہ چیف جسٹس کی گزشتہ روز ممنوعہ فنڈز پر نا اہلی نہ ہونے کی آبزرویشن کو دو انگریزی اخبارات نے شہ سرخیوں میں جگہ دی ہے۔ ایک جانب تو تحریک انصاف کے وکیل مانتے ہیں کہ ممنوعہ فنڈز ضبط ہو سکتے ہیں، مگر دوسری جانب یہ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ کارروائی نہیں ہو سکتی۔ اس کا مطلب ہوا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر قانون کی باقی شقیں بے کار ہیں، یہ تو ایسے ہوا کہ لوٹا ہوا مال واپس ہو گیا مگر سزا نہیں ہو سکتی۔

وکیل نے کہا کہ بیان حلفی سچ پر مبنی ہونا چاہیے، اگر پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ غلط ہوا تو صداقت وامانت کے خلاف ہو گا، مجھ سے عدالت نے پوچھا تھا کہ عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت سرٹیفیکیٹ پر نا اہلی کیسے ہو گی؟ کسی قانون میں ایسا نہیں ہو گا مگر عدالتی فیصلوں میں آئین وقانون کے تحت ہی ارکان پارلیمان کی نا اہلی کے فیصلے کیے گئے، قانون اور آئین کے ساتھ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اگر کسی کا عمل اخلاق اور لیڈرشپ کے معیار کے مطابق نہیں تو نا اہلی ہو سکتی ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ صرف عوامی نمائندگی کے قانون کی شق ننانوے کے تحت نا اہلی کیسے ہو گی؟ اس کے لئے آئین کا آرٹیکل باسٹھ ون ایف بھی ساتھ ہوتا تب ممکن ہے۔ وکیل نے کہا کہ عدالت نے کئی مقدمات میں صرف عوامی نمائندگی کے قانون کی شق ننانوے کے تحت بھی نا اہلی کے فیصلے دیے ہیں۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن میں پارٹی کے درست مالی گوشوارے جمع کرانا ضروری ہے، پارٹی سربراہ نے جب اس بارے میں غلط بیانی کی تو وہ نا اہل ہوگا۔ جسٹس عمرعطا نے کہا کہ پہلے آپ کو دکھانا ہو گا کہ پارٹی نے ممنوعہ فنڈز لیے۔ وکیل نے کہا کہ صرف دکھایا ہی نہیں بلکہ ثابت کیا ہے کہ فنڈز ممنوعہ ذرائع سے لیے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ وہ کہتے ہیں ممنوعہ فنڈز پاکستان منتقل نہیں کیے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے بھی یہی سوال پوچھا تھا، اگر پاکستان بھیجے گئے فنڈز ممنوعہ نہیں تھے تو پھر کیا اثرات ہوں گے؟ وکیل نے کہاکہ مسئلہ یہ ہے کہ امریکا میں فنڈز اکھٹے کرنے والا نصراللہ خان صرف ایجنٹ ہی نہیں تحریک انصاف کا نمائندہ بھی تھا۔

چیف جسٹس نے وکیل اکرم شیخ سے پوچھا کہ معاونت کریں کیا یہ معاملہ جائزے کے لئے الیکشن کمیشن کو دیاجاسکتا ہے؟ وکیل اکرم شیخ نے جواب دیا کہ مزید تنازعے کے لئے معاملہ الیکشن کمیشن پر نہیں چھوڑا جاسکتا، تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے اختیار کو نہیں مانتی، اگر عدالت پارٹی کے سارے فنڈز کی اسکروٹنی کے لئے کمیشن تشکیل دیتی ہے تو اعتراض نہیں ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ممنوعہ فنڈز کے ان غیرمتنازع شواہدکی نشاندہی جو عدالت کے سامنے موجود ہیں۔ وکیل اکرم شیخ نے بتایاکہ تحریک انصاف نے اپنے جواب میں ہماری پیش کی گئی دستاویزات پر اعتراض نہیں کیا بلکہ کہاہے کہ فنڈز پاکستان لائے گئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دستاویزات کو تسلیم کرنے کا طریقہ کار قانون شہادت میں دیا گیا ہے، کیا تحریک انصاف کے جواب کو قانون کے مطابق اعتراف کہا جائے گا؟ وکیل نے جواب دیا کہ تحریک انصاف نے ملٹی نیشنل سے فنڈز لینے کو تسلیم کیا ہے، دہری شہریت والے بھی فنڈز کے ممنوع ذرائع ہیں۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں سرٹیفیکیٹ دیا کہ فنڈز نہیں لیے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تحریک انصاف کا جواب ہے کہ عمران خان کا سرٹیفیکیٹ ممنوعہ ذرائع سے فنڈز نہ لینے کے بارے میں تھا اور اس کی وجہ پاکستان منتقل کیے جانے والے فنڈز تھے جو ممنوعہ نہیں تھے۔ وکیل نے کہاکہ اکاؤنٹس وہی ہے، کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ممنوعہ وہاں رکھے اور غیر ممنوعہ یہاں لے آئے۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ اکاؤنٹس الگ الگ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تحریک انصاف کے اسلام آباد کے تین اکاؤنٹس میں یہ رقم منتقل ہوئی۔ جسٹس عمرعطا نے کہاکہ رقم کا درست تعین کرنے کے لئے ضروری ہے کہ امریکا میں فنڈز اکھٹا کرنے والا اکاؤنٹ اور یہاں پارٹی کے آڈیٹر والا اکاؤنٹ پرکھے جائیں، اگرکوئی فرق ہے کہ معلوم ہوجائے گا۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ کیا دستاویزات میں یہ دکھایا جاسکتا ہے کہ وصول کی گئی تمام رقم پاکستان منتقل کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ پارٹی سربراہ کا بیان حلفی آڈیٹر کی رپورٹ کے مطابق دیا تھا۔ وکیل نے کہا کہ دستاویزات سے پہلے بھی عدالت کو دکھا چکا ہوں کہ ایک ملین کم ظاہرکیے گئے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا صرف سرٹیفیکیٹ پر اس طرح فیصلہ دیدیں؟ وکیل نے جواب دیاکہ عدالت نے ایسے فیصلے دیے ہیں، عوام اب عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں، گزشتہ ہفتے کے فیصلے( وزیراعظم نا اہلی) کے بعد توقعات بڑھ گئی ہیں کہ یہ عدالت اپنی غیر جانبداری کے تشخص کو بحال رکھے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں، عوامی مفاد کے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین میں فیصلہ غیر متنازع حقائق پر ہی ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں: ۔  لالہ موسی میں پھول سستے ہو گئے

وکیل نے کہا کہ مارچ دو ہزار تیرہ سے دو ہزار سترہ تک تحریک انصاف کو کیلی فورنیا سے گیارہ لاکھ چھیاسی ہزار ڈالرز ملے، اسی طرح دو ہزار دس سے دو ہزار تیرہ تک تحریک انصاف کو ٹیکساس سے بیس لاکھ ڈالرز ملے۔ دستاویزات میں فنڈز دینے والے ممنوعہ ذرائع کی تفصیل موجود ہے اور یہ متنازع نہیں کیونکہ تحریک انصاف نے ان کی تردید نہیں کی۔ اگر عدالت ان کو متنازع سمجھتی ہے تو ہم جے آئی ٹی بنانے کی راہ میں رکاوٹ نہیں، عدالت ایسا نہیں کرے گی تو غیرملکی فنڈنگ کا فلڈ گیٹ کھلے گا، دہشت گردی بھی غیرملکی فنڈنگ سے ہو رہی ہے۔ عدالت کو یہ فلڈ گیٹ بند کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ اس کے لئے فورم (الیکشن کمیشن) موجود ہے۔ وکیل بولے کہ وہ صرف فنڈز ضبط کرسکتا ہے، عمران خان کو جھوٹا قراردینے کا اختیار ان کے پاس نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ابھی تک اس معیار کے حقائق ریکارڈ پر نہیں آئے، تمام چیزوں کو دیکھنا ہو گا، وہ الیکشن کمیشن کیا کرسکتا ہے جس کے اختیار کو تحریک انصاف تین سال سے مان ہی نہیں رہی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سپریم کورٹ فیصلہ دے سکتی ہے کہ معاملہ کون دیکھے گا۔ وکیل نے کہاکہ فنڈز اکھٹے کرنا اور پاکستان بھیجنا الگ الگ نہیں۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ فنڈز اکھٹے کرنے والی امریکی کمپنی ہمارے قوانین کی پابند نہیں، وہ اپنے کلائنٹ کے ساتھ معاہدے کے مطابق کام کی پابند ہے۔ وکیل بولے کہ دہری شہریت والے پاکستانیوں کو کھلی چھوٹ نہیں کہ امریکا میں ہوں تو پاکستان کے خلاف سازش کی اجازت ہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ ہم فنڈز اکھٹے کرنے کی بات کررہے ہیں، سازشوں کی نہیں۔ وکیل بولے کہ فنڈز چاربرس کے عرصے میں ملے، تحریک انصاف عدالت میں مقدمہ آنے کے بعد نہیں کہہ سکتی کہ ایجنٹ کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعتیں جلسے کے لئے ٹرانسپورٹ دینے والوں کی تفصیل فراہم کرنے کی بھی پابند ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ واضح کرنا ہو گا کہ تحریک انصا ف نے قانون میں ممنوع امداد حاصل کی، یہ بھی واضح دکھانا ہو گا کہ تحریک انصاف نے ایسے لوگوں سے فنڈز لیے جو غیرملکی ہیں، جب پی ٹی آئی نے عطیہ دہندگان کی فہرست فراہم کی تو اسے متنازع قراردیا گیا، ہم کیاکریں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اس فورم پر تحقیق نہیں کرسکتے، کس بنیاد پر عمران خان کے بیان حلفی کے غلط ہونے کا تعین کریں؟ امریکی ویب سائٹ کی سرکاری دستاویزات میں یہ تعین نہیں ہو پا رہا کہ کتنی اورکون سی رقم ممنوع فنڈز کے زمرے میں آتی ہے۔ وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف نے فنڈز دینے والی کارپوریشنز کی تفصیلات کو چھپانے کے لئے غلط دستاویزات پیش کیں، عدالت کے پاس ان کوائری کے وسیع اختیارات ہیں۔ میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ امریکا کی کمپنیوں کی دستاویز لاکر پیش کروں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہی تو ایشو ہے۔

وکیل اکرم شیخ اس موقع پر دلائل چھوڑ کر عمومی بات کرنا شروع ہوگئے اور کہا کہ میرے جوابی دلائل کل تک مکمل ہو جائیں گے، علم ہے کہ جسٹس فیصل عرب دوہفتوں کے لئے ملک سے باہر جا رہے ہیں، اس کے بعد میں نے تئیس اگست کو حج پر جانا ہے، چودہ روز کے لئے جاؤں گا، کیس جلد مکمل ہوجائے تو بہتر ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں عدالت میں اپنی مصروفیات کا ذکر نہیں کرنا چاہیے مگر ہم بھی رات گئے تک اس کیس کو پڑھتے رہتے ہیں۔ ہم بھی اتنے ہی فکرمند ہیں جتنی فکر آپ کو ہے۔ بہت سی چیزیں جو مقدمے کے آغاز میں واضح نہیں تھیں، سماعت آگے بڑھنے سے وہ سوال سامنے آئے۔ چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ کو اس نکتے پر وضاحت کرنا ہوگی کہ جب قانون میں مقامی کمپنیوں سے فنڈز لینے پر پابندی ہے تو غیرملکی کارپوریشنز سے فنڈز کیسے لیے جاسکتے ہیں؟

وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ تحریک انصاف نے دہری شہریت والوں سے فنڈز لینے کا اعتراف کیا ہے، دہری شہریت والا اگر پاکستانی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غیرملکی نہیں، جب تک قانون میں ترمیم نہیں ہوجاتی دہری شہریت والے بھی ووٹ نہیں دے سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کیس میں دہری شہریت والوں کی حیثیت کا تعین کریں؟ یہ لوگ ملک میں قیمتی زرمبادلہ بھیجتے ہیں، محتاط بات کرنا چاہیے۔ وکیل نے کہاکہ کوئی ایسی بات نہیں کی، ان کی عزت اپنی جگہ ہے، قانون کی بات کر رہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر امریکا میں کسی پاکستانی نے یہاں کی سیاسی جماعت کو فنڈز دے دیے تو کیا کریں؟ وکیل بولے کہ اس پاکستانی کی تمام تفصیلات اور کوائف دستیاب ہوں گی۔ جسٹس فیصل عرب اس موقع پر بولے کہ آپ کے دلائل کو دیکھا جائے تو پھر عمران خان کے بیٹے بھی ان کی پارٹی کو فنڈز نہیں دے سکتے۔ وکیل نے کہاکہ عمران کے بیٹے پاکستان کے شہری ہی نہیں، وزارت داخلہ سے معلوم کیا تھا، میڈم جمائما نے بھی پاکستان کی شہریت نہیں لی تھی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اس طرف نہیں جانا چاہتے۔ قانون کو دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کے مالی گوشواروں کی اسکروٹنی سے نہیں روکا جاسکتا، یہاں تک کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق پارٹی کے آڈیٹر کی رپورٹ کو مسترد بھی کرسکتاہے۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف کے فنڈز معاملے پر اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  انسانی دماغ کا صرف 10فی صد استعمال؟ (پہلا حصہ)

وکیل اکرم شیخ نے نیازی سروسز لمیٹڈ معاملے پر جوابی دلائل میں کہا کہ عمران خان نے بددیانتی سے لندن فلیٹ کو دولت گوشوارے میں ظاہرکیا۔ اپنے تمام دلائل کو تحریری صورت میں بھی پیش کروں گا، اور مجھے اپنے آپ اختلاف کرنے کی اجازت نہ دی جائے، جیسا کہ عظیم وکیل حسین شہید سہروردی کہا کرتے تھے کہ مجھے خود اپنے سے اختلاف کی اجازت دیجیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آپ کے فلاں فلاں جوابی دلائل پہلے ہی نوٹ کرلیے ہیں کیونکہ یہ آپ نے درخواست کی صورت میں تحریری طور پر دیے تھے۔ وکیل نے کہاکہ آپ کی عدالت میں پیش ہونے کا وکیل کو یہی فائدہ ہوتاہے کہ ہمارا آدھا بوجھ آپ خود اٹھا لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ بنیادی سوال آف شور کمپنی کے اصل مالک کے تعین کا ہے۔ شیل کمپنی ملکیت کی اصلیت کو چھپانے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ پھر پوچھا کہ عمران خان نے سنہ دو ہزار میں لندن فلیٹ فلیٹ ظاہر کیا تو کیا کسی نے چیلنج کیا۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ اب چیلنج کررہے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے حالیہ فیصلے میں یہ بات طے کردی ہے کہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس فیصلے کا حوالہ دینے کی بجائے اپنا کیس لڑیں۔ وکیل نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان نے آف شور کمپنی کی دستاویزات جمع نہیں کرائیں اور نہ ہی اس کی بنک اسٹیٹمنٹ دی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ نیازی سروسز کمپنی کے اصل مالک کون تھے، ایک تو کمپنی کا ٹائٹل ہولڈریا قانونی مالک ہوتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ جب عمران خان نے ٹیکس استثنا اسکیم کے تحت لندن فلیٹ ظاہر کیا تو کیا نیازی سروسز کی ملکیت فلیٹ سے ختم ہوگئی؟ کیا شیل کمپنی اثاثہ ہوتی ہے اور کیا اس کا ظاہر کیا جانا ضروری ہے؟ کیا نیازی سروسز کی ملکیت تسلیم کیے جانے کے بعد اس کو بطور شیل کمپنی ریکارڈ پر لایا گیا؟ چیف جسٹس نے اس موقع پر کچھ کہنے کی کوشش کی تو وکیل نے کہاکہ یہاں ایک شعر عرض کرتا ہوں

اپنا جینا ہے سیج کانٹوں کی
ان کا مرنا ہے جیسے تاج محل

چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کو مخاطب کر کے کہا کہ جو دستاویزات اور پاسپورٹ ریکارڈ پر لانا تھے وہ نہیں آئے تو عمران خان کے غیر رہائشی ہونے کے معاملے کا تعین کیسے ہو گا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پاسپورٹ ابھی نہیں ملے پیش کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ عمران خان اس عرصے کے دوران باہر آتے جاتے رہے ہوں۔ اس پر وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ اگر وہ سنہ دوہزار دو میں بیوی کو منانے کے لئے آتے جاتے رہے تھے تو اس کا بھی ریکارڈ ہو گا، دستاویز بنی ہو گی، کوئی پاسپورٹ پھر ٹھپہ لگا ہو گا، ٹکٹ خریدا ہو گا۔ کوئی تو چیز ہوگی جس سے بتاسکیں کہ وہ غیررہائشی تھے، کیا عمران خان کو سب گناہ معاف ہیں؟ یا کوئی چیز ظاہر کرنا ضروری بھی ہے؟ نعیم بخاری نے اس موقع پر مداخلت کی اور بولے کہ غیر ضروری طورپر کمنٹس دیے جارہے ہیں۔ وکیل اکرم شیخ بھلا کہاں رکنے والے تھے، بولے کہ میں نے تو کہانیوں میں پڑھا تھا کہ آپ کو سو قتل معاف ہیں، اب معلوم نہیں عمران خان کو کیا کیا معاف ہے۔ دستاویزات موجود ہیں کہ باہر جاتے رہے ہیں، اس کی تاریخیں اور تفصیل بھی دیدیں۔ میرا موقف ہے کہ عمران خان کبھی غیر رہائشی پاکستانی نہیں رہے، ایک کتاب عدالت میں پیش کی ہے، غیرملکی لکھاری نے عمران خان کی زندگی پر لکھی ہے۔ عمران خان دعوے کرتا ہے کہ لکھ پتی تھا۔ کتاب میں لکھا ہے کہ ایک وقت میں اس کے پاس سو روپے بھی نہیں ہوتے تھے، یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ نے بھیجا ہے، ضیاء الحق بھی یہی کہتے تھے۔ اگر عمران کہتا ہے کہ اسے اللہ نے بھیجا ہے تو میں نہیں مانتا، مجھے معلوم ہے کہ اکرام اللہ نیازی کے صاحبزادے ہیں، ان کے چچا میرے ساتھ وکالت کرتے رہے ہیں۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ دستاویزات پہلے کی ہوں اور وہ تیس جون دوہزار دو کے بعد باہر گئے ہوں، ٹیکس قانون کی وجہ سے لوگ فائلر نہیں بنتے، اسی وجہ سے دستاویزات نہیں ہوتیں۔

اس کے بعد نیازی سروسز کمپنی کے اثاثوں پر کچھ دیر بحث ہوئی۔ کہا گیا کہ فلیٹ کے علاوہ اس کمپنی کے پاس کبھی کوئی اثاثہ نہیں رہا۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ بتایا جائے کہ کمپنی کے اثاثے بکے تو فائدہ کس کو جائے گا؟ چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان ہی کمپنی کے اصل مالک تھے مگر کمپنی کے ٹائٹل ہولڈر نہیں تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیسے معلوم ہوگا کہ عمران خان غیر رہائشی تھے؟ عمران خان کے غیر رہائشی پاکستانی ہونے کی دستاویز ان کے وکیل ریکارڈ پر لائیں۔ مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔