کشش کس چیز میں ہوتی ہے؟


کہتے ہیں ہر چیز، اپنےاصل کی طرف رجوع کرتی ہے، جیسے کہ مٹی سے بنا وجود ایک دن مٹی ہو جائے گا اور روح جو کہ آفاقی ہے، اپنے خالق سے وصال کے لیے راہی عدم ہو جائے گی۔ كیا یہ سچ نہیں کہ پردیس میں رہنے والے پل پل اپنے ملک کی یاد میں بے چین رہتے ہیں، اور دل کے نہاں خانوں میں وطن واپسی کے ارادے ٹٹولتے رہتے ہیں کہ ایک دن سب کچھ چھوڑ کے اپنے دیس واپس چلے جائیں گےاور زندگی کے آخری دن وہیں پورے کریں گے۔

کیوں؟

کیونکہ ہر چیز لوٹ کر وہیں جانا چاہتی ہے، جہاں سے اس کا ازلی تعلق ہوتا ہے۔ belonging ہوتی ہے۔

یہ ایک ایسی کشش ہے جس سے کسی طور انحراف ممکن نہیں، جو اس بات کے قائل نہیں، شاید اس لئے نہ ہوں گے کہ وہ اپنے اصل سے بہت دور جا چکے ہیں۔ ان کے وجود کا سیارہ اس فطری کشش کے مدار سے کب کا نکل چکا۔

جب بات اصل کی ہو رہی ہے تو لا محالہ دھیان جاتا ہے خود اپنے آپ کی جانب۔ کیا ہم نے بھی تو اپنی ذات کے اصل سے دوری اختیار نہیں کر لی؟

اس مدار کی جانب دیکھیں جہاں آپ، آپ سے قریبی وابستہ لوگ، کچھ شناسا کچھ اجنبی، کچھ اپنے کچھ پرائے، کہیں دوست اور کہیں دشمن۔ آپ سے مختلف فاصلوں پر آپ ہی کے مدار میں گردش میں ہیں، اور تصور کریں کہ آپ کے اندر ایک خاص قسم کی ایک کشش ہے، پاور ہے، جس نے بالکل اپنے سے مماثل کشش کو اپنی طرف کھینچ کہ رکھا ہے۔
“remember we only attract what we have within۔ “

قدرت کا اصول ہے کہ کائنات میں موجود ہر چیز، اپنے جیسی چیز کو attract کرتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے نا، کبوتر با کبوتر۔ باز با باز۔

کبھی آپ نے کسی کو کہتے سنا کہ“ کیا مصیبت ہے یار! ساری دنیا کے فضول لوگوں سے میرا ہی واسطہ کیوں پڑتا ہے؟ “ یقیناً بہت مرتبہ سنا ہو گا بلکہ شاید خود کہا بھی ہو گا۔

اس کی وجہ جانتے ہیں، کیا ہے؟

غور کریں تو جواب ہم خود ہی ہیں۔ ہمارے اندر ایسی چیزوں کا اجتماع ہے جو اپنے سے ملتی جلتی چیزوں کی تلاش میں ہے اور جیسے ہی اس کو وہ ٹارگٹ نظر آتا ہے۔ اس کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ دونوں ایک دوسرے کو atract کر لیتے ہیں۔ سو فاعل بھی آپ اور مفعول بھی آپ!

ہم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو وہ نہیں، جو وہ نظر آتے ہیں۔ اوراس ’کچھ اور‘ نظر آنے کی کوشش میں اپنی ذات کے مدار سے دور چلے جاتے ہیں۔ وہ اس جھگڑے سے بخوبی واقف ہوں گے جو ان کی ذات کے اندر ہے، کیونکہ آپ اپنےآپ کو ذبردستی ایسی جگہ لے گئے ہیں جہاں سے اس کا دور دور کا کوئی تعلق نہیں، بالکل ایسے جیسے ایک خاموشی سے بھرے وجود کو ایسی محفل کی ذینت بنا دیا جائے جہاں محض شور اور ہنگامہ ہو۔

نتیجہ؟

وہ وجود اس شور سے کوئی مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے بہت جلد اس ماحول سے بیزار ہو جائے گا اور relate نہیں کر پائے گا۔ وہ سکون ڈھونڈے گا۔
اور اس جگہ سے دور جانے کے مواقع تلاش کرے گا۔

کبھی اپنی زندگی میں، رونما ہونے والےواقعات کو، اس میں آنے والےلوگوں کو، اپنے اندر موجود ان سے وابستہ احساسات کو اور سب سے بڑھ کہ، اس کیفیت کو جانچنے کی کوششش کریں جو اس سب کےنتیجے میں، آپ کے اندر جنم لیتی ہے۔ آپ کو خود پتہ چل جائے گا، آپ کو کہاں کہاں تبدیلی کی ضرورت ہے، بہت سے ایسیے connections آپ خود ختم کر دیں گے جنہوں نے آپ کے اندر شور اور بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ اور اس سے آپ اس امیج کے قریب تر ہوتے جایں گے جو آپ شاید بنیادی طور ہوں گے۔ یا پھر ویسا ہونے اور بننے کا عمل ضرور شروع ہو جائے گا۔ انشا اللہ

آپ کی جستجو کیا ہے، سکون؟ محبت؟ دولت؟ آسانی؟ رحمت؟ ایمانداری؟ اچھائی؟

آپ کی جستجو، آپ کی مطلوبہ چیزوں کا حصول، آپ کے لیے آسان بنا سکتی ہے، اگر آپ پہلے خود ان آحساسات کو اپنے اندر اجاگر کر لیں۔ باہر کی تلاش خود ہی آسان ہو جائے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عائشہ محسن کی دیگر تحریریں
عائشہ محسن کی دیگر تحریریں