دوستی اور سوشل انٹریکشن میں فرق


آپ نے بتایا کہ میری زندگی میں اتنے سارے لوگ ہیں، اتنے لوگوں سے گپ شپ ہے، رابطے ہیں، دوستی ہے، انٹریکشن ہے۔ ؟
ہاں جی ہے تو سہی۔
لیکن دوستی، رابطے، گپ شپ، یا کسی سے بات چیت کرنے میں کوئی فرق بھی ہے یا نہیں؟

دیکھئے میں بتاتا ہوں، سوشل انٹریکشن، گپ شپ وغیرہ بندے کی ایک خاص حد تک ہوتے ہیں اور اس وقت تک جب تک وہ ماحول ہوتا ہے، وہ کام ہوتا ہے، اسی حد تک رہتا ہے۔ وہ ایک خاص مدت کے لئے ہوتا ہے اور ایک خاص مقصد کے لیے۔ ان لوگوں سے بندہ ہر بات نہیں کہہ سکتا اور بتا کہ بھی مجھے نہیں لگتا کہ وہ آپ کے ساتھ افسوس سے زیادہ کسی مسئلے میں آپ کی کوئی مدد کر سکتے ہیں یا ساتھ دے سکتے ہیں اور ہزار لوگوں میں بھی بندہ تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ کسی کو آپ کے ہونے نہ ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ آپ ساتھ ہو ں تو اچھی بات ہے لیکن نہ بھی ہوں تو ان کو آپ کی کمی محسوس نہیں ہوتی ان کے سفر پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

دن میں کتنے لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے سلام دعا بھی ہوتی ہے لیکن کسی دن سلام نہ ہونے، نظر نہ آنے پر کسی بھی وجہ سے اسی وقت کتنے لوگ رابطہ کرکے پوچھتے ہیں یا شام کو پوچھ لیتے ہیں کہ آج طبیعت ٹھیک تو ہے ؟ کوئی مسئلہ تو نہیں؟ آج کدھر تھے آپ؟ خیریت تو ہے وغیرہ وغیرہ۔ بس جب کبھی کہیں سامنا ہوتا ہے تو پوچھ لیا۔
لیکن دوستی یا ساتھ دینا یہ الگ بات ہے۔ دوستی کی دنیا ہی الگ ہے یہ دو ذاتوں کی آپس میں، انسان کو انسان سے ہوسکتی ہے، انسان کو اللہ سے بھی، جانوروں سے بھی دوستی ہوسکتی ہے۔ اس میں تیسرے بندے کی گنجائش نہیں ہوتی۔

دوست کو آپ کے ہونے نہ ہونے سے بہت زیادہ فرق پڑتا ہے۔ دوستی ایک اپنائیت ہے ایک احساس ہے ایک لامحدود جذبہ ہے۔ آپ دیکھ لیں کہ گھر، سکول، کالج، بازار کہیں بھی جائیں اگر کوئی اپنا ساتھ ہو تو بندہ ایک دن کیا سالہا سال ادھر ہی گزار سکتا ہے لیکن اپنوں کے بغیر بندہ تنگ ہوتا ہے۔ گھر میں اگر امی ابو بہن بھائی نہ ہوں تو پھر اینٹوں کے عمارتوں سے شہر بھرا پڑا ہے لیکن ہمیں عمارتوں سے کیا جہاں اپنے نہ ہو۔ سکون تو اپنوں کے ہونے میں ہے شیش محل میں نہیں۔ کالج میں سے دوستوں کو نکال کر دیکھ، انشاء اللہ زندگی رہی اور کئی سال بعد کالج جانا ہوا تو احساس ہوجائے گا کہ اس عمارت میں ایسی کوئی بات نہیں جو کچھ تھا وہ اس کے مکینوں کی وجہ سے تھا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ اپنوں کے بغیر بندہ سفر نہیں کر سکتا یا کہیں رہ نہیں سکتا لیکن جو مزہ اپنوں کی موجودگی میں ہے وہ شاید ان کی غیر موجودگی میں نہ ہو۔ ساری جگہیں، شہر گاؤں تقریباً ایک جیسے ہیں لیکن جو ساتھ ہوتے ہیں ان سے زیادہ فرق پڑتا ہے۔ یادیں جگہوں سے زیادہ اس جگہ اس پل کسی کی موجودگی سے جڑی ہوتی ہیں۔

آپ نے دیکھا ہو گا اکثر پہاڑی علاقوں میں خواتین دور چشموں سے پانی بھرنے جاتی ہیں تو ان کا ایک کتا بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے کبھی دوسرے گھروں کی خواتین بھی راستے میں مل جائیں تو وہ کہتی ہیں کہ ہمیں کتے سے ڈر لگتا ہے تو پھر یہ اپنے گھر کے خواتین کتے کو دور بھگاتی ہیں تو پھر کتا دکھی دل کے ساتھ ان سے دور ہو جاتا ہے لیکن پیچھے پیچھے پھر بھی چل رہا ہوتا ہے۔ ساتھ نہیں چھوڑتا۔ وہ سوچتا ہے کہ اس جنگل میں ان کو کیسے اکیلا چھوڑ کر چلا جاؤں۔ لیکن کسی دن جب یہ کتا جنگلی جانوروں کا شکار ہو جاتا ہے تو پھر اس کی کمی کا احساس ہوجاتا ہے شاید کسی کے ہونے کا اتنا احساس نہیں ہوتا جتنا اس کے نہ ہونے کا۔

ساتھ دینا بہت بڑی بات ہے اصحاب کہف کا کتا جب وہ سب لوگ غار میں گئے تو وہ واپس جا سکتا تھا لیکن اس نے ساتھ دیا ان کے ساتھ قربانی دی اور عزت والا ہو گیا۔

دوستوں سے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں اور کچھ غلطیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے سب لوگ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں لیکن دوست کا ساتھ اس وقت بھی دینا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ہم اس کی جگہ ہوتے تو کتنا مشکل لگتا اس طرح سب کا ساتھ چھوڑنا۔ بس دوستی میں قربانی، انکساری، برداشت کرنا، سمجھنا، سمجھانا کبھی کبھی ڈانٹنا بھی لیکن کبھی اس کے آنکھوں میں آنسو نہ لانا اور ساتھ دینا ہر وقت ہر حال میں ضروری ہے۔ جو ضرورت کے تحت یا ضرورت کے وقت یاد کرے وہ تعلق، رابطہ اور گپ شپ ہے اور جو ہر وقت ساتھ دیں، ہر حال میں، ہر وقت، ہر جگہ تیار رہیں وہ دوستی ہے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عثمان آفریدی کی دیگر تحریریں
عثمان آفریدی کی دیگر تحریریں