سکیورٹی سے مطمئن ہوئے بغیر ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے: چوہدری نثار


chaudary nisarوفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت بھارت کی سکیورٹی سے مطمئن نہیں ہوگی تب تک قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ ورلڈٹی ٹوئنٹی میں شرکت سے متعلق معاملے پر وزیراعظم سے ملاقات ہوئی جس پر انہیں سکیورٹی معاملات پر بریفنگ دی، اس معاملے پر شہریار خان سے بھی کئی بات ملاقات ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کھیل سے محبت کرنے والا ملک ہے، ہمارے یہاں کرکٹ سے دیوانگی کی حد تک لگاو¿ ہے لیکن اس محبت اور دیوانگی کو ٹیم کبھی ٹیم ہینڈل کرلیتی ہے اور کئی مرتبہ نہیں بھی کرپاتی۔
چوہدری نثار نے کہا کہ پچھلے چند دنوں سے بھارت سے جو اطلاعات آرہی ہیں وہ قابل تشویش ہیں، آج بھی وہاں عسکری گروپ نے قومی ٹیم کے وہاں کھیلنے میں رکاوٹ ڈالنے کا کہا اور امن وامان خراب کرنے کی دھمکی دی جس پر پاکستانی حکومت اور خود میری ذمہ داری ہے کہ بھارت میں ہمارے کھلاڑیوں کو مکمل سکیورٹی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی بھارت میں ہمارے بڑے بڑے ناموں کی تضحیک ہوئی جس میں خود شہریارخان بھی شامل ہیں، یہ تمام چیزیں بہت سنگین ہیں، شہریار خان سے بھی کہا ہے کہ یہ مسئلہ آئی سی سی کے سامنے پیش کریں جس پر انہوں نے بتایا کہ آئی سی سی کی سکیورٹی ٹیم بھارت میں موجود ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں قومی ٹیم کی سکیورٹی سے متعلق جائزہ لینے کے لیے سینئر افسران پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی بنا دی ہے اور کوشش کررہے ہیں کہ وہ ٹیم بھارتی حکومت کی منظوری کے بعد روانہ ہو، اگر ٹیم نے ابتدئی رپورٹ مثبت دی تو ٹیم پروگرام کے مطابق روانہ ہوگی ورنہ جب تک واضح پیغام نہیں آجاتا کہ بھارت ہمارے کھلاڑیوں کے لیے محفوظ ہے تب تک ٹیم کی روانگی کچھ روز کے لیے ملتوی کرنا پڑی تو کریں گے اور جب تک حکومت مطمئن نہیں ہوگی تب تک ٹیم کو گرین سگنل نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں پاکستان کی شمولیت ضروری ہے کیونکہ ہم ایک اہم ملک ہیں اور اس ایونٹ کے ورلڈ چیمپئن بھی رہ چکے ہیں اس لیے آئی سی سی اور بھارت کی بھی ذمہ داری ہے کہ پاکستانی ٹیم کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے جب کہ یہ کہنا آسان ہے کیونکہ صرف ہوٹل میں قیام اور ایک سے دوسری جگہ جانا سکیورٹی نہیں ہے، خاص طور پر کھلاڑیوں کو گراو¿نڈ میں سکیورٹی کی ضرورت ہے جہاں ہزاروں لوگ ہیں اور وہاں یہ ضروری ہے کہ ہمارے لڑکوں کو کرکٹ کھیلنے دیا جائے اور سیاست کا نشانہ نہ بنایا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments