مصطفیٰ کمال کی واپسی یا صولت مرزا کا ظہور ثانی ؟


 ranaمصطفیٰ کمال کی اچانک کراچی آمد اور ان کی دھواں دار اور جذباتی پریس کانفرنس میں انداز بیاں کمال کا تھا لیکن کوئی نئی بات نہیں تھی، ایسا لگتا تھا کہ صولت مرزا دوبارہ زندہ ہو کر پریس کانفرنس کررہے ہیں۔  ہمارے بادشاہ گر پھر سے وہ ہی گھسی پٹی فلم دوبارہ لگا رہے ہیں۔  ایک قدرے بے ہودہ ضرب المثل ہے کہ “نانی نے خصم کیا، برا کیا، کرکے چھوڑ دیا، اور برا کیا”

مقتدر قوتوں نے مہاجر قومی موومنٹ کا پودا ضیا الحق کی آمریت کے دور میں ہی لگایا تھا جو کہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے، پیپلز پارٹی کا سندھ میں ووٹ بینک توڑنے کے لئے  یہ کارنامہ سرانجام دیا گیا، ضیا الحق کے منحوس دور سے پہلے کراچی روشنیوں کا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک غریب نواز شہر بھی تھا۔ ملک کے طول و عرض سے لوگ یہاں حصول روزگار کے لئے  آتے تھے۔  کراچی بہت مصروف ائیرپورٹ تھا۔ یورپ، افریقہ امریکا، مشرق بعید اور مشرق وسطی تقریباً تمام دنیا کے اہم شہروں سے یہ جڑا ہوا تھا۔ 1984 میں متحدہ قومی موومنٹ کی ابتدا ہوئی اور یہ عروس البلاد کہلوانے والا غریب نواز شہر ایک مقتل میں تبدیل ہوگیا۔ لسانی بنیاد پر بننے والی اس جماعت نے دیکھتے ہی دیکھتے سارے شہر کو یرغمال بنا لیا۔ خوف ہراس، قتل وغارت، اغوا، بھتہ خوری اور بوری بند لاشیں۔۔۔ کون سا جرم تھا جس میں ایم کیو ایم کے لوگ شامل نہ تھے، اور ہماری مقتدر قوتوں نے ہمیشہ ان کے جرائم سے صرف نظر کیا۔

silverjubilee200309-20کل مصطفیٰ کمال صاحب اپنے تہذیب یافتہ ہونے کے حوالے دے رہے تھے۔ اردو بلاشبہ شائستگی، رواداری، مہر و مروّت اور اخوت کی تہذیب ہے لیکن حضور آپ نے تو اردو تہذیب کا حلیہ ہی بگاڑ دیا، آپ آج کس منہ سے اس تہذیب کے وارث بن رہے ہیں۔  آپ پورے پانچ سال کراچی کے میئر رہے ہیں۔ آپ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے سب گناہوں میں شریک رہے ہیں یا پھر جانتے بوجھتے ہوے بھی خاموش رہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل الطاف حسین صاحب کی شان میں گستاخی کرنے پر آپ نے جو الفاظ مسلم لیگ کے لیڈروں کی شان میں ارشاد فرمائے تھے آپ کو شاید بھول گئے ہوں لیکن ہمیں سب یاد ہے۔  12 مئی 2007 کا دن کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔ آپ اس وقت کراچی کے میئر تھے جب آپ کی پارٹی نے کراچی کو قتل گاہ بنا دیا تھا۔ پچاس سے زیادہ لوگوں کو آپ کی پارٹی نے اپنی بہیمانہ اندھی طاقت کی بھینٹ چڑھا دیا۔ ان بے گناہ لوگوں کو کس جرم میں مارا گیا۔ اس دن آپ کا ضمیر کہاں تھاَ؟

آج پھر ایک بار وہی پرانا گیت، وہی پرانی فلم دوہرائی جا رہی ہے۔  الطاف حسین اور آپ کی جماعت انڈیا سے فنڈز لیتی تھی، شاید اب بھی لیتی ہو، آپ کے لوگ انڈیا سے تربیت لے کر کراچی کا امن تباہ کرتے رہے ہیں، آپ غدداروں کا ساتھ دیتے رہے، اب آپ کے ضمیر کو جیسے ہی مقتدر قوتوں نے پوتر پانی سے غسل دیا ہے اب آپ بالکل صاف دامن ہیں، ہماری مقتدر قوتوں کو ہر دور میں آپ جیسے لوگ ملتے رہے ہیں۔ ہماری تاریخ ایسے باضمیر لوگوں سے بھری پڑی ہے۔  دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ، تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔۔۔

افسوس کہ ہماری ہییت مقتدرہ نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بار بار ایک تجربہ دھرانے سے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ الطاف حسین کے انڈیا سے روابط ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی مخفی بات نہیں تھی اس کے باوجود مشرف صاحب نے اپنے پورے عرصہ اقتدار میں نہ صرف یہ کہ متحدہ قومی موومنٹ کو بھرپور سپورٹ فراہم کی بلکہ ان کے جرائم کی پردہ پوشی بھی کی۔ آج آپ اگر ان کو غدّار کہتے ہیں تو اس غدّاری میں مشرّف صاحب بھی شامل تھے اور مصطفیٰ کمال بھی۔

عجب تماشا ہے کہ الطاف حسین ہندوستان میں پاکستان کے خلاف تقریر کریں اور ہماری وزارت خارجہ دہلی میں تعینات پاکستانی سفیر کو حکم دے کہ الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کے اعزاز میں پر تکلف عشایے کا اہتمام کرے اور یہ بات ریکارڈ پر ہے۔ رہی الطاف حسین کی کثرت شراب نوشی کی بات۔۔۔

hqdefaultکون ہے جس نے مے نہیں چکھی

کون جھوٹی قسم اٹھاتا ہے

میکدے سے جو بچ نکلتا ہے

تیری آنکھوں میں ڈوب جاتا ہے

البتہ الطاف حسین کو نشے کی حالت میں تقریر نہیں کرنی چاہیے اب ویسے بھی ان کی صحت کافی خراب ہوچکی ہے ان پر ایسے الزامات لگانے سے مہاجر عوام کی ہمدردیاں مزید ان کے حق میں جایئں گی۔ ہماری ہییت مقتدرہ نے آج تک ایم کیو ایم کو اپنی آنکھ کا تارا بنا کر رکھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی سے بشمول ایم کیو ایم تمام سیاسی جماعتوں کے مسلّح دستوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ کراچی کی رونقیں بحال ہوسکیں۔ ایم کیو ایم کا ماضی فراموش کرکے اسے ایک سیاسی حقیقت تسلیم کرنا چاہیے، ایم کیو ایم مہاجروں کی اکثریت کی نمایندہ جماعت ہے۔ کراچی کے امن کے لئے ایم کیو ایم کا متحد رہنا ہی ہمارے ملک اور کراچی کے مفاد میں ہے۔  اسٹیبلشمنٹ کو کسی بھی سیاسی جماعت کو بنانے یا توڑنے کے عمل کا حصّہ نہیں بننا چاہیے، اس سعی لاحاصل سے آپ کو آج تک سواے وقتی فائدے کے کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ اس سے عوام میں شدید نفرت اور مایوسی پھیلی ہے۔  ایم کیو ایم کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور اپنی صفوں سے گندے انڈے نکالنے ہوں گے۔ خدا کرے کہ سب کا ضمیر خود بخود جاگے نہ کہ مقتدر قوتوں کی تھپکیوں سے، میڈیا ٹرائل بند کریں اگر غدّاری پر کوئی ریفرنس دائر کرنا ہے تو ان فوجی آمروں کے خلاف بھی کرنا چاہیے جن کی آشیرباد کے بغیر ایم کیو ایم یہ سب کچھ کبھی نہ کر پاتی۔  جون ایلیا کا ایک خوبصورت شعر ہے

 جو بھی ہو تم پہ معترض اس کو یہی جواب دو

آپ بہت شریف ہیں آپ نے کیا نہیں کیا


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan