’میرے زخم میری طاقت کی علامت ہیں‘


جب طالبہ پر خنجر کے 23 وار کر کے اسے زخمی کرنے والے شاہ حسین کو عدالت نے سات سال کی سزا سنائی تو ان کا نشانہ بننے والی خدیجہ صدیقی کو انصاف تو مل گیا لیکن دھمکیوں کا سلسلہ اور صلح کے لیے دباؤ اب بھی برقرار ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور کے لا کالج کی طالبہ خدیجہ صدیقی نے بتایا کہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد بھی انھیں دھمکایا جا رہا ہے۔ ‘انصاف لینا آسان نہیں ہوتا خصوصاً ایک عورت کے لیے، ہم پر ہر طریقے سے دباؤ ڈالا جاتا تھا اور ابھی بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ صلح کر لیں، لیکن اب میں کہتی ہوں کہ ایک جرم تھا جو مجھ پر تین مئی کو ہوا، 23 خنجروں کا وار، اس کے بعد پورا سال یہ لوگ میری کردارکشی کرتے رہے، عدالت میں بھی اور باہر عام زندگی میں بھی۔ تو اب یہ تمام خواتین کے خلاف جرم بن گیا ہے اور میں نے اسی لیے آواز اٹھائی ہے۔ یہ جرم ہر اس لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے جو آواز اٹھا کرعدالت تک پہنچتی ہے۔’

جب خدیجہ کا کیس سامنے آیا تو متعدد لوگوں نے خود خدیجہ سے بھی پوچھا اور سوشل میڈیا پر بھی اس بات پر تبصرہ کیا گیا کہ آخر شاہ حسین کو اتنا غصہ کیوں آیا کہ انھوں نے خدیجہ پر بےدردی سے وار پر وار کیے۔ خدیجہ اس بارے میں کہتی ہیں کہ ‘میں نے عدالت میں بھی بتایا تھا کہ وہ مجھے ہراساں کر رہا تھا اور دھمکیاں دی جا رہی تھیں جس کے بعد میں نے اس سے بات کرنا بند کر دی تھی۔ میں نے کھل کر یہ معاملہ بیان کیا تھا لیکن وہ لوگ اب بھی اسی کو بنیاد بنا کر مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ میں ہار مان لوں۔ کیونکہ ان کے والد ابھی بھی ہمیں دھمکی دیتے ہیں کہ معاف کر دیں، صلح کر لیں۔’

اسی بارے میں: ۔  جماعت اسلامی کا فکری بحران

تین مئی 2016 کو لاہور میں شملہ پہاڑی کے علاقے میں خدیجہ صدیقی پر شاہ حسین نے چاقو کے 23 وار کر کے انھیں شدید زخمی کر دیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق خدیجہ کو ایک نئی زندگی تو ملی ہے لیکن انھیں یہ زندگی ان زخموں کے ساتھ ہی گزارنا ہو گی۔ البتہ خدیجہ زخم کے ان نشانوں کو ہمت کی علامت بتاتی ہیں۔ ‘میرے زخم میری طاقت کی علامت ہیں۔ میں ان کو دیکھتی ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے کس قدر ظلم اور بربریت کا سامنا کیا ہے۔ یہ زخم مجھے آگے بڑھنے کے لیے ہمت دیتے ہیں۔ اور جہاں تک صلح کی بات ہے تو اس کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی کے زندہ رہنے کے حق اس سے چھین سکے، کسی کو مار ڈالے جان سے۔ چاہے جو بھی وجہ ہو، تشدد کا کوئی جواز نہیں۔

خدیجہ پر ان کے ہم جماعت نے جنخر کے 23 وار کیے
جب خدیجہ پر حملہ ہوا تو ان کے ہمراہ ان کی چھ سالہ بہن صوفیہ بھی تھیں اور چاقو کا ایک وار ننھی صوفیہ کو بھی زخمی کر گیا۔ خدیجہ کا کہنا ہے کہ میڈیا اور ان کے ساتھی وکلا کے علاوہ ان کی جیت کی اصل ذمہ دار صوفیہ ہیں جنھوں نے اس کم عمری میں بھی ملزم کا مقابلہ کیا اور عدالت میں بھی اپنی بہن کا دفاع کیا۔

‘عدالت کے فیصلے کی بعد سب لوگ میری ہمت کو سراہتے ہیں لیکن دراصل تعریف کی صحیح حقدار میری چھوٹی بہن ہے جس نے اس شخص کا مقابلہ کیا، زخمی بھی ہوئی اور اس کم عمری میں اس کو یہ بھیانک حملہ دیکھنا پڑا۔ دوسرا میرے لیے ہیرو ہے میرا ڈرائیور جس نے میری جان بچائی۔ اگر وہ بیچ میں نہ آتا اور مجھے نہ بچاتا تو آج میں زندہ نہ ہوتی۔ شاہ حسین نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ایک ہوتا ہے مارنا لیکن اس نے تو تڑپا تڑپا کر چھری کے ساتھ مجھے مارنے کی پوری کوشش کی۔’

اسی بارے میں: ۔  پاکستانی میڈیا میں صحافتی معیار کتنا اہم؟


مستقبل کے حوالے سے خدیجہ پرامید ہیں کہ وہ قانون کی تعلیم کے آخری سال کی پڑھائی مکمل کر کے جلد باقاعدہ وکالت شروع کر دیں گی اور اپنے جیسی متاثرہ خواتین کی لیے کیس لڑیں گی۔’اب زندگی کا مقصد بدل گیا ہے۔ پہلے تو تھا کہ بس وکیل بننا ہے، اب ہے کہ کریمینل لائر بننا ہے اور امید پوری ہے کہ اسی نظام میں اور اسی عدلیہ کا حصہ بن کر کریمینل لا پریکٹیس کرنی ہے اور انصاف تک لوگوں کو پہنچانا ہے بالخصوص خواتین تک۔’


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 935 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp