لو یو کپتان


فرید گنج شکر میرے فیورٹ بزرگ ہیں۔ بابا فرید کا حلقہ اثر وہی علاقہ ہے جس پر شوکت صدیقی نے مشہور ناول جانگلوس لکھا نیلی اور ساندل بار کا علاقہ جس میں ساہیوال اوکاڑہ پاکپتن شامل ہیں۔ جانگلی کہنا کہلانا کوئی طعنہ نہیں یہ دھرتی سے جڑے وہ فرزند زمین ہیں جو آج تک باغی ہیں حملہ آوروں کے بھی اس نظام کے بھی جو باہر سے آیا تھا۔ یہ لوگ اس نظام کو لال قلم سے ہی لکھتے ہیں۔ بابا فرید کے ماننے والے دربار پر کیا مرادیں لے کر جاتے ہیں۔ یہ جاننا ہو تو بدر میانداد کا قوالی نما گیت میں ڈھکیاں چڑھ آئی سن لیں۔ آج بہت دن بعد سنا۔ گیت بیان ہے چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا اور اپنی خطاؤں کی معافی کا۔

اک جانگلی دوست کا اکثر ایمرجنسی فون آیا کرتا ہے نت نئے نمبروں سے۔ اس سے پوچھو کہ نمبر کس کا ہے تو بتائے گا کہ کی پتہ ہنے کھویا اے یعنی ابھی چھینا ہے۔ وہ کال کرنے کے لیے فون ادھار مانگنے کو بھی چھیننا ہی بولتا ہے۔ اس کے مسائل اس طرح کے ہوتے ہیں کہ یار بڑا چوھدری بنا ہوا تھا اب اس کے ڈنگر نہ کھولتے تو کیا کرتے۔ اس کی ایسے ہی ناک رگڑنی تھی۔ یا پھر یہ بتائے گا کہ لوگوں میں صبر مک ہی گیا ہے۔ اک ہی تو گاں کھولی تھی اب باہر سے کتے منگوا کر کھرا ڈھونڈ رہے ہیں۔ کی بنے گا دنیا دا۔ یا پھر اطلاع دے گا کہ عاشقوں کے لیے حالات برے ہو گئے، ان کا مشکل دور آ گیا وہ فلانا رات پھڑا گیا تھا مخبری ہونے پر۔ بڑی مشکل سے بھاگا ہے گٹہ نکل گیا ہے اس کا۔ کبھی بتائے گا کہ یار وہ روٹا ویٹر پرانا ہو گیا تھا میں نیا ہی اٹھا کر لے آیا ہوں اک دکان سے پرچہ ہو گیا۔ میں نے بھی بیچ دیا ہے آدھی قیمت پر کر لے جو کرنا ہے۔

مسئلے تو وہ پتہ نہیں کیسے حل کرتا ہے۔ دربار پر پاکپتن ضرور جاتا ہے۔ وہاں اپنے گناہوں زیادتیوں کا اقرار کرتا ہے اپنی ضرورتیں بتاتا ہے۔ بابے سے کہتا ہے کہ یہ تو پھر یاری نہ ہوئی کہ میرا کام نہیں کرتا مولوی نہ بن بابا ہی رہ۔ تمھیں بابا اسی لیے رکھا ہوا کہ میں پھنس جاؤں تو نکال دے۔ ہر سال عرس پر حاضری کے وقت پولیس سے کتنے ڈنڈے بھی تو کھاتا ہوں جب لائین توڑتا ہوں۔ بس وہی کافی ہیں سزا کے لیے بس اب لیٹ نہ کر مجھے فوری بچا لے پھر پھنس گیا ہوں نکال دے یار۔

بابا فرید کے دربار پرزیادہ ترایسے ہی لوگ جاتے ہیں جنہیں اکثر بابے کو وہ بتا کر مدد مانگنی ہوتی ہے جن پر نہ وہ قانون کی مدد لے سکتے ہیں نہ مولوی کی نہ اخلاقیات بتانے سکھانے والے خود ساختہ خدائی افسروں کی۔ کپتان کو بابا فرید کے دربار پر بیٹھا دیکھا تو اپنا دوست یاد آیا بڑی سمجھ بھی آئی افسوس بھی ہوا۔ سوری کپتان ہم اپنے بے رحم تبصروں میں یہ بار بار بھولتے رہے کہ تم بھی ہماری طرح انسان ہی ہو۔ خدا تمھاری مشکلیں آسان کرے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔