یہ آخری اننگ ہے


میں نے 2004 میں اپنی تیسری کتاب لکھی تھی۔ اس کا ٹائٹل تھا۔ آخری اننگ۔ میرا تھیسس یہ تھا۔ جرنیل پاکستان پر اپنے اقتدار کی آخری اننگ کھیل رہے ہیں۔ جنرل مشرف کی آمریت پاکستان میں آخری فوجی حکومت ہو گی۔ اس کے بعد سویلین بالا دستی کا دور شروع ہو گا۔ ایک بات تو اب تک ثابت ہو گئی۔ کہ جنرل مشرف کے بعد کوئی نیا فوجی آمر اب تک اقتدار پر قبضہ نہیں کر سکا۔ ایک بات اور ثابت ہوئی۔ کہ اسٹیبلشمنٹ کمزور پڑ گئی۔ پہلے یہ فرنٹ پر کھیلتی تھی۔ اور عدلیہ سے اپنے اقدامات کی توثیق کرواتی تھی۔ اب یہ عدلیہ کے پیچھے چھپ کر کھڑی ہے۔ ناقابل یقین فیصلوں سے خود کو بھی اور عدلیہ کو بھی کمزور کر رہی ہے۔ پہلے یہ مارشل لاء لگاتے تھے۔ پھر نئے کی دہائی میں حکومتیں بدلنے لگے۔ پھر خالی وزیراعظم کو تبدیل کرنے تک بات پہنچی۔ پارٹی حکومت کو نہ چھیڑ سکے۔ جن لوگوں کا خیال ہے۔ نواز شریف کی نا اہلی سے اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہوئی ہے۔ یا اس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ غلط فہمی میں ہیں۔

جس بھونڈے طریقے سے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ اس نے اسٹیبلشمنٹ کی کمزوری اور خوف کو ننگا کر دیا ہے۔ اس کے بعد کسی نئے وزیراعظم کے ساتھ ایسا رویہ رکھنے سے پہلے انہیں ہزار بار سوچنا پڑے گا۔ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ جتنی جلدی ہماری اسٹیبلشمنٹ یہ حقیقت مان لے کہ وقت تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔ اتنا ہی بہتر ہے۔ سندھ، کراچی، بلوچستان اور پشتون بیلٹ کے بعد اب پنجاب میں بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات پک رہے ہیں۔ اور یہی نواز شریف کی کامیابی ہے۔ ہمارے جرنیلوں کو یہ سوچنا ہو گا۔ پاکستان کا وزیر اعظم ان کا باس ہے۔ سپہ سالار ایک وزیراعظم کی برابری نہیں کر سکتا۔ اس کے برابر نہیں بیٹھ سکتا۔ وہ وزیراعظم کے اختیارات پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ اسے ہر حال میں وزیراعظم کو سیلیوٹ کرنا ہو گا۔

پالیسیاں بنانا منتخب حکومت کا کام ہے۔ یہ قومی مفاد کے نام پر سویلین پر بالا دستی اب مزید دیر جاری نہیں رہے گی۔ مجھے نظر آ رہا ہے۔ پارلیمنٹ اپنی بالا دستی کے لیے اکھٹی ہو رہی ہے اور آئین میں دیے گئے اپنے اختیارات کو عملی طور پر حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جس طرح اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ ہوا۔ تیسری بار وزیراعظم نہ بننے کی شق کا خاتمہ ہوا۔ بی اے کی شرط کا خاتمہ ہوا۔ اٹھارویں ترمیم پاس ہوئی۔ اسی طرح باسٹھ تریسٹھ کا کام تمام ہو گا۔ آرٹیکل ایک سو چوراسی میں ترمیم ہو گی۔ جرنیلوں اور ججوں کی ترقی کے نئے قوانین وجود میں آئیں گے۔ انہیں پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ بنایا جائے گا۔ ان کے بجٹ کا حساب ہو گا۔ اور ججوں اور جرنیلوں کے غیرقانونی و غیر آئینی فیصلوں پر ان کی پکڑ ہو گی۔ میڈیا پر بیٹھ کر جمہوریت اور منتخب وزیراعظم کو گالی نکالنے والوں پر بھی قانون لاگو ہو گا۔ جو لوگ نواز شریف کو ڈرا رہے ہیں۔ خاموشی سے بیٹھے رہو۔ اگر سڑک پر نکلے۔ تو قید کر دیں گے۔ یہ ان کے اپنے اندر کے خوف کا اظہار ہے۔ آنے والے وقت میں یہ تماشا لگے گا۔

پارلیمنٹ قانون بنائے گی۔ اور عدلیہ اسے کالعدم قرار دے گی۔ پارلیمنٹ پھر قانون بنائے گی۔ اور میں آپ کو بتا دوں۔ آخری جیت پارلیمنٹ کی ہو گی۔ اگر آپ پارلیمنٹ کو اٹھائیں گے۔ اور کوئی کیر ٹیکر سیٹ اپ لائیں گے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں آپ کا یہ سیٹ اپ تین ماہ میں اپ سیٹ کر دیں گی۔ ذرا اس منظر کو ذہن میں لائیں۔ جب بلوچ، سندھی، مہاجر، پشتون اور پنجابی لاہور سے ایک لانگ مارچ لے کر نکلیں۔ تو کیا حشر سامانی ہو گی۔ کیا خوبصورت منظر ہو گا۔ جمہوریت جیت جائے گی۔ اب آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہے۔ آپ نے اقتدار پر اپنا قبضہ خود ختم کرنا ہے۔ پارلیمنٹ سے کروانا ہے۔ یا عوام سے کروانا ہے۔ تاریخ کا پہیہ آگے چلتا ہے۔ اور یہ چل رہا ہے۔ اور یہ چل کر رہے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

طارق احمد کی دیگر تحریریں
طارق احمد کی دیگر تحریریں