کھیل کے نام پر فحاشی بند کی جائے


گزشتہ برس ہماری قوم کے مقبول دانشور نے ایک نہایت خطرناک سازش پکڑی تھی جس کی وجہ سے قوم تباہ ہو رہی ہے۔ عام شخص تو اس فحاشی کو دیکھنے سے قاصر رہتا کیونکہ وہ محض ڈیڑھ سیکنڈ میں ہی نہایت تیزی سے گزر گئی تھی مگر ہمارے گرگ باراں دیدہ دانشور نے تاڑ لیا کہ مسئلہ خراب ہے۔ انہوں نے اس لمحے کو پہلے خود سلو موشن میں چلا چلا کر دیکھا اور پھر قوم کو بھی بار بار دکھا کر ثابت کر دیا کہ بندہ اسے سلو موشن میں غور سے بار بار چلا کر دیکھتا رہے تو اس کے ذہن میں گندے گندے خیالات بھر جاتے ہیں جس کا نتیجہ قوم کی لازمی تباہی ہے۔ جو قوم فحاشی کے علاوہ کچھ دیکھتی ہی نہ ہو، وہ کیسے ترقی کر سکتی ہے؟

جی ہاں، یہ وہی مشہور اشتہار ہے جس میں پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم کی ایک کھلاڑی باؤلنگ کرا رہی تھی۔ ہما شما تو اس کے ہاتھ میں موجود گیند کو ہی دیکھ رہے تھے مگر مقبول دانشور کی تیز نگاہیں کہیں اور چھپی ہوئی سازشیں دیکھنے میں مصروف تھیں جن کا سدباب کرنے کی انہوں نے بھرپور کوشش کی مگر بے غیرت پاکستانی حکومت نے خواتین کی کرکٹ ٹیم پر بالخصوص اور خواتین کے کھیلوں پر بالعموم پابندی لگانے سے پہلوتہی کی۔

ایک پاکستانی خاتون کھلاڑی ایک بین الاقوامی مقابلے میں

لیکن وطن عزیز کے معاملات بد سے بدتر ہوتے رہے۔ پاکستان کی چند خواتین پیراک بھی پیدا ہو گئی جو مختلف ملکی و غیر ملکی تیراکی کے مقابلوں میں شرکت بھی کرنے لگیں۔ اگر آپ نے اولمپک دیکھے ہوں اور آپ بھی فحاشی سے متنفر ہوں تو آپ نے پی ٹی وی پر چلنے والے خواتین کے جمناسٹک اور سوئمنگ کے مقابلے نفرت کی نگاہ سے خوب غور سے دیکھے ہوں گے۔ آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ ان خواتین کھلاڑیوں کا لباس کتنا مختصر ہوتا ہے۔ لباس کیا ہوتا ہے، لباس کے نام پر نری تہمت ہوتی ہے۔ کپڑے کی چند دھجیاں ہوتی ہیں۔ اب تصور کریں کہ پاکستان کی نوجوان لڑکیاں ایسا لباس پہن کر ان مقابلوں میں شرکت کر رہی ہیں اور پھر غیرت سے زمین میں گڑ جائیں۔ مگر پاکستان کی بے غیرت حکومت خواتین کے ایسے مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگانے کی بجائے الٹا انہیں کھیلوں میں بھیجتی رہی اور ان کی حوصلہ افزائی پر کمربستہ رہی۔ یہاں تک ہوا کہ ایک ایسی لڑکی تو تو محض 19 برس کی عمر میں تمغہ امتیاز بھی دے دیا گیا۔

اب اس ماریا تورپیکئی وزیر نامی لڑکی کو ہی دیکھ لیں۔ اسے علم تھا کہ سکواش کا ڈریس کوڈ کیا ہے اور ولایت میں جا کر کیسے کپڑے پہن کر کھیلنا پڑتا ہے۔ پھر بھی وہ یہی کھیل کھیلنے پر مصر رہی۔ حالانکہ طالبان نے اسے نہایت پیار سے سمجھایا بھی تھا کہ دیکھو اگر تم باز نہ آئیں تو تمہیں مار ڈالیں گے یا اغوا کر لیں گے مگر صاحب، تریا ہٹ مشہور ہے۔ نہ مانی۔ ضد پوری کرنے کو کینیڈا چلی گئی اور ادھر اب ایسے کپڑے پہن کر کھیلتی ہے جنہیں دیکھ دیکھ کر صالحین پریشان ہوئے جا رہے ہیں۔ بار بار اس پر تاسف کی نگاہ ڈالتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا اسے کوئی شرم حیا نہیں ہے۔
خواتین کو صرف ایسے کھیل کھیلنے کی اجازت ہونی چاہیے جن میں لباس ایسا ہو جو جو درہ آدم خیل سے لے کر کراچی کے فرینچ بیچ تک موجود ہماری قومی اخلاقیات پر یکساں طور پر پورا اترتا ہو۔ حاشا وکلا ہمارا یہ مقصد نہیں ہے کہ ماریا پر ناروا پابندیاں لگا دیں، لیکن اسے خود خیال کرنا چاہیے کہ بچپن سے نوجوانی تک وہ جس حلیے میں وہ کھیلتی رہی ہے، اب بھی اسے ہی اختیار کرے تو بہتر ہے۔

ماریا تورپیکئی پاکستان میں مناسب لباس استعمال کرتی تھی

ہماری رائے میں ایسے تمام کھیلوں پر پابندی لگا دی جانی چاہیے جن میں مختصر یا جسم سے چپکے ہوئے کپڑے پہننے کی شرط لازم ہو یا جن میں کوئی جسمانی ہل جل ہونے کا امکان ہو جس سے فحاشی پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ لڈو، شطرنج، بارہ ٹینی اور ایسے کئی دوسرے معزز کھیل موجود ہیں جن کو کسی ہل جل کے بغیر کھیلا جا سکتا ہے اور صالح مردوں کے جذبات کو اتھل پتھل ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ خواتین کو کھیل کھیلنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ وہ سلائی کڑھائی ہانڈی روٹی کیوں نہیں کرتی ہیں؟ گو کہ کئی دانشور اس میں بھی بجا طور پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ خواتین آٹا گوندھتے ہوئے ہلتی کیوں ہیں۔
لیکن یہ گمبھیر مسئلہ عمیق غور و فکر کا متقاضی ہے۔ سوال یہ ہے کہ صرف خواتین کے کھیلوں پر ہی نامناسب لباس پر گرفت کیوں کی جائے؟ مغرب سے درآمد شدہ بیشتر کھیلوں میں مرد بھی نیکریں اور ٹی شرٹیں پہن کر کھیلتے ہیں۔ کیا ان کی پکڑ نہیں ہونی چاہیے؟ کیا وہ ستر کی شرط پوری کرتے ہیں؟ اس باب میں اگر ہم امارت اسلامیہ افغانستان کے سنہری دور سے راہنمائی لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ دیگر امور زندگی کی مانند انہوں نے اس معاملے میں بھی دورِ حاضر کی امت کے لئے روشن مثالیں چھوڑی ہیں۔

جولائی 2000 میں پاکستانی شہر چمن کے ینگ افغان کلب کی فٹ بال ٹیم کو قندھار میں میچ کی دعوت دے کر بلایا گیا۔ اب طالبان کا خیال تو غالباً یہ تھا کہ یہ نوجوان بلوچی قبائلی انداز کی کھلے گھیر والی شلوار قمیض میں ملبوس ہو کر فٹ بال کھیلنے جائیں گے مگر بدقسمتی سے یہ نوجوان مغرب کی سوچ سے گمراہ ہو چکے تھے۔ وہ نیکروں اور شرٹوں پر مشتمل نہایت فحش لباس پہن کر میدان میں اترے تو قندھار کے قاضی صاحب کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور ان کا ایک ہاتھ کرسی کے ہتھے پر جم گیا۔ انہوں نے شرعی سپاہیوں کو حکم دیا کہ پکڑو ان مغرب زدہ ملعونوں کو۔ قاضی صاحب کو اس حال میں دیکھ کر میدان میں ہلڑ مچ گیا اور نوجوان ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ ٹیم کے میدان سے باہر بیٹھے پانچ نوجوان تو ہنگامے کا فائدہ اٹھا کر اپنی عزت بچا کر فرار ہو گئے مگر میدان میں موجود بارہ کھلاڑی پکڑے گئے۔ طالبان نے ان کی ٹنڈ کر کے ان کو خوب بے عزت کیا اور پھر ان کو پاکستان واپس کیا۔

اصلاح شدہ شرمسار پاکستانی کھلاڑی

کھیلوں کی اصلاح اور ان میں فحاشی کے سدباب کے لئے پاکستان میں مقیم طالبان ماہرین سے مشورہ اور امداد طلب کیے جا سکتے ہیں۔ ہمیں بھی اس پر غور کرنا چاہیے اور اگر ہاکی، فٹ بال، سکواش اور ٹینس وغیرہ کے مرد کھلاڑی اپنا لباس ہماری قومی امنگوں کے مطابق نہیں پہنتے تو ان کو زبردستی پکڑ کر ان کی ٹنڈ کرا دی جائے اور ان پر تاحایت پابندی عائد کر دی جائے۔ مگر کبڈی کے کھلاڑیوں کے ضمن میں خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہیں پکڑنے کی کوشش میں زور زبردستی کرتے ہوئے ان کا لنگوٹ کھل گیا تو واقعی بہت فحاشی پھیل جائے گی۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 759 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar