بلوچستان میں کرپشن کی کہانیاں


سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نا اہل قرار دے کر فوری عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ یہ تاریخی فیصلہ ہے اس تاریخی فیصلے نے بلوچستان کے ایم پی اے اور ایم این اے میں ہلچل مچا دی ہے جبکہ بلوچستان کے صوبائی و قومی اسمبلی کے ممبران اس پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہےکیا ہم سب آئین کے 62 اور 63 پہ اترتے ہے یا نہیں؟

اسی پریشانی سے نکلنے کے لئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے درجنوں سیاستدانوں اپنے بنک اکاؤنٹ اپنے کسانوں منشیوں گھریلو ملازمین کے نام کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے جبکہ سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریڑی جنرل جہانگیر ترین اور پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف چلنے والے کیس میں باورچی اور مالی کے بنک اکاؤنٹ میں سات سات کروڑ روپے ہونے کی وضانت سپریم کورٹ کی جانب سے طلب کرنے پر بلوچستان کے سیاستدانوں کو پریشانی کھانی شروع ہو گئی ہے (بحوالہ روزنامہ آزادی کوئٹہ)۔ کہیں ہمارے خلاف آئین کی آرٹیکل 62 اور 63کے تحت کوئی شہری عدالت میں درخواست نہ دے دیں ۔ جبکہ وزیراعظم نوازشریف کو بھی اسی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نا اہل قرار دیا گیا۔

یقین کریں تاریخ ہمارے بارے میں کچھ نہیں لکھے گی لکھنے کے لئے ہزاروں لاکھوں موضوعات تاریخ میں موجود ہے جو دلچسپ بھی ہیں اور عجیب وغریب بھی۔ عجب کرپشن کی غضب کہانی بلوچستان کے ایک صوبائی وزیر کے سیکرٹری کے گرد گھومتی ہے اگر سپریم کورٹ بلوچستان کے صادق اور امین تلاش کریں تو کون بچے گا شاید کوئی بھی نہ بچ سکیں۔ حتی کہ نیب نے کوئٹہ کے احتساب عدالت میں میگا کرپشن کیس کے ملزم سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق ریسانی پر ڈیڑھ ارب روپے کی بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا ہے وہاں ان کے گھر سے 65 کروڑ 18 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ملکی اور غیر ملکی کرنسی کی برآمدگی کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا۔ مشتاق ریسانی کے گھر سے ملنے والی رقم بلوچستان حکومت کے لئے ایک بڑا المیہ ہے حتاکہ پیسے گنتی کرنے والی مشن گن گن کے تھک گئی تھی کہ آخر اتنی رقم کہاں سے آئی ہے اور کیسی آئی ہے۔

بدعنوانی کے اس بڑے میگا سکینڈل میں بلوچستان کے سابق مشیر برائے خزانہ اور نیشنل پارٹی کے رہنما میر خالد لانگو بھی تحقیقات مطلوب ہیں۔ جبکہ اس میگا کرپشن کیس میں خالق آباد کے اسسٹنٹ اکاونٹ آفیسر ندیم اقبال کو بھی خرد برد کے الزامات شامل ہے مشتاق ریسانی کے گھر کروڑ روپے ملے تھے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بدعنوانی کے ایک بڑے سکینڈل کے مرکزی ملزم اور سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو نیب کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ان پر جہاں نیب نے ڈیڑھ ارب روپے کی بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا ہے وہاں ان کے گھر سے کروڑ لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ملکی اور غیر ملکی کرنسی کی برآمدگی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے اور پیسے بھی عوام کو دیکھائے گئے ہیں اتنی بڑی کرپشن کیسے ہوئی کیوں ہو کس کس نے اس میگا کرپشن میں حصہ لیا یہ وقت بتائیں گا۔

جبکہ بلوچستان کے چیف سیکٹری فنانس جناب مشتاق رئیسانی کا کہنا ہے کہ جو پیسے میرے گھر سے برآمد ہوئے ہیں وہ میرے بیٹوں کے ہیں۔ مشتاق رئیسانی کے بڑے بیٹے کا کہنا ہے کہ یہ پیسے ہم نے سن 2010 میں اپنی ایک زمین بیچ کر حاصل کیے تھے مشتاق رئیسانی کی بیٹی کا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی ایک لاکھ ایک ساتھ نہیں دیکھے یہ کروڑوں برآمد ہونے کا الزام پتا نہیں کیسے لگا رہے ہیں۔ پتا نہیں کہاں کہاں سے پیسے لا رہے ہیں اور الزام لگا رہے ہیں رئیسانی کے چھوٹے بیٹے کا کہنا ہے کہ ہم تو کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ اتنے پیسے حقیقت میں ہونا تو دور کی بات ہمیں تو خواب میں بھی اتنے پیسے نہیں آئے۔

بلوچستان میں مشتاق رئیسانی میگا کرپشن کیس کے بعد اب ایک اور بڑا میگا کرپشن کا معاملہ سامنے آگیا ہے، قومی احتساب بیورو کے ترجمان کے مطابق تحصیلدار کوئٹہ ریونیو آفیسر محمد جان، پٹواری محمد الیاس، عبدالواحد اور زمینوں کے بیوپاری سید سلمان جان سے ملی بھگت کر کے 3 کروڑ مالیت کی اراضی 48 کروڑ کی ظاہر کے کے سرکاری خزانے کو 45 کروڑ کا نقصان پہنچایا نیب بلوچستان کے ترجمان کے مطابق نیب نے کروڑوں روپے کے اسکینڈل کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں اعدادوشمار کے گورکھ دھندے کا سراغ لگا لیا ہے۔ بلوچستان میں عجب کرپشن کی غضب کہانی سیکڑوں ہے مگر یہ کہانی صرف اور صرف کاغذات تک ہی محدود ہوتی ہے۔ جس طرح بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت ٹریفک سگنل کے بغیر چلتا ہے اسی طرح بلوچستان کرپشن کے ساتھ ساتھ چلتا ہے نہ اس صوبے کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ ہے نہ کرپشن کرنے کی پرواہ ہے اس سب کے ذمہ دار کون ہے ہم سب۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔