صدر ممنون حسین نے جمال نقوی کے بارے میں کیا فرمایا؟


ہمارے ملک میں سیاسی اور آئینی شعور کی سطح زیادہ بلند نہیں۔ تعلیم یافتہ طبقے میں بھی بہت کم ہیں جو پارلیمانی اور صدارتی نظام حکومت کا فرق سمجھ سکیں۔ سمجھیں بھی کیسے؟ 1956 سے دستور کے نفاذ، بحالی اور تعطل کا جو کھیل شروع ہوا، اس میں ہم نے 1973 تک کبھی وزیر اعظم کا لفظ استعمال کیا اور نہ کسی کو وزیر اعظم کہنے کی نوبت پیش آئی۔

پہلے صدر سکندر مرزا تھے، دوسرے ایوب خان اور تیسرے یحیی خان۔ اب کس کو یاد ہے کہ اس دوران چودھری محمد علی، حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگر اور فیروز خان نون نام کے وزرائے اعظم بھی گزرے ہیں۔ ایک دستور کے تحت صدارتی اور پارلیمانی نظام کا فرق ہم نے پہلی بار اگست تہتر میں جانا۔ جب چودھری فضل الہی مملکت کے سربراہ یعنی صدر قرار پائے اور ذوافقار علی بھٹو نے چیف ایگزیکٹو کے طور پر وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔ خدا کے فضل و کرم سے وہ بھی ہنگامہ خیز دن تھے۔ حکومت کو اپنی حدود کا خیال تھا اور نہ حزب اختلاف اپنے کردار کو پورے طور پر سمجھ سکی۔ ہم چاہتے تھے کہ بھٹو صاحب سے کوئی شکایت پیدا ہو تو انہیں صدر فضل الہی چوہدری آنکھیں دکھائیں۔ اور اپنے پالے میں رہنے کی ہدایت کریں۔ آئینی طور پر یہ صدر کا منصب نہیں تھا۔

ہماری یہ خواہش تب پوری ہوئی جب ہمیں صدر کے طور پر ہمیں ضیاالحق، غلام اسحق خان، فاروق لغاری اور پرویز مشرف سے واسطہ پڑا۔ یوں تو عام دنوں میں بھی گرج چمک جاری رہتی تھی لیکن پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت کا پارلیمینٹ سے خطاب ایک سالانہ تماشا قرار پایا۔ صدر کی تقریر میں حکومت سے عدم اطمینان کے اشارے ڈھونڈے جاتے تھے اور یہ اندازے لگائے جاتے تھے کہ اٹھاون ٹو بی کو استعمال کرنے میں کتنا عرصہ باقی ہے۔

ہماری بدقسمتی سمجھیے یا محض اتفاق کہ تقریباً تیس برس تک یہ امید باقاعدگی کے ساتھ تعبیر سے ہمکنار ہوتی رہی۔ ایک مختصر سا عرصہ صدر رفیق تارڑ کا تھا اور پھر اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد آصف زرداری نے صدر کے اختیارات کو دستور لکھنے والوں کے نصب العین سے ہم آہنگ کیا۔ ہم ان مختصر وقفوں کے دوران زیادہ خوش نہیں رہے۔ ابتدا ہم نے “صدر فضل الہی کو رہا کرو” کے نعروں سے کی تھی اور آخری خبریں آنے تک ہم صدر مملکت ممنون حسین کے نام کو اطاعت کے غیرضروری اشاروں سے منسوب کرتے تھے۔

صدر ممنون حسین دستور کے مطابق منتخب ہوئے ہیں اور ستمبر 2013ء سے آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آئین پر عمل کرنا ہم کوئی قابل تعریف بات نہیں سمجھتے۔ اس دوران صدر مملکت نے جہاں اور بہت سے اچھے کام کیے۔ ان کا ایک کارنامہ یہ بھی تھا کہ وطن عزیز کے انمول ہیروں کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کر کے یہ پیغام دینا کہ پاکستان کی ریاست اپنے حقیقی محسنوں کو پہچانتی ہے۔

ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ صدر ممنون حسین اردو کے ممتاز ترین ادیب مشتاق احمد یوسفی کے گھر چل کر گئے تھے، ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔ ان کی صحت اور درازی عمر کے لیے دعا کی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں معراج محمد خان کا نام بہت اوپر آتا ہے۔ مشکل نظر آتا ہے کہ بطن گیتی سے ایسا سچا اور مخلص سیاسی دماغ پھر پیدا ہو۔ ان کی طویل بیماری کے دوران صدر ممنون حسین ان کے دولت خانے پر تشریف لے گئے اور ان کی عیادت کی۔ آج تین اگست 2017 کو پاکستان میں بائیں بازو کے رہنما اور استاد جمال نقوی کا انتقال ہو گیا ہے۔ اسی برس چار فروری کو صدر ممنون حسین نے کراچی میں جمال نقوی کے گھر جا کر ان کی عیادت کی تھی۔ آئیے دیکھتے ہیں اس موقع پر صدر نے جمال نقوی مرحوم کو کن لفظوں میں خراج تحسین پیش کیا؛

صدر مملکت ممنون حسین نے ہفتہ (4 فروری 2017) کو ممتاز دانشور پروفیسر جمال نقوی کے گھر جاکر مزاج پرسی کی۔ صدر مملکت نے اس موقع پر کہا کہ پروفیسر جمال نقوی جیسے لوگ معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں جنہوں نے ملک کی ترقی اور جمہوری قدروں کے فروغ کے لیے بیش بہا قربانیاں دیں ۔ انہوں نے کہا کہ قومی زندگی میں بہتری کے لیے خواب دیکھنے والوں کااحترام کیا جانا چاہئے کیونکہ اچھی قدروں کے فروغ کے لیے معاشرے کے بزرگوں کی قدر افزائی ضروری ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔