سوشل میڈیا کی جے آئی ٹی اور ہراساں عورت


بات شروع ہو کر گلالئی کے الزامات سے پہنچی ہے اس کی کھلاڑی بہن تورپکائی کی نیکر تک۔ گلالئی صاحبہ کے الزامات کی سنجیدہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ مگر یہاں تو سوشل میڈیا سے لیکر ٹی وی اینکرز کے پروگراموں تک اک تماشہ برپا ہے۔ جب بھی کوئی خاتون کسی جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے معاملے کو اٹھاتی ہے اسے کئی مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ صرف اس معاملے کو اٹھا لینا ہی ہمارے معاشرتی ماحول میں بہت بہادری کی بات ہے۔یہاں عورت کو چھیڑا جائے، ہراساں کیا جائے، منہ پر تیزاب پہینک دیا جائے، 23 بار چاقو مارا جائے، جلا دیا جائے، طلاق ہو جائے یا بن بیاہی رہ جائے، سوال سننے والے پہلا یہی کرتے ہیں۔ کیا لڑکی میں کوئی خرابی تھی؟

پہلے تو بے شرمی کا الزام کہ کیسےاپنے منہ سے بتایا ایسا شرمناک عمل، یعنی کہ جو ہراساں کرے وہ نہ ہو شرمندہ، جو آواز اٹھائے وہ بے شرم۔ یعنی مظلوم کو ہی ظالم قرار دے کر پوچھا جاتا ہے کہ ثابت کرو پہلے کہ تم مظلوم ہو۔ پھر ثابت کرو کہ تمہیں جو ہراساں کیا گیا تو کیا تم نے نہیں بہکایا ظالم کو، تمہاری بے شرمی سے تو لگتا ہے کہ تم ہی نے بہکایا ہو گا۔ ہراسمنٹ کے کیسیز میں یہ سوال بھی نظر سے گزرا کے اگر ہراساں کچھ سال پہلے کیا گیا تو اب کیوں آواز اٹھائی۔ الزام کی حقیقت سے قطع نظر یہ ایک احمقانہ خیال ہے۔ جنسی جرائم کا شکار لڑکیاں ماحول، ذہنی کرب، شرم اور خوف کے باعث بہت کیسز میں کئی کئی سال بعد اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے متعلق بات کرتی ہیں، کئی تو کبھی بات نہیں کرتیں اور خاموشی سے سہ جاتی ہیں۔

 جہاں تک مجھے علم ہے۔ قران نے گناہوں کی سزا لکھتے ہوئے، مرد کو کوئی خصوصی تخصیص نہیں کی۔ دونوں کی سزا جنس کے معاملات میں حد ہے اور برابر ہے۔ پھر عورت کا کردار کانچ کا گھر اور مرد کا کردار مضبوط قلعہ کیوں بنا رکھا ہے۔ ایک ٹی وی اینکر نے یہ بھی خیال پیش کیا کہ اگر ارادہ شادی کا ہو تو اس مرد کو آٹو پر متوقع منکوحہ کو ہراساں کرنے کا لائیسنس مل جاتا ہے۔ چاہے متوقع دولہا ساٹھا پاٹھا ہی کیوں نہ ہو۔

ہمارے معاشرے میں جب بینظیر بھٹو جیسی سیاسی وراثت کی حامل عورت نے سیاست میں قدم رکھا تو اس کی کردار کشی کی گئی اور اس کے مغربی تعلیم، طرز زندگی کو لیکر کتنا ہی کیچر اچھالا گیا۔ فاطمہ جناح جن کو مادر ملت کہتے پاکستانی اب تھکتے نہیں، ایوب خان نے ان کو نہہیں بخشا تو عام عورتیں کس کھیت کی مولی ہیں۔ عورتوں کو ہراساں کرنے کے اس حمام میں یہ پورا معاشرہ ننگا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں جو اب لٹھ لیکر گلالئی کی حامی بنی ہوئی ہیں ان کا اپنا ٹریک ریکارڈ شرمناک ہے۔ حکومتی جماعت کی روح رواں مریم ایک عورت ہیں انہی کے دور کے دفاع کے ناقابل دفاع وزیر عورتوں کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں۔ پھر اپوزیشن کو لے لیں۔ پی ٹی آئی کے پنڈی وال نامزد وزیر اعظم اپنی ذو معنی باتوں کے لیے مشہور ہیں جن میں عورت کے بارے خیالات بھی آتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے خود جتنی عورتوں کی کردار کشی اب بشمول گلالئی کی ہے، اس کی گواہی سوشل میڈیا پر موجود ہے۔

مزید دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ان معاملات پر عورتوں کو ہی عورتوں کے خلاف کھڑا کر لیا جاتا ہے۔ الزام کی تحقیق ضروری ہے، مگر یہ پی ٹی آئی کی عورتوں کا مجمع غیر ضروری ہے جو یہ بتا رہا ہے کہ ہم زیادہ پارسا ہیں لہذا جس عورت کو ہراساں کیا گیا وہ یا تو بدکردار ہے یا جھوٹی ہے۔ چونکہ ہماری سیاسی جماعتیں عورتوں کو طاقت کے کھیل سے باہر رکھتی ہیں۔ اس وقت ڈایئریکٹ اتنخاب کے نتیجے ہیں میں منتخب ہونے والی خواتین پارلیمینٹیرین بہت کم ہیں۔ سیاسی جماعتی کوٹہ کے باعث زیادہ تر خواتین سیاست میں اترتی ہیں اور سینئر سیاستدان عورتوں کا موجودہ مینٹورنگ سسٹم نہ ہونے کے باعث ہراسمنٹ سے کوئی مناسب حفاظت میسر نہیں ہوتی۔ اسی طرح سپیشل سیٹ پر آنے والی زیادہ تر خواتین کی سیاست ان کے مرد رشتہ دار چلا رہے ہوتے ہیں۔ فنڈز اور پراجیکٹ کم ہی ملتے ہیں اور یوں یہ خواتین سیاسی جماعت کا سب سے کمزور حصہ ہوتی ہیں۔ ان تمام باتوں کی وجہ سے یہ بالکل ممکن ہے کہ یہ ہراساں ہوں اور رپورٹ نہ کر پائیں۔

ہمارے معاشرے کے تحت الشعور میں یہ بات کھب گئی ہے کہ مرد کے نامناسب جنسی رویے کی وجہ عورت خود ہے۔ اسی لیے جب بھی کہیں کوئی عورت مرد کے نامناسب جنسی رویے پر آواز اٹھاتی ہے تو اس کی بات پر شک کیا جاتا ہے۔ مناسب رویہ گلالئی کے کردار پر کیچر اچھالنا، الزام در الزام اور اس کی بہن کو اس معاملے میں گھسیٹنا نہیں ہے۔ مناسب رویہ ہے کہ الزام کی حقیقت مناسب فورم پر جانچی جائے۔ نا کہ سزا و جزا کے فیصلے سوشل میڈیا کی جے آئی ٹی میں ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قرۃ العین فاطمہ

قرۃ العین فاطمہ آکسفورڈ سے پبلک پالیسی میں گریجویٹ، سابق ایئر فورس افسراور سول سرونٹ ہیں۔

quratulain-fatima has 9 posts and counting.See all posts by quratulain-fatima