اپنی سیاسی جماعتوں سے نالاں خواتین رہنما


حالیہ دنوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کی دو خواتین رہنماؤں کی جانب سے اپنی جماعت کو خیرباد کہنے کے بعد ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ملکی سیاسی جماعتوں میں خواتین کو فعال کردار ادا کرنے کے مناسب موقعے نہیں فراہم کیے جاتے۔

 

خواتین سیاست دانوں کی جانب سے یہ شکایت بھی سننے کو ملتی ہے کہ ان کو اپنی ہی جماعت کے مرد اراکان کی جانب سے مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔

 

ایسے رویوں کے باعث اکثر خواتین سیاستدان اپنی جماعتوں کو ترک کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

 

ایک نظر چند معروف خاتون رہنماؤں پر جنھوں نے حال ہی میں اپنی جماعتوں سے علیحدگی اختیار کی ہے۔

 

ثنا ناز بلوچ

 

کراچی سے سیاست کا آغاز کرنے والی نوجوان سیاسی رہنما ناز بلوچ وہ پہلی خِاتون تھیں جنھیں تحریکِ انصاف نے کراچی سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے ٹکٹ دیا۔ اگرچہ وہ انتخاب جیت کر کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن دھرنے ہوں یا پی ٹی آئی کا کوئی بھی ایونٹ اور خاص طور پر میڈیا میں نظر آنے والی سیاسی جنگ اور ٹی وی پروگراموں میں پارٹی کا دفاع، ہر پلیٹ فارم پر ناز بلوچ پیش پیش نظر آتی رہیں۔

 

ناز بلوچ کو پہلے پی ٹی آئی کے میڈیا ونگ میں مشیر کی ذمہ داریاں دی گئیں پھر وہ مرکزی نائب صدر منتخب ہوئیں۔ پارٹی کو چھوڑنے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے ناز بلوچ نے یہ بھی شکایت کی کہ تمام تر فیصلوں میں پارٹی کے مرد حضرات کی نسبت عورتوں کو نمائندگی نہیں دی جاتی۔

 

عائشہ گلالئی

 

پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے بھی حال ہی میں اپنی جماعت چھوڑنے اعلان کیا ہے۔ عائشہ گلالئی کا شمار تحرکِ انصاف کے ابھرتے ہوئے نوجوان سیاست دانوں میں ہوتا تھا۔ پارٹی کو چھوڑنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انھوں نے بھی اس بات کا ذکر کیا کے پارٹی میں خواتین اور عام کارکنوں کو آگے بڑھنے میں پارٹی قیادت کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی لیڈرشپ با صلاحیت نوجوان قیادت سے حسد کرتی ہے۔ انھوں نے پارٹی سربراہ عمران خان پر عورتوں سے ناروا سلوک کا بھی الزام عائد کیا۔

 

فردوس عاشق اعوان

 

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے حال ہی میں اپنی جماعت کو خیرباد کہہ کر پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ فردوس عاشق اعوان کا شمار ان چند خواتین سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو براہراست انتخاب میں کامیابی حاصل کر کے قومی اسمبلی تک پہنچی ہیں۔

 

پاکستان کی پارلیمنٹ میں زیادہ تر خواتین ارکان مخصوص نشتوں پر نامزد ہو کر ایوان تک پہنچتی ہیں۔

 

ارم فاروقی

 

متحدہ قومی موومنٹ کی سابق رکن سندھ اسمبلی ارم فاروقی نے کچھ عرصہ قبل اپنی جماعت کو چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ اب انھوں نے باضابطہ طور پر پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

ارم فارقی کا موقف رہا ہے کہ ان کی اپنی سابق جماعت کی لیڈر شپ کے حوالے سے کچھ تحفظات تھے۔ ان کے مطابق ان کو دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی پیشکش کی گئی تھیں تاہم انھوں نے تحریکِ انصاف کی لیڈرشپ اور پالیسوں سے متاثر ہو کر جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 365 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp