عمران خان کیس: آف شور کمپنی اثاثہ تھی یا نہیں؟


سپریم کورٹ میں عمران خان کی نا اہلی کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران نئے سوالات اٹھ گئے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے سامنے وکیل اکرم شیخ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز کے پارٹی فنڈز معاملے میں گزارشات کی تھیں اس میں ایک چیز کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ عدالت اپنے انیس سو اکیانوے میں دیے گئے فیصلے کو بھی دیکھ لے، بے نظیر بھٹو کی جانب سے پیپلز پارٹی کی رجسٹریشن کے لئے لائی گئی اس درخواست میں سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو ملنے والے فنڈز پر بھی تفصیلی بات کی ہے اور اس فیصلے میں اہم نکات واضح کرکے نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ چون کہ سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں آکر ملک کے لئے پالیسی بنانا ہوتی ہے اس لیے ان کے فنڈز کے ذرائع معلوم ہونا ضروری ہیں۔

وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف کو بطور سیاسی جماعت ممبرشپ سے فنڈز بہت کم ملتے ہیں اس کے فنڈز کا 80 فیصد حصہ عطیات پر مشتمل ہے، دو ہزار تیرہ میں تحریک انصاف کو چالیس کروڑ کے فنڈز ملے، پھر سینتالیس کروڑ دکھائے گئے ہیں اور ایک سال یہ رقم بانوے کروڑ تک پہنچی ہے۔ اس لیے ان فنڈز کی تحقیق ضروری ہے تا کہ ان کے ذرائع کا معلوم ہوسکے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ تحریک انصاف والے کہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے ملنے والے فنڈز کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا، صرف دو ہزار پندرہ کے بعد ملے فنڈز کو پرکھا جاسکتا ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ تحریک انصاف کسی سال کے فنڈز کی پڑتال کے لئے راضی نہیں، ان کو کروڑوں کے فنڈز ملتے ہیں، مانتا ہوں بہت مقبول سیاسی جماعت ہوگی مگر فنڈز کے ذرائع بتانا ضروری ہیں، یہ آئینی تقاضا ہے اور ملک کے مستقبل کے لئے بھی ضروری ہے کہ معلوم کیا جائے سیاسی جماعت کو فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے بنائے گئے فارم سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے، فارم میں وضاحت ہونا چاہیے کہ فنڈز کے مقامی اور بیرونی ذرائع کے لئے الگ خانے ہوں، پی ٹی آئی کو باہر سے ملنے والی رقم کسی کی جیب نہیں بلکہ اکاؤنٹس میں جاتی ہے یہ بھی مدنظر ہونا چاہیے۔

وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے انیس سو اکیانوے میں گیارہ رکنی بنچ کے فیصلے کا حوالہ دے رہا ہوں، عدالت نوٹ کرے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ چون کہ درخواست گزار سیاسی جماعت سے ہے اس لیے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مسلم لیگ ن میں کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے کہ فنڈز دینے والوں کی تمام تفصیلات موجود ہوں؟ وکیل نے کہا کہ بطور شہری عدالت آئے ہیں، سیاسی جماعت کے نمائندے نہیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل ابراہیم ستی نے عدالت میں کھڑے ہوکر کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے غیرملکی ممنوعہ فنڈز نہ لینے کے بیان حلفی جمع کرائے ہیں۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ اب آف شور کمپنی معاملے پر جوابی دلائل کا دوبارہ آغاز کرتا ہوں۔ نیازی سروسز لمیٹڈ کمپنی بھی اثاثہ تھی جو اکتوبر دوہزار پندرہ میں تحلیل ہوئی، عمران خان ٹیکس استثنا اسکیم سے کمپنی کے فلیٹ کو ظاہرکرکے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے، عمران خان نے ٹیکس اسکیم میں نیازی سروسز کمپنی کو بطور اثاثہ بھی ظاہر نہ کیا جو غلط بیانی ہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ کمپنی کے قانونی اور بینفیشل مالک میں فرق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بینیفشل اونر کی تعریف بلیک س لاءڈکشنری میں موجود ہے۔ فلیٹ کی ملکیت کمپنی کے نام رکھی جاتی ہے مگر اصل مالک اثاثے رکھنے والا ہوتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ فلیٹ بیچنے کے بعد کمپنی کا کارپوریٹ ڈھانچہ برقرار رکھا گیا، یہ شیل( کھوکھلی) کمپنی بھی مالیت رکھتی ہے۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ اس کی مالیت نو پاؤنڈ تھی۔ وکیل بولے کہ نو پاؤنڈ بھی بڑی رقم تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم شیل کمپنیوں اور اس کارپوریٹ کے ماہر نہیں اس لیے اتنی تفصیلات نہیں سمجھ سکتے۔ وکیل بولے کہ عمران نے نیازی سروسز بنائی اور اس کے شیئرز بہنوں کے نام رکھے مگر فائدہ اس نے خود اٹھایا، اصل سوال یہی ہے کہ کمپنی کی ملکیت اور فائدہ کس کو ملا، وہ عمران خان تھے۔ کارپوریٹ کمپنی جتنی بھی چھوٹی ہو اثاثہ ہے، جب بیچی جاتی ہے تو فائدہ ٹرسٹی نہیں اصل مالک کو ہوتا ہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ اس نکتے کو نوٹ کر لیا ہے کہ شیل کمپنی کی ملکیت کو بطور اثاثہ ظاہرکرنا بھی ضروری تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے دلائل تین نکات نوٹ کیے ہیں، یہ کہ آف شور کمپنی فلیٹ کی مالک تھی اس لیے عمران خان سنہ دوہزار میں ٹیکس استثنا اسکیم میں اسے ظاہر کر کے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے اور فلیٹ بیچنے کے بعد بھی کمپنی اثاثہ تھی، اگر فلیٹ کو اثاثہ ظاہر کیا تھا تو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھاتے وقت کمپنی کو بھی بطور اثاثہ دکھایا جانا ضروری ہے۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ لندن فلیٹ چودہ مارچ دو ہزار تین کو چھ لاکھ نوے ہزار پاؤنڈ میں فروخت کیا گیا۔ فلیٹ بکنے سے تمام رقم نیازی کمپنی کے اکاؤنٹس میں گئی لیکن آج تک سپریم کورٹ کو اس کی دستاویزات نہیں دی گئیں۔ نیازی کمپنی نے فلیٹ کے کرائے کی مد میں دو لاکھ آٹھ ہزار پاؤنڈ وصول کیے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ فلیٹ کرائے کے لئے لندن کی عدالت سے رجوع کیا گیا تھا مگر کرایہ دار نے ساری رقم ادا نہیں کی تھی۔

وکیل بولے کہ عمران خان کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات عدالت کے سامنے موجود ہیں جائزہ لیاجائے تو معلوم ہو جائے گا، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پاکستانی شہریوں کے لئے تھی، نیازی کمپنی ا س سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی تھی، دوسری جانب اس بات سے قطع نظر کی یہ مقامی کمپنی نہیں تھی عمران خان کے لئے ضروری تھا کہ اس کو بطور اثاثہ ظاہرکرتے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ نیازی کمپنی کو فلیٹ بیچے جانے کے برسوں بعد تک زندہ رکھا گیا مگر کیا اس کا کوئی اور اثاثہ بھی تھا اس حوالے سے عدالت میں ثبوت لانا درخواست گزار کے ذمے تھا۔ وکیل نے کہا کہ لندن میں کمپنی کو زندہ ر کھنے پر سالانہ چھ ہزار پاؤنڈ لگتے ہیں، اسی طرح کمپنی کے ٹرسٹیز کو بھی سالانہ پیسے ادا کرنا پڑتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ اس کو ثابت کرنے کے لئے دستاویزات ریکارڈ پر لائیں۔ وکیل بولے کہ جب عمران خان کمپنی کو دوہزار پندرہ تک زندہ رکھے جانے کو مانتے ہیں تو دستاویز بھی عدالت اسی سے مانگے، اس سے پہلے بھی تمام دستاویزات عدالت کی ہدایت پر لائی گئیں۔ اگر معاملہ کھلا اور شفاف ہو تو شبہات پیدا نہیں ہوتے، کمپنی کو زندہ رکھنے جانے کا ثبوت نہیں لاسکتا، برٹش ورجن آئی لینڈ سے تو جے آئی ٹی جواب نہیں لا سکی، مجھے وہ رسائی کہاں دیں گے۔ میرا مقدمہ تو یہ ہے کہ اس معاملے میں عمران خان کی صداقت وامانت پر سوال اٹھتے ہیں۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ صادق وامین کا لفظ بہت عظیم شخصیت کے لئے استعمال ہوتا ہے، اچھا کیا کہ آئین سازوں نے یہ الفاظ دستور پاکستان میں شامل نہیں کیے۔

اس کے بعد وکیل اکرم شیخ نے عمران خان پر مصنف کرسٹوفر سین فورڈ کی کتاب سے حوالے پیش کیے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ان کی آمدنی انیس سو ستتر اٹھہتر میں کتنی تھی۔ وکیل بولے کہ کتاب کے مصنف کی تحقیق کے مطابق عمران خان اس وقت ہر طرح کی کرکٹ سے صرف ساڑھے چار ہزار پاؤنڈ ماہانہ کماتے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے اصل دستاویزات کو دیکھنا ہے، کتاب کی تصدیق کیسے کریں گے؟ یہ کسی ایک پارلیمنٹیرین کا مقدمہ نہیں، کل کو مزید بھی آئیں گے تو اس طرح کی کتابوں کے حوالے پر فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ کا الزام لندن فلیٹ منی لانڈرنگ کی رقم سے خریدنے کا تھا، آپ نے درخواست میں یہ الزام نہیں لگایا کہ لندن فلیٹ کے لئے رقم پاکستان سے لے جائی گئی۔

وکیل نے کہا کہ میرا یہ الزام ہو ہی نہیں ہوسکتا کیونکہ میرا پاس ثبوت نہیں۔ یہاں صرف عمران خان کی دستاویزات میں غلط بیانی کی نشاندہی کر رہا ہوں، عدالت کی عظمت اور وقار کو ملحوظ خاطر نہ رکھتے ہوئے غلط ریکارڈ پیش کیا گیا، ان دستاویزات کا کوئی سر پیر نہیں، کیا یہ اس قابل تھیں کہ اتنی بڑی عدالت میں جمع کرائی جاتیں، عمران خان نے دستاویزات میں انیس سو ستتر کے دوران آسٹریلین ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ کو برابر بتایا ہے جو کہ غلط بیانی ہے، یہ دستاویز صداقت وامانت کے معیار پر نہیں۔ پھر بولے کہ یہ سارامعاملہ پانامہ کی آف شور کمپنیوں سے شروع ہوا تھا، کمپنی بنانا قانونی ہوسکتا ہے مگر ان کو ظاہر نہ کرنا صداقت کے منافی ہے۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ اب بنی گالہ جائیداد پر جوابی دلائل شروع کرتا ہوں۔ کہا کہ بنی گالہ کی جائیداد خریداری پر عمران خان نے عدالت میں چار موقف بدلے، زمین بیوی کے لئے خریدنے کاجواب جمع کرایا، پھر بتایا کہ بیوی کو تحفے میں دی، پھر کہا کہ بنی گالہ کی زمین جمائما کی رقم سے خریدی، پھر تحریری موقف آیا کہ جمائما سے رقم ادھار لے کر زمین خریدی۔ اب عدالت کو بتایا گیا کہ ادھار بھی براہ راست نہیں لیا بلکہ بریج فنانس یعنی راشد خان کے ذریعے لیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ ٹیکس بچانے کے لئے عمران خان نے زمین جمائما کے نام پر رکھی۔ راشدخان کے اکاؤنٹ میں پیسے منگوانے کی وجہ یہ ظاہر کی گئی کہ اس دوران عمران خان پاکستان میں نہیں تھے، عدالت عمران خان کا پاسپورٹ اور ٹیکس ریکارڈ منگوائے تو معلوم ہوجائے گا کہ عمران اس عرصے میں کہاں تھے۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ٹیکس ریکارڈ اس کیس میں کیوں لایا جائے، ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینا ہے تو لوگوں کو بہتر طریقے سے اس طرف راغب کرنا ہوگا، اس طرح کے مقدمات میں بھی اگر ٹیکس ریکارڈ دیکھے جانے لگے تو مسائل پیدا ہوںگے۔ وکیل نے کہا کہ ٹیکس معاملے کی بات نہیں، صرف یہ نکتہ اٹھارہاہوں کہ دستاویزات سے عمران خان کے پاکستان میں موجود ہونے کا معلوم کیا جاسکتاہے۔ زمین جمائما خان کے لئے خریدنے کا بیان دیا گیا لیکن اس سے پہلے ہی جمائما پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرکے لندن جاچکی تھی۔ تاج محل (بنی گالہ ) کی تعمیر سے پہلے ہی جمائما جا چکی تھی، جس کے لئے بنی گالہ کی بنیاد رکھے جانے کا موقف اپنایا گیا ہے وہ پاکستان میں نہ رہنے کا فیصلہ کرچکی تھی۔

جسٹس عمر عطا نے پوچھا کہ زمین خریداری کا معاہدہ تیرہ مارچ دوہزار دو کو کیا گیا جب کہ جمائما کے جانے کی تاریخ آپ کو معلوم نہیں۔ وکیل بولے کہ اس کا پتہ راشدخان کے بیان سے لگایا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان کیا معاملہ تھا کسی کو معلوم نہیں۔ ممکن ہے اس دوران عمران خان یہاں رہنے کے لئے قائل کرنے کی کوشش میں یہ زمین خرید رہے ہوں۔ وکیل نے کہا کہ امکانات کا جہاں بہت وسیع ہے۔ جمائما پہلے ہی جانے کا فیصلہ کرچکی ہوں یہ بھی ممکن ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مناسب نہیں کہ اس معاملے کو عدالت میں زیربحث لایا جائے۔

وکیل نے کہا کہ عدالت عمران خان کے دوہزار دو کے الیکشن کے لئے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کو دیکھ لے جس میں گیارہ اپریل دوہزار دو کی بنی گالہ جائیداد خریداری کے لئے لیے گئے قرض کو ظاہر نہیں کیا گیا۔ کاغذات نامزدگی سے قبل زمین خریداری کے لئے ایک کروڑ پینتالیس لاکھ ادا کیے گئے مگر اثاثوں کے گوشوارے میں ذکر نہیں۔ اگر اثاثوں کے خانے میں نہیں کیا تو ذمہ داریوں کے خانے میں ہی کرلیتے کیونکہ بیوی سے قرض تو لیا تھا، اور بعد میں یہ واپس بھی کیا گیا۔

جسٹس فیصل عرب نے پوچھا کہ کیا کوئی امیدوار بھائی سے بیس لاکھ قرض لے کر ظاہر نہ کرے تو وہ بھی باسٹھ ون ایف کے تحت نا اہل ہوگا؟ وکیل اکرم شیخ نے جواب دیا کہ جب بیٹے سے دس ہزار نہ لینے والا نا اہل ہو سکتا ہے تو قرض لے کر ظاہر نہ کرنے والے پر بھی وہی قانون لاگو ہوگا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ یہ قانون نہیں کہتا، آپ کی گزارش ہے۔ وکیل نے ترنت جواب دیا کہ میری گزارش نہیں، اسی عدالت کا گزشتہ ہفتے کا فیصلہ ہے۔ اس جواب پر جسٹس عمر عطا نے مشکل سے پہلو بدلا اور خود کو سنبھال کے لب کھولے کہ یہ عدالت کا فیصلہ نہیں، اس طرح حوالے نہ دیں، فیصلے میں سے پڑھ لیں۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ بنی گالہ زمین جمائما کے نام بے نامی خریدی گئی اور ٹیکس بچایا گیا، زمین کا قبضہ ہمیشہ عمران خان کے پاس رہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ میاں بیوی کے درمیان قرض تھا اور وقتی طور پر راشد خان کی خدمات حاصل کی گئیں۔ وکیل بولے کہ عدالت میں عمران خان کی دستاویزات میں بریج فنانس کا ذکر ہے۔ عدالت اپنا ہی ایک فیصلہ دیکھ لے جس میں نجمہ ترابی نامی خاتون کو جائیداد رکھنے پر پانچ سال کے لئے جیل بھیج دیا تھا حالانکہ زمین اس کے شوہر نے خریدی تھی، کیا عمران خان نے یہ قرض نہیں لیا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ الگ کیس تھا، ہرمقدمے کے اپنے حقائق ہوتے ہیں۔ عمران خان کا بھی بظاہر قرض ہی ہے۔ وکیل نے کہا کہ بظاہر نہیں حقیقت میں بھی قرض ہے کیونکہ یہ بعد میں واپس بھی کیا گیا۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ نجمہ ترابی کیس میں نیب کورٹ نے ٹرائل بھی کیا ہوگا، یہاں صرف اپیل پر فیصلہ ہوا تھا۔ وکیل بولے کہ عمران خان نے قرض لیا، ظاہر نہ کیا، اس پر بھی عوامی نمائندگی کے قانون کی شق بارہ دو لگتی ہے اور شق ننانوے ایف کے تحت نا اہلی ہوگی۔

سماعت کے اختتام پر وکیل اکرم شیخ نے استدعا کی کہ ان کے جوابی دلائل کے لئے مزید وقت دیا جائے، جسٹس فیصل عرب ملک سے باہر جا رہے ہیں اور اس کے بعد میں نے حج پر جانا ہے اس لیے مقدمے کو آئندہ ماہ تک ملتوی کیا جائے، چونکہ مقدمہ کی سماعت ایک ماہ سے زائد عرصے کے لئے ملتوی کی جارہی ہے اگر عدالت مناسب سمجھے تو اس دوران تحریک انصاف کے غیرملکی فنڈزکی تحقیق کے لئے الیکشن کمیشن سے انکوائری کرالی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمے کے ٹکڑے کرکے نہیں دیکھ سکتے، کیس کے تمام پہلوؤں اور ہر نکتے پررات دیر گئے تک غور کرتے رہتے ہیں، رات بھی دونوں ساتھی جج میرے ساتھ ساڑھے گیارہ بجے تک بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم کھلے ذہن کے ساتھ بیٹھے ہیں، سارے کاغذوں کو دیکھتے ہیں، چھان پھٹک کرتے ہیں، کیس کی نوعیت اور پھیلاؤ ایسا ہے کہ ہرنکتے پر غور ضروری ہے۔ عدالت نے عمران خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ سامنے آنے والے نئے سوالات کے جواب میں اگر کوئی دستاویزات یا جواب ہے تو نشاندہی کی جائے۔ سماعت ستمبر کے دوسرے ہفتے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔