چسکہ فروشی میں تبدیل ہوتی صحافت


حسبِ عادت صبح اُٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کے لئے قلم اٹھایا تو اپنے دھندے کے بارے میں جمع ہوئے سوالات نے ذہن کو ماﺅف بناڈالا۔ بارہا خیال آیا کہ ہماری سیاست کے موجودہ ہیجانی ماحول میں بہت سوچ بچار کے بعد لکھے الفاظ پر غور کرنے کی فرصت کسے۔

1857ءکے بارے میں لکھی کتابیں یاد آگئیں۔ بہادر شاہ ظفر اپنے سمیت مغلیہ خاندان اور اس کی وراثت کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دلّی شہر پر ”پورب“ سے آئے ان باغی فوجیوں کا قبضہ تھا جنہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال واودھ فتح کرنے کے بعد اس شہر کا عملاََ مختار بنادیا تھا۔ برطانوی سامراج کے تسلط کے لئے اپنے ہی لوگوں کو ذلیل و رسوا کرنے والے یہ کرائے کے فوجی اب ”مجاہد“ بن چکے تھے۔ دلّی میں موجود انگریزوں کو انہوں نے چن چن کو قتل کر ڈالا تھا۔ ان کی بغاوت نے مغلیہ سلطنت کو ”اسلامی خلافت“ میں تبدیل کرنے کے امکانات پیدا کئے۔ دلّی کے عام شہری مگر اپنے گھروں میں خوفزدہ ہوکر محصور ہوچکے تھے۔ ”مجاہدین“ کو ا نہوں نے ”تلنگوں“ کا نام دیا۔ ان کے پھیلائے انتشار سے پناہ کی دُعائیں مانگنے لگے۔ دلّی کے باسیوں میں ایک شخص اسد اللہ غالب بھی تھا۔ قابلِ رشک تخلیقی صلاحیتوںکا حامل یہ شاعر اس شہر کی گلی قاسم جان کے محلہ بلی ماراں کے ایک خستہ حال گھر میں خود کو بند کئے بیٹھا تھا۔ اس کی گلی مہاراجہ پٹیالہ کی ملکیت تھی وہاں کے مکینوں کو تلنگوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ریاست پٹیالہ کے چند سپاہی تعینات تھے۔ان سپاہیوں کو برطانوی حکام نے بھی خود مختاری دے رکھی تھی کیونکہ مہاراجہ پٹیالہ اُن کا وفادار تھا۔

اپنے گھر میں مقید ہوا غالب اُس تہذیب کا دلخراش زوال دیکھ رہا تھا جس پر اسے بہت ناز رہا تھا۔ زوال کے ان ایام میں اس کی شاعرانہ صلاحتیں مگر سلب ہوچکی تھیں۔ وہ تنہا بیٹھا دوستوں سے خط وکتابت کے ذریعے دل کو تسلی دینے میں مصروف رہا۔ اس کے خطوط کو بارہا پڑھنے کے باوجود آپ کبھی طے ہی نہیں کرسکتے کہ آشوب اور افراتفری کے اس دور میں غالب کی ہمدردیاں کس فریق کے ساتھ تھیں۔ شیکسپیئر کا جیولیس سیزرایک شہرئہ آفاق ڈرامہ ہے۔اس کے چند اہم کردار اس نتیجے پر پہنچے کہ رومن سلطنت کی قومی بقاءکو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ خود پسند اور آمرانہ مزاج کے مالک سیزرکو قتل کردیا جائے۔ سازشوں کے ایک طویل سلسلے کے بعد سیزرکو قتل کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی مگر معاشرے کو استحکام ہرگز نصیب نہیں ہوتا۔ جیولیس سیزر کو آفتوں میں گھرے زمانوں میں اکثر سٹیج کیا جاتا ہے۔ چند ہفتے قبل نیویارک کے ایک مشہور پارک میں اسے دکھانے کی کوشش ہوئی تو ٹرمپ کے جنونی مداحوں نے اسے اپنے محبوب رہ نما کے خلاف بغاوت کی علامت شمار کیا۔ انگریزی ادب کے کئی محققین ان کی خفگی پر بہت حیران ہوئے۔ ان کا اصرار رہا کہ جیولیس سیزر کو کئی بار بہت غور سے پڑھنے کے باوجود ہم طے ہی نہیں کرسکتے کہ اس ڈرامے میں نیکی اور بدی کی علامتیں کونسے کردار قرار دئیے جائیں گے۔وطن عزیز بھی اس وقت اندھی نفرت اور محبت میں مبتلا گروہوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ شریف خاندان 2017ءکا بہادر شا ہ ظفر بن چکا ہے۔ ”اس کے بعد کیا“ والا سوال ہے جس کا جواب اب مجھ ایسے طرم خان بنے رپورٹروں کو معلوم کرکے اپنے قارئین تک پہنچانا چاہیے۔نواز شریف کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی کو ہماری قومی اسمبلی نے نیا وزیر اعظم منتخب کرلیا ہے۔ ان کی نامزدگی کے وقت اعلان ہوا تھا کہ یہ تعیناتی عارضی ہے۔ 45 سے 50 روز کے درمیان پنجاب کے وزیر اعلیٰ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر اسلام آباد آجائیں گے۔ یہاں پہنچنے کے بعد انہیں شاہد خاقان عباسی کی جگہ بٹھادیا جائے گا۔

یہ اعلان ہوجانے کے باوجود میرے اندر موجود رپورٹر اس شک میں مبتلا رہا کہ شاید حالات کا جبر شاہد خاقان عباسی کو نئے انتخابات کے انعقاد تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر براجمان رہنے کو مجبور کرسکتا ہے۔ضرورت اب وہ شواہد تلاش کرنے کی تھی جو میرے شبے کو یقین میں بدل سکیں۔بدھ کی صبح نو منتخب وزیراعظم مشاورت کے لئے سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل ہوئے نواز شریف سے ملنے مری تشریف لے گئے۔ اعلان یہ بھی ہوا تھا کہ اس مشاورت کے بعد بدھ کی شام 6بجے کے قریب شاہد خاقان عباسی کے چنے یا ان کو دئیے وزراءبھی اپنے عہدوں کا ایوانِ صدر میں حلف اٹھا لیں گے۔5 سے زیادہ گھنٹوں تک پھیلی مشاورت کے باوجود مگر ایسا ہو نہیں پایا۔ ایک صحافی کے طور پر میری ذمہ داری تھی کہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا کہ شاہد خاقان عباسی کے وزراءکا تعین کیوں نہیں ہوپایا۔ اس شبے کی تصدیق بھی ضروری تھی کہ آیا وہ صرف 45 سے 50 روز تک وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے اسے شہباز شریف کے سپرد کرنے کا انتظار کریں گے یا نہیں۔ ان سوالوں کے مستند جوابات ڈھونڈنا مجھ ایسے نیم ریٹائرڈ رپورٹر کے لئے ممکن نہیں تھا۔ ہاتھ پاﺅں البتہ مارتا رہا۔ بالآخر معلوم ہوا تو صرف اتنا کہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ آئندہ انتخابات کے انعقاد تک شریف خاندان نے شاہد خاقان عباسی کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر بٹھائے رکھنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ ملکی سیاست کے حوالے سے آنے والے دنوں کے تناظر میں صرف ایک سوال کا جواب مگر کافی نہیں تھا۔

مجھے گماں تھا کہ میرے ہمہ وقت مستعد اور نوجوان ساتھی بقیہ سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے بعد ہماری آگاہی کا بندوبست کررہے ہوں گے۔اسی امید پر ہاتھ میں ریموٹ پکڑے رات بارہ بجے تک اپنے ٹی وی پر نگاہیں جمائے بیٹھا رہا۔ تقریباً ہر سکرین اور ٹاک شو میں تذکرہ لیکن تحریک انصاف کی ایک جوان سال خاتون کا تھا جس نے اپنے رہ نما پر اخلاقی اعتبار سے چند سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ان الزامات کی اہمیت سے انکار نہیں۔ بدھ کی شام اور رات مگر ہمیں صرف یہ طے کرنے میں صرف نہیں کرنا چاہیے تھی کہ الزام لگانے والی خاتون کو کس نے مبینہ طورپر کتنے کروڑ روپے دے کر ہمارے روشن مستقبل کی علامت بنے ایک رہ نما کی ذات پر گند اُچھالنے کے لئے استعمال کیا۔ الزام لگانے والی خاتون سکرین پر نہیں عدالتی کٹہرے میں کھڑی نظر آئی۔ ہمارے اینکر حضرات نے ذہین ترین پراسیکیوٹرز کی طرح بہت مہارت سے اس پر جرح کرتے ہوئے ”سازش“ بے نقاب کر دی۔ ملکی سیاست کے بارے میں چند اہم اور بنیادی سوالات کا جواب لیکن مجھے کسی نے فراہم کرنے کا تردد ہی نہیں کیا۔ صحافت اب چسکہ فروشی میں تبدیل ہوچکی ہے۔میں اس ہنر سے قطعاََ محروم ہوں۔ نجانے کس بھرتے پر پیر سے جمعرات کی صبح آنکھ کھلتے ہی یہ کالم لکھنا شروع کردیتا ہوں۔ اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے والا بے کار دھندا۔ یاربّ مجھے اس سے نجات کب ملے گی؟!

(بشکریہ نوئے وقت)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔