ایک گُڑ چور کی ڈائری


معروف مثل ہے کہ چوری کا گڑ میٹھا ہوتا ہے۔ اس مٹھاس سے دو قسم کے لوگ آشنا ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے اس اسلوب سے گڑ حاصل کر کے کھایا اور دوسرے وہ جنہوں نے کسی سے محبت کی ہے۔ استاذی ظفرؔ اقبال کے نزدیک گڑ چوری کی واردات اور وارداتِ قلبی میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ آپ نے اپنے وسیع تجربے کی روشنی میں چوری کے گڑ کی لذت کو محبت کی چاشنی کے ہم پلہ بیان کر کے اس کی اہمیت واضح فرمائی ہے کہ:

محبت تو چوری کا گڑ ہے ظفرؔ
یہ میٹھا زیادہ تو ہونا ہی تھا
اب آپ سے کیا پردہ، ہم خود بچپن میں گڑ چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔ اللہ بخشے دادی جان ایسی سنگین وارداتوں کی روک تھام کی خاطر گڑ کے کنستر کو تالا لگا کر رکھتی تھیں۔ بعض اوقات تو نیک بخت وہ کمرہ ہی سیل فرما دیتیں، جہاں مال پڑا ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں ان کا موقف یہ تھا کہ گڑ کھانے سے ایک تو ان کے پوتے بیمار ہو جاتے ہیں اور دوسرے واردات ہائے مذکور نے سفید پوش گھرانے کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچا دی ہے۔ یہ تب کی باتیں ہیں جب دیہات میں گڑ اور غلہ خزانہ تصور ہوتے تھے اور ایسے قیمتی اثاثوں کی چوری کے خطرات ہمہ وقت منڈلاتے رہتے تھے۔ محبت اور غلے کا ذکر آئندہ کے کسی کالم کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، آج فقط گڑ چوری کی باتیں ہوں گی۔

ماضی میں گڑ کی اہمیت یوں مسلمہ تھی کہ چائے اور کسی بھی میٹھے کے لیے یہی جنس دستیاب تھی۔ میٹھا بھی عید اور نیکی بدی کے مواقع پر ہی میسر ہوتا تھا۔ جبکہ چینی اتنی مہنگی تھی (غالباً تین یا چار روپے سیر) کہ ہمارے جیسے متوسط زمیندار گھرانوں کی پہنچ سے بھی باہر تھی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گرمیوں کی شب گائوں کے اوپر سے ہوائی جہاز گزرا۔ گامے نے چارپائی پر لیٹے لیٹے پوچھا کہ یہ ہوائی جہاز کتنا بڑا ہوتا ہے؟ ماسٹر شیر دل نے اسے بتایا کہ اس میں دو تین سو لوگ سوار ہوتے ہیں جو بہت امیر ہوتے ہیں اورسینکڑوں روپے کا ٹکٹ لے کر سفر کرتے ہیں۔ غریب نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا ”پھر تو یہ لوگ گڑ بہت کھاتے ہوں گے‘‘… پس غربت کے دریں حالات اپنی اپنی بساط کے مطابق خرید کر یا چوری کرکے گڑ کھانا عیاشی شمار ہوتی تھی۔ ایسے میں لوگوں کو اپنے گڑ کی حفاظت کی خاطر اندرونی و بیرونی چوروں سے ہوشیار رہنا پڑتا تھا۔ دادی جان مرحومہ بھی اس کارِ خیر کے لیے خاص اہتمام فرماتی تھیں۔ خدا معاف کرے، ہم جب بھی ایسی کسی واردات کے بعد گڑ کھاتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تو ان کے سامنے جھوٹ بولا کہ ماموں یا چچا نے چوّنی دی تھی، جس سے ہم نے ہٹی پر جا کر گڑ خرید لیا؛ تاہم دادی جان کی کڑی تفتیش کے آگے ہم کبھی اس رقم کی منی ٹریل نہ دے سکے۔ ایسے مواقع پر دادی جان کے ڈر سے ماموں اور چچا بھی قطری شہزادے کی طرح کترا جاتے۔ دادی جان نے ہمیں کبھی سزا تو نہیں دی، البتہ ہر ایسی واردات کے بعد گڑ کے مقفل شدہ ٹین کا بغور جائزہ لے کر جائے نقب کا مشاہدہ کرنا ان کا معمول تھا۔ پھر وہ جنتی خاتون باہر آتیں اور کمرے کے دروازے پر لٹکتی، پینڈولم کی طرح ہلتی زنجیر کو اوپر لگے کنڈے میں ڈال دیتیں۔ ہمارے گھر میں ایک پرانا زنگ آلود جندرا (تالا) بھی تھا، جس سے ہماری کبھی نہیں بن سکی۔ محترمہ یہ جندرا کنڈا ہٰذا میں ڈالتیں اور اس کی چابی کو تادیر گول گول گھما کر سالم کمرہ ہی لاک کر دیتیں۔ تب ہمارے چورانہ جذبات کو شدید ٹھیس پہنچتی۔

اس تمہیدِ طولانی کا مقصد آپ کو ان وجوہات سے آگاہ کرنا ہے، جن کی بنا پر ہم نے کبھی قومی اور صوبائی اسمبلی یا سینیٹ کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ کیا آپ نے کبھی سنا کہ ہم نے کسی قانون ساز ادارے کے امیدوار کی حیثیت سے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں؟ اس کا سبب یہ نہیں کہ ہمیں کوئی پارٹی ٹکٹ دینے یا ووٹر ووٹ دینے پر تیار نہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ سیاسیات اور قانون کا ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے ہمیں خوب علم ہے کہ ہم اپنے سابقہ چورانہ چال چلن کی بدولت آئین کے آرٹیکل 63,62 کے تحت کسی بھی ایسے انتخاب کے لیے نااہل ہیں۔ ان آرٹیکلز کے کڑے معیار پر تو کوئی فرشتہ ہی پورا اُتر سکتا ہے جبکہ ہم تو گڑ چوری کی واردات ہائے متذکرہ میں ملوث ہونے اور جھوٹ بولنے کے علاوہ کبھی دادی جان کو گڑ کی رقم کی منی ٹریل بھی نہیں دے سکے۔ چونکہ آئین کی رو سے ہم صادق اور امین نہیں ہیں‘ لہٰذا احباب کے پُرزور اصرار کے باوجود ہم نے کبھی کسی انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔ امید ہے کہ ہمارا ہر الیکشن سے کترا جانا آپ کو سمجھ آ گیا ہو گا کہ ہم اپنے شرمناک ماضی کی بنا پر خدا یا اس کے کسی بندے کی پکڑ میں نہیں آنا چاہتے۔ آپ جانتے ہیں کہ خدا تو سچے دل سے توبہ کرنے پر معاف کر ہی دیتا ہے مگر اس کی مخلوق کبھی نہیں چھوڑتی۔

ہمیں اپنے محبوب رہنما عمران خان کی قسمت پر رشک آتا ہے، جن کا دامن اس پُرآشوب دور میں بھی صاف ہے اور وہ ہنوز صادق اور امین ہیں۔ یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے، خود عمران خان بھی یہی سمجھتے ہیں۔ ان کے ایک انٹرویو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ ویڈیو میں ناہنجار سیتا وائٹ کا کلپ دکھایا جاتا ہے جس میں وہ خان صاحب پر ایک مشہورِ زمانہ بلکہ بدنام زمانہ، نازیبا سا الزام لگاتی ہے۔ پھر میزبان عمران خان سے پوچھتی ہے کہ وہ کس طرح اخلاقیات اور اسلا م کی باتیں کرتے ہیں؟ خان صاحب گناہوں پر پردہ ڈالنے کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی کی ذاتی زندگی پر بات نہیں کی، حالانکہ میں ان کے مقابلے میں فرشتہ ہوں۔ تیری آواز مکے اور مدینے… یقینا وہ دوسروں کے مقابلے میں فرشتہ ہیں اور عائشہ گلالئی نے ان کے کردار پر جو رکیک حملے کیے ہیں ان کے بعد کوئی فرشتہ یا فرشتہ سیرت ہی آئین کی مذکورہ دفعات سے بچ سکتا ہے۔ مخالف ان کی احتجاجی سیاست کے پیچھے خفیہ ہاتھ بھی تلاش کرتے رہے ہیں مگر انہیں بھی کچھ حاصل نہیں ہوا۔ عدالت عظمیٰ میں ان کی جماعت کی طرف سے ممنوعہ فنڈز لینے کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ عمران خان نے یومِ تشکر کے جلسے میں مخالفین کے لیے حسب سابق گھٹیا، ذلیل اور بے شرم جیسے الفاظ بھی استعمال کیے تاہم فرشتوں کو تھوڑی بہت چھوٹ تو حاصل ہوتی ہی ہے۔ انہیں کئی عدالتوں کی طرف سے اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے اور ان کی آف شور کمپنی کا مقدمہ بھی عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے۔ ہم عدالتی معاملات پر بات نہیں کرتے، البتہ یقین رکھتے ہیں کہ چونکہ دوسروں کی حرام آف شور کمپنیوں کے مقابلے میں ان کی کمپنی حلال ہے اور بقول ان کے وہ فرشتہ بھی ہیں لہٰذا ان کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔

ہمارے محبوب رہنما کو فرشتہ ہونے کے علاوہ ایک بڑا ایڈوانٹیج یہ بھی حاصل ہے کہ وہ خوش قسمتی سے کبھی گڑ چوری کی کسی واردات میں ملوث نہیں رہے۔ نیز وہ کسی ایسی غیر ملکی کمپنی کے چیئرمین بھی نہیں رہے جس کی انہوں نے کبھی تنخواہ وصول نہ کی ہو۔ دریں حالات یہ مستند گڑ چور وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ آئین کی دفعات 63,62 کا اطلاق عمران خان پر نہیں ہوتا۔

ماضی میں گڑ کی اہمیت یوں مسلمہ تھی کہ چائے اور کسی بھی میٹھے کے لیے یہی جنس دستیاب تھی۔ میٹھا بھی عید اور نیکی بدی کے مواقع پر ہی میسر ہوتا تھا۔ جبکہ چینی اتنی مہنگی تھی (غالباً تین یا چار روپے سیر) کہ ہمارے جیسے متوسط زمیندار گھرانوں کی پہنچ سے بھی باہر تھی۔

(بشکریہ جنگ نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔