ترکی کی اسلامی تحریک – دوسرا حصہ


ترکی کی اسلامی تحریک ‘حزمت’ (خدمت) پر مبنی مضامین کی سیریز کا دوسرا حصہ۔ پہلا حصہ یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

adnan Kakarفتح اللہ گولن کے خیالات پر مبنی بچوں کے سکول

اوزال کی 1980 کی دہائی کی نئی لبرل پالیسی اور نجی تعلیمی اداروں کے قیام کے بہتر مواقع کے نتیجے میں 1982 میں ازمیر اور استنبول میں پہلے دو ہائی سکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گولن صاحب نے اپنے معتقدین کی نجی سیکولر ہائی سکولوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جہاں وہ اسلامی اقدار کو سیکولر علم کے ساتھ یکجا کرنے کے بارے میں پرامید تھے۔ ان سکولوں میں ریاستی سیکولر نصاب پڑھایا جاتا تھا اور اسلامی تعلیم کی ریاست صرف ایک گھنٹے تک اجازت دیتی تھی جو کہ سرکاری کتب سے ہوتی تھی۔ تمام سکول اور دوسرے گولن سے متاثرہ ادارے ایک دوسرے سے الگ خودمختار ادارے ہیں جن کی نظامت اور مالی معاونت مقامی گروپ کرتے ہیں۔ لیکن ان اداروں کا عملہ ایک دوسرے سے اس چیز کی بنا پر جڑا ہوا ہے جس کو فلاح کا تعلیمی نیٹ ورک کہا جاتا ہے، اور جس کی بنیاد اس چیز پر ہے کہ اہم افراد کا ایک دوسرے سے جماعت کے اندر میل جول رہے۔ ان سکولوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے پرنسپل اور اساتذہ، ترکی کے اندر اور باہر دونوں جگہ، ان ماہرین تعلیم میں سے ہوتے ہیں جن کا جماعت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ سکولوں میں ایسے اساتذہ بھی ہوتے ہیں جو کہ گولن تحریک میں شامل نہیں ہوتے اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی فتح اﷲ گولن کے معلق کچھ بھی نہ سنا ہو۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کو ان سکولوں میں اس لیے بھیجتے ہیں کیونکہ وہ ان کو اپنے بچوں کے لیے بہترین تعلیم کنندہ کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ گوکہ یہ ادارے جذبہ رکھنے والے اساتذہ اور سرمایہ کاروں کے لیے جماعت ہی کی طرف دیکھتے ہیں، لیکن گولن صاحب کے نظریات کا مرکز نگاہ وہ بڑا طبقہ تھا جو کہ تعلیم اور جدت پسندی کا حامی تھا۔

gulen

گولن سے متاثر میڈیا

گولن صاحب نے اپنے معتقدین کی پبلشنگ کے کاروبار میں جانے کی حوصلہ افزائی کی تاکہ وہ تعلیم اور خدمت کا پیغام پھیلا سکیں۔ صدر اوزال کی فراہم کردہ سیاسی آزادی اور آزاد غیر سینسر شدہ نیوز میڈیا کے قیام کے مواقع فراہم کیے جانے پروہ ماحول بن گیا تھا جس کی بنا پر نجی پبلشنگ کا ترکی میں قیام ممکن ہوا۔ اس فاؤنڈیشن نے اپنا ماہانہ جریدہ، سیزینتی، چھاپنا شروع کیا جو کہ جلد ہی ترکی کا سب سے کثیر الاشاعت ماہانہ جریدہ بن گیا۔ اس کا مشن مذہب اور سائنس میں تعلق ظاہر کرنا تھا، اور یہ دکھانا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں اور دونوں کا علم ایک اچھی تعلیم کے لیے ضروری ہے۔ جریدے کا ہر پرچہ گولن صاحب کا تحریر کردہ ادرایہ لیے ہوئے ہوتا تھا۔ ان کی تقاریر کو آڈیو ویڈیو اور کتب کی شکل میں ترکی اور دنیا کی اہم زبانوں میں فراہم کیا گیا۔

گولن تحریک میں شامل لوگوں نے ایک قومی ٹی وی سٹیشن، سمان یولو تیلی ویزیونو – ایس ٹی وی، اور ایک اہم نیوز ایجنسی، جہان خبر ایجنسی – سی ایچ اے، ایک آزاد یومیہ اخبار جو کہ سب سے کثیر الاشاعت ہے اور دنیا کی دس زبانوں اور مقامی ترک زبانوں میں سارے ترک ملکوں سے شائع ہوتا ہے، بہت سے اہم میگزین اور النور کمپنی نامی ایک اشاعتی ادارہ قائم کیے۔

کامیابی خود ہی اپنی تشہیر کردیتی ہے اور اس معاملے میں جیسے جیسے یہ بات پھیلتی گئی کہ گولن صاحب اور ان کے معتقدین کیسی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، ان کو ترکی بھر میں تقریر کرنے کے لیے دعوتیں ملنے لگیں۔ مقامی گروپ اپنے ہاں گولن فکر کے حامل سکول کھولنے کے لیے بھی بے تاب تھے۔ تحریک کے قائم کردہ ان نجی سکولوں کی کامیابی بہت سے لوگوں کے لیے اس بات کا ثبوت تھی کہ گولن صاحب کا یہ موقف جو کہ وہ ہمیشہ اپنی تقاریر اور تحریروں میں بیان کرتے تھے کہ ایک شخص بیک وقت ایک اچھا مسلمان اور جدید ذہنیت کا حامل ہوسکتا ہے، مبنی برحق تھا۔

گولن صاحب کے ناقدین

یہ چیز تو واضح تھی کہ سیکولر ریپبلک کے طور پر، ترکی کی جدید تاریخ کے تناظر میں، جو کہ سنہ 1923 میں مصفطیٰ کمال اتاترک کے ہاتھوں ترک جمہوریہ کے قیام کے بعد شروع ہوتی ہے، سیکولر ازم کو چھ کمالی اصولوں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا اور اس بات سے مفر نہیں تھا کہ جلد یا بدیر تحریک کی مقبولیت اور نمایاں پن کو سیکولر سیاسی طبقے کی توجہ حاصل ہوجائے گی۔

سنہ 1971 میں گرفتاری اور چھ مہینے کی قید کے بعد سے گولن صاحب کو گاہے بگاہے ریاستی اداروں کی طرف سے سرکار کے سیکولرازم کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا رہا۔ نوے کی دہائی کے اواخر میں ایک تنازعہ اس وقت کھڑا ہوگیا جب ایک نجی ٹی وی سٹیشن نے ایسی ویڈیو ٹیپ نشر کی جس میں ان کو سیکولر جمہوریت کے خلاف جدوجہد اور اس کو گرا کر ایک اسلامی ریاست سے بدلنے کی تبلیغ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ان کے کچھ حامیوں کا ماننا ہے کہ ان پر حملہ آور ہونے کے لئے یہ ویڈیو بہت سی مختلف تصاویر، اور آوازوں کو ایک اچھے طریقے سے ملا کر ان کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے خاص طور پر تیار کی گئی تھیں۔ سنہ 2000 میں ان پر مقدمہ قائم کیا گیا جو کہ مئی 2006 میں انقرہ کے ہائی کورٹ نے خارج کردیا۔

سنہ 1999 میں گولن صاحب دل اور شوگر اور دوسری بیماریوں کے علاج معالجے کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکہ منتقل ہوگئے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا روداد زندگی بیان کرتی ہے، گولن صاحب دنیا بھر میں موجود لاکھوں ترکوں کے لیے ایک فکر کا منبع ہیں اور وہ ان کے خیالات سے متحرک ہوتے ہیں اور مقامی حلقوں میں شامل ہیں جہاں وہ ان کے وعظ اور تحریروں میں موجود خیالات پر گفتگو کرتے ہیں اور اپنا وقت اور پیسہ ان سماجی خدمت کے منصوبوں کے لیے فراہم کرتے ہیں جو کہ ان کے نظریات پر مبنی ہیں۔ دوسری طرف وہ ترک بھی ہیں جو کہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ گولن صاحب اور ان کے معتقدین ترکی کو ایک ایسی مذہبی ریاست بنانے کے راستے پر چل رہے ہیں جو کہ ترکی کو جدیدیت سے واپس دھکیل دے گا، اور وہ جوانوں کو برین واش کر کے اپنے خیالات پر چلا رہے ہیں اور گولن صاحب کے ایجنڈے پر چلنے والی ایک خفیہ تنظیم قائم کر رہے ہیں۔ گولن صاحب کے وہ خیالات، عقاید اور دنیا کے بارے میں نظریات کیا ہیں جو کہ کچھ لوگوں کو ان کی طرف کھینچتے ہیں اور کچھ کو ترکی کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ کردیتے ہیں؟

گولن تحریک کا ارتقا

آہستہ آہستہ تحریک جڑ پکڑتی گئی۔ انیس سو اسی تک تاجروں اور ماہرین تعلیم نے گولن صاحب کی تعلیمات کے نتیجے میں ترکی میں تعلیمی بحران کے حل کے لیے طلبا کی اقامت گاہوں، یونیورسٹی کے داخلے کے امتحانات کے کورسوں، اساتذہ کی تنظیموں، اشاعتی اداروں اور ایک رسالے کا بندوبست کردیا تھا۔ اسی کی دہائی کے وسط تک اتنے وسائل موجود تھے، جن میں جذبے سے معمور افراد اور خاطر خواہ عطیات شامل تھے، جن سے موجودہ فلاحی منصوبوں اور نئے سکولوں اور ہسپتالوں کے قیام کے عمل میں تیزی آگئی۔ اس وقت میڈیا کو اس تحریک کے بارے میں آگاہی ہوئی اور اس کے بارے میں اخباری مضامین کا طوفان آگیا۔ میڈیا اور عوام اس تحریک کو گولن تحریک کہنے لگے جبکہ گولن صاحب ان ناموں کو قبول نہیں کرتے اور خود اس کو رضاکار خدمت یا حزمت کے نام سے پکارتے ہیں۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ تحریک وسطی ایشیائی ترک ممالک میں بھی پھیل گئی۔ گولن تحریک کی تحیر کن بات یہ ہے کہ یہ صرف مسلم ممالک میں ہی نہیں، بلکہ عیسائی، بدھ اور ہندو ممالک میں بھی موجود ہے۔

گولن صاحب کے معتقدین کے بے قاعدہ نیٹ ورک، اور ان کے بہت سے منصوبے جن کو وہ سپورٹ کرتے ہیں، اس احساس کو تقویت دیتے ہیں کہ وہ ایک مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایک ناقابل بیان رفاقت ان لوگوں میں موجود ہے اور ان منصوبوں پر ایک احساس فخر بھی جو کہ تحریک سے وابستہ ہیں۔ تحریک کی کوئی باقاعدہ تقریبات، نشانات، نعرے یا لباس نہیں ہے جس سے اس کی شناخت ہوتی ہو۔ تحریک میں شامل ہونا، محض دوستی کی بنا پر ہونے والے ایسے حلقوں میں شامل ہونا ہے جو کہ مشترکہ اعمال کرتے ہیں۔ ایک جیسی ذہنیت اور اہداف کے حامل افراد پر مشتمل یہ دوستانہ حلقے اپنے اراکین کی خدمت کے منصوبوں میں شمولیت کو ممکن بھی بناتے ہیں اور ان کے جذبہ خدمت کو مہمیز بھی دیتے ہیں۔ یہ حلقے کسی مرکزی تنظیم کے تحت کام نہیں کرتے۔ لیکن یہ ایک دوسرے سے معلومات اور ماہرین کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ اس تحریک کی کوئی ممبرشپ یا اس کے اراکین کا ریکارڈ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے اس تحریک کا سائز معلوم کرنا ناممکن ہے۔ اس تحریک کے حلقوں کے دائرہ عمل میں معاشی ادارے، تعلیمی ادارے، نشر و اشاعت اور مذہبی اجتماعات آتے ہیں۔

۔(جاری ہے)۔

ترکی کی اسلامی تحریک ‘حزمت’ (خدمت) پر مبنی مضامین کی سیریز کا دوسرا حصہ۔

پہلا حصہ ۔

تیسرا حصہ


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar