چلو جی مان لیتے ہیں


جی ہاں کبھی کبھی اندر کی باتیں سوچتے یا لکھتے وقت ہم خود سے ہی مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ بس ٹھیک ہے مان لیا۔ اب وہ کس طرح، کیوں اور کیسے ہم مان لیتے ہیں یہ اصل موزوں ہے۔

سائنس ٹیکنالوجی اور تعلیم کا فروغ عام ہونے سے ایک فائدہ تو ہوا جس کو دیکھو صحافی یا دانشور بنا بیٹھا ہے، جی ہاں بحث میں تو ہم پاکستانیوں کا کوئی جواب نہیں۔ بحث کرنے کے لیے ہم ہر وقت تیار رہتے ہیں پھر چاہے وہ سیاست پر ہو یا کسی انسان پہ۔ لیکن آج کل ہم بات اس لیۓ نہیں کرتے کہ اگلا انسان ہم سے کچھ سیکھے یا دوسرے کو کچھ سیکھا پائٔیں بلکہ بات ہم دوسرے کو نیچا دکھانے اور اسے اپنے لیول پر لانے کے لیے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک ڈاکٹر آدمی ایک دسویں پاس آدمی کو کارڈیالوجی یعنی دل کی بیماریوں کے نصاب پہ درس دے گا تو ظاہری سی بات ہے وہ باتیں اس کے سر کے اوپر سے گزر جایٔیں گی۔

میں ایک عام پاکستانی ہونے کی حیثت سے یہ سوچ رھی ہوں کہ میرے سادہ بہن بھایٔیوں یہ بتاؤ کہ کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کر بھی دیکھا ہے کہ ہم خود کتنے پانی میں ہیں جو ہر وقت ہم دوسروں پہ بات کرنے اور ان کو نیچا دکھانے کے لیۓ تیار بیٹھے ہوتے ہیں؟ آج کل کا نوجوان صبر نامی چیز جیسا کہ جانتا ہی نا ہو حالانکہ ہمارا تو مزھب ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ ” اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“ ہم اس ذہنی کیفیت میں رھنے والے لوگ ہیں جہاں ہم ہر وقت اس کشمکش میں مبتلا رھتے ہیں کہ اگلے کو کیسے نیچا دکھائیں۔

میں یہ سمجھتی ہوں کہ جتنا شور ہم دوسرے کو نیچا دیکھانے میں کرتے ہیں اگر اتنا زور ہم تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں استعمال کریں تو یقین جانیے ہم ترقی پزیر ممالک کی لسٹ سے نکل کر ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن نہیں نہیں یہی تو ہمیں سمجھ نہیں آتا۔ لیکن کبھی کبھی آپ کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑ جاتا ہے کہ ہمیں اپنے آپ سے نا چاہتے ہوے بھی کہنا پڑ جاتا ہے کہ چلو جی مان لیتے ہیں آپ صحیح ہم غلط لیکن کیا اس طرح معاشرے میں لوگوں کا عدم برادشت ہمیں ایک مہذب قوم بنا پاۓ گا۔ ذرا سوچیے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سبا رحمان

سبا رحمان مومند ایک فوٹو جرنلسٹ ہیں اور اور اس وقت پورے فاٹا اور صوبہ خیبر پختنخواہ سے وہ واحد ایک لڑکی فوٹو جرنلسٹ ہیں جو کہ فوٹو جرنلزم جیسے شعبے سے وابستہ ہیں اور انہوں نے اپنی یہ تعلیم نیشنل جیوگرافک کے ہیڈ کواٹر واشنگٹن ڈی سی امریکہ میں ماہر فوٹو جرنلسٹ سے حاصل کی۔ نیشنل جیوگرافک کے ماہر فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ پاکستان اور امریکہ دونوں جگہوں پر کام بھی کیا۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے شعبہ صحافت میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اوراپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز لندن کے ریڈیو بی بی سی اردو سے کیا۔ وہ آج کل بھی بی بی سی اردو، ٹی آر ٹی ورلڈ اور کہیں دوسرے آن لائین انگریزی اور اردو نیوز ویب سائیٹس کے لیے فری لانس فوٹو جرنلسٹ کے طور پہ کام کرتی ہیں اور ایک یونیورسٹی میں فوٹو جرنلزم کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔

saba-rahman-momand has 3 posts and counting.See all posts by saba-rahman-momand