پرویز مشرف کا اشتعال انگیز بیان


پاکستان کے سابق فوجی حکمران اور آرمی چیف جنرل(ر) پرویز مشرف نے جمہوریت اور آئین پاکستان کے خلاف جو گفتگو کی ہے ، اس کی سختی سے مذمت کرنے اور یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اس ملک میں کسی بھی ادارے یا فرد کو کسی بھی عذر کی بنا پر آئین کی خلاف ورزی کرنے اور قومی یا عوامی مفاد کا حوالہ دے کر جمہوری طریقہ کار کو ناقص قرار دینے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ خاص طور سے جب یہ باتیں ایک ایسے شخص کی طرف سے کی جائیں جو اپنے عہدے کو ناجائز طور سے استعمال کرتے ہوئے ملک میں برسر اقتدار آیا اور جس نے اپنے افعال کا قانون کے تحت قائم عدالتوں میں جواب دینے کی بجائے، سابق فوجی سربراہ کے طور پر اپنی حیثیت اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ملک سے فرار ہونے کو ترجیح دی ہو۔ اور اب وہ ’مصلح قوم ‘ کا روپ دھار کر جمہوریت اور ملک کے سیاست دانوں کے خلاف بلند بانگ دعوے کر رہا ہو۔

پرویز مشرف کو ملک میں بے نظیر بھٹو اور نواب اکبر خان جتوئی کے قتل کے علاوہ آئین شکنی کے الزامات کا سامنا ہے لیکن ایک بہادر انسان کی طرح ان الزامات کا سامنا کرنے کی بجائے، وہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے ذریعے حکومت وقت پر دباؤ ڈال کر ملک سے چند ہفتوں کے لئے بغرض علاج باہر گئے تھے اور واپس آنے سے گریزاں ہیں۔ قانون سے فرار اختیار کرنے والے کسی شخص کو پاکستان کے آئین اور جمہوریت کے حوالے سے باتیں کرنا زیب نہیں دیتا۔ لیکن بی بی سی کو دیئے گئے تازہ انٹرویو میں انہوں نے جن خیالات کا اظاہر کیا ہے، انہیں صرف ایک مایوس اور بے اختیار شخص کی ہرزہ سرائی قرار دے کر معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کے سیاست دان اور تبصرہ نگار تو ان باتوں کو مسترد کریں گے لیکن اس بار فوج کو واضح کرنا چاہئے کہ اس کی وفاداری آئین پاکستان کے ساتھ ہے یا وہ اپنے ایک سابق سربراہ کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے بدستور ان کی ہشت پر کھڑی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ملک کی فوج پرویز مشرف اور اپنے ان تمام سربراہان کے بارے میں واضح مؤقف اختیار کرے اور ان خیالات کو باقاعدہ مسترد کیا جائے جن کے تحت فوج کا ایک سابق سربراہ اور اس حیثیت میں آئین شکنی کا مرتکب ہونے والا ایک شخص نہ صرف اپنے افعال بد کو جائز قرار دے رہا ہے بلکہ ایوب خان سے لے کر یحیٰ خان اور ضیا ء الحق تک کے اقدامات کو درست کہتے ہوئے یہ دعویٰ کررہا ہے کہ ان فوجی سربراہوں نے ملک کا آئین پامال کر کے اور جمہوریت کا راستہ روک کر راست اقدام کیا تھا کیوں کہ کوئی آئین عوام کی بہبود سے بالا تر نہیں ہو سکتا۔ عوام کے مفاد اور آئین کو ایک دوسرے کے مقابلے میں رکھ کر گفتگو کرنا ہی دراصل مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ کام صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس نے کبھی آئین اور کسی اصول کی پاسداری نہ کی ہو۔

ملک میں حال ہی میں ایک منتخب وزیر اعظم سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اپنے عہدے سے علیحدہ ہوئے ہیں۔ اس فیصلہ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اس کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے لیکن کوئی شخص اس کو ماننے سے انکار کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ ملک کا نظام ایک آئین اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق چلتا ہے۔ پرویز مشرف جیسے لوگ کسی قانون اور ضابطہ کو نہیں مانتے۔ اسی لئے جب فوج کے سربراہ کے طور پر انہیں ملک کی فوج کی کمان سنبھالنے کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے ملک میں جمہوریت پر شب خون مارا اور آٹھ برس تک کسی اختیار کے بغیر ملک پر حکمرانی کی۔ اس دوران ایسے متعدد فیصلے کئے گئے جن کا خمیازہ ملک و قوم اب تک بھگت رہی ہیں۔

یہاں سابق فوجی حکومتوں کے ادوار میں ہونے والے نقصانات کا احاطہ کرنا مطلوب نہیں۔ اس ملک کے لوگوں کو وہ تمام مشکلات ازبر ہیں جو سابق فوجی حکمرانوں کی آئین شکنی اور جبر کی وجہ سے انہیں پیش آ چکی ہیں۔ ملک کو دو لخت کرنے سے لے کر ملک میں مذہبی انتہا پسندی کا بیج بونے اور اس کی پر داخت کرنے میں فوجی حکمرانوں کا ہی ہاتھ رہا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ملک میں جمہوریت اور جمہوری ادارے اس قدر کمزور رہے ہیں کہ ماضی قریب میں ہونے والی ان ذیادتیوں کا حساب نہیں مانگا جا سکا۔ اور نہ ہی فوج نے کبھی ضرورت محسوس کی کہ وہ اپنے سابق سربراہوں کی چیرہ دستیوں اور جرائم سے لاتعلقی کا اعلان کرے۔ پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کے حوالے سے جہاں نواز شریف کی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا تو اس کے ساتھ ہی ان خبروں کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے کہ سول حکومت نے یہ فیصلہ فوج کو خوش رکھنے اور اس کے دباؤ کی وجہ سے کیا تھا۔

پرویز مشرف کا تازہ بیان اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ فوج اس حوالے سے خاموش رہنے کی پالیسی کو ترک کرے اور دوٹوک الفاظ میں پرویز مشرف سے لاتعلقی کا اعلان کرے۔ فوج کو یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ ان کی ملک سے روانگی اور عدالتی نظام سے فرار میں فوج کا کتنا کردار رہا ہے اور کیا آئندہ اس طریقہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ملک میں سیاسی بحران کے دوران ضرور بعض عناصر فوج سے مداخلت کی اپیل کرتے ہیں لیکن پاکستان کے آئین پر حلف لینے والے باوقار فوجی جس طرح اس عہد سے غداری نہیں کرسکتے، اسی طرح فوج کو بطور ادارہ آئین شکنی کی وکالت کرنے والے عناصر کی بھی مذمت کرنا ہو گی۔ اسی طرح سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ہونے والے مباحث میں فوج یہ واضح کر سکتی ہے کہ وہ منتخب حکومت کی قیادت میں کام کرنے اور احکامات بجا لانے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ اور یہ خبریں گمراہ کن ہیں کہ فوج درپردہ دباؤ کے ذریعے حکومت کو اپنی مرضی کی پالیسیاں اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اور اگر وہ اس سے انکار کرے تو سیاسی قیادت کوعبرت کا نشان بنانے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 621 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali