عائشہ گلالئی کی بہادری اور عمران خان


برطانیہ میں ایک ٹی وی سٹار ہوا کرتا تھا جمی سیول ۔۔۔۔ جمی سیول اپنے ملک کے محبوب ترین ٹی وی سٹارز میں سے ایک تھا بلکہ شاید محبوب ترین کہنا حقیقت سے زیادہ قریب ہو گا ۔۔۔۔۔ خیراتی اداروں کے لیے انتھک چندہ اکٹھا کرنے والے اور فلاحی کاموں میں پیش پیش دکھائی دینے والے جمی سیول کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ وزیراعظم اور ملکہ برطانیہ تک سے اس کے بے تکلفی کی حد تک تعلقات تھے ۔۔۔۔ پھر ایک دن جمی سیول مر گیا ۔۔۔۔۔

اس کی موت کے چند برس بعد ایک ٹی وی پروڈیوسر نے ایک ڈاکیومنٹری بنائی جس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ہر کسی کا محبوب ٹی وی سٹار ایک سیریل ریپسٹ تھا چند ہی دنوں میں سینکڑوں ایسی خواتین نے پولیس سے رابطہ کیا جو جمی سیول کی بربریت کا نشانہ بن چکی تھی ۔۔۔ ان میں سے کئی اب ساٹھ برس سے زیادہ کی ہو چکی تھیں لیکن بچپن میں اپنے ساتھ ہونے والی درندگی نے ان کی زندگیاں تباہ کر دی تھیں ۔۔۔۔۔

جمی سیول کے خلاف شواہد اکٹھے ہوتے گئے، معلوم ہوا کہ اس کی زندگی میں بھی اکا دکا شکایتیں سامنے آتی رہیں لیکن اتنے بڑے سٹار کے سامنے کسی عام لڑکی کی بات پر کون توجہ دیتا ۔۔۔ کسی نے توجہ نہیں دی اور یوں وہ حیوان ساری زندگی نوجوان لڑکیوں کی عزتوں سے کھیلتا رہا اور جب مرا تو نیشنل ٹی وی پر اس کی یاد میں خصوصی پروگرام پیش کیا گیا ۔۔۔۔ اس کے ساتھ کام کرنے والے کچھ لوگ جو اس کی بدکرداری سے واقف تھے بار بار بی بی سی سے بھی درخواستیں کرتے رہے کہ ایسے شخص کو اس دھوم دھام سے رخصت کرنے سے پرہیز کریں مگر کسی نے ان کی درخواستوں پر کان نہیں دھرا ۔۔۔۔۔۔

جس ڈاکیومنٹری کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے اس کے سامنے آتے ہی گویا سیلاب کے بند کھل گئے ۔۔۔۔ سینکڑوں عورتوں نے جمی سیول کے ہاتھوں اپنی بے حرمتی کی شکایت پولیس تک پہنچائی اور ایک دن ایسا آیا کہ قوم کے ہیرو کو اس کے قبر سے نکال کر کسی نامعلوم مقام پر دفنانا پڑا تاکہ اس کا اصل چہرہ سامنے آجائے پر کوئی اس کی لاش قبر سے نکال کر اس کے ٹکڑے نہ کردے۔۔۔ جمی سیول کیس سامنے آنے کے بعد پولیس کی طرف سےآپریشن یوٹری کے نام سے ایک مہم شروع کی گئی جس کے تحت باقاعدہ اپیل کی گئی کہ کوئی اور مشہور شخصیت اگر ایسے کسی جرم کی مرتکب ہوئی ہو تو سامنے آئے، اسے پورا انصاف دلایا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ٹی وی اور ریڈیو سے متعلق کئی بڑے بڑے نام سامنے آئے جنہیں مقدمہ چلا کر سزا دی گئی اور درجنوں دوسرے مشاہیر کے خلاف تحقیقات ابھی جاری ہیں ۔۔۔۔۔

ان تمام کیسز کا یہ پہلو بالخصوص قابل ذکر ہے کہ تقریبا تمام کیسز کئی دہائیاں پرانے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں بیوی کی مرضی کے بغیر اسے مجبور کرنے پر شوہر بھی سزا کا حقدار ٹھہرتا ہے ۔۔۔ مگر پھر بھی صرف چونتیس فیصد کیسز میں پولیس کو رپورٹ کی جاتی ہے کیوں؟ شاید اس لیے کہ جنسی زیادتی یا ہراسمنٹ سے جڑا سٹگما عورتوں اور بعض صورتوں میں مردوں کو بھی زبان بند رکھنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔۔

ہر کوئی اپنا نتیجہ اخذ کرنے میں آزاد ہے مگر پاکستان میں جاری عائشہ گلالئے، عمران خان کیس میں عام لوگوں کا رویہ دیکھ کر افسوس تو ہوتا ہی ہے یہ بات بھی تعجب کا باعث ہے لوگ اس قسم کے بازاری اور طنزیہ سوالات کو اپنا حق کیوں سمجھتے ہیں۔اگر پاکستان جیسے معاشرے میں کسی عورت نے اتنا عرصہ خاموشی اختیار کیے رکھی تو اسی بات پر اسے جھوٹا قرار دے دینا قرین انصاف نہیں ۔۔۔۔ اگر آپ سوال پوچھنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں تو پھر خان صاحب سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ وہ ان الزامات کا ذاتی طور پر جواب دینے کو کیوں تیار نہیں؟

Jimmy Saville

اگر عمران خان کے ماضی کے سکینڈلز پر نگاہ ڈالی جائے تو سیتا وائٹ کیس میں بھی انہوں نے یہی کہا تھا کہ میں اس معاملے پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔ ممکن ہے عمران خان ان الزامات سے صدمے میں آ گئے ہوں اور اس وجہ سے اس پر بات نہ کرنا چاہتے ہوں لیکن تمام سوالات اس خاتون ہی سے کیوں پوچھے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ اس تحریر کا مقصد عمران خان کو جمی سیول قرار دینا ہرگز نہیں اس بات کا پورا امکان موجود ہے کہ وہ بے گناہ ثابت ہوں اور مذکورہ خاتون کا دعویٰ جھوٹ نکلے لیکن ابھی ایسا ہوا تو نہیں ۔۔۔۔۔

خاتون کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس اپنے دعوے کے ثبوت موجود ہیں انہیں یہ ثبوت سامنے لے آنے دیجیے۔ ان سے یہ مطالبہ کہ وہ یہ ثبوت ٹی وی پر دکھائیں احمقانہ ہے ۔۔۔۔ اس بات میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ یہ کیس کسی نہ کسی عدالت تک ضرور پہنچے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو پارلیمنٹ کی حد تک اس کی تحقیقات ضرور ہوں گی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ایسی کسی تحقیقات کے نتیجے کا انتظار کر لیں کیا ہم اپنے رویے نے ان تمام عورتوں کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہے جو ممکن ہے اس کیس سے ہمت پا کر اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو بے نقاب کرنے کا ارادہ باندھ رہی ہوں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔