دید کے واسطے آنکھیں ہوں ضروری تو نہیں


عجیب سے اداسی کے دن ہیں یہ سب اردگرد کیا اور کیسے ہورہا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو وطن عزیز کی بڑی اور معتبر عدالت لگی تھی۔ دوپہر بارہ بجے تک وسوسے اور تشویش تھی۔ پھر کچھ دیر کے بعد فیصلہ آگیا اور فیصلہ بھی ہوگیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کو فارغ کردیا گیا۔ نئے وزیراعظم کی تلاش شروع ہوئی۔ مسلمانوں کی تاریخ میں فیصلے ہمیشہ ہی حیران کردینے والے نظرآتے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت والے بھی اس فیصلہ پر ہکے بکے سے تھے اور ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ پاکستان میں عدلیہ ایسے فیصلے سنا بھی سکتی ہے۔ وہ اس کو جمہوریت کے لیے سنگ میل بتا رہے تھے۔ دوسری طرف عوام کا عمومی ردعمل تقریباً نارمل سا تھا۔ کچھ لوگ جذباتی ضرور تھے۔ سب سے زیادہ پریشانی میں مبتلا سیاسی اشرافیہ کے لوگ تھے اور اعلیٰ عدالت کے فیصلہ کی اپنی اپنی مرضی سے تاویلات کرتے رہے ہیں۔ ایسا فیصلہ صرف جمہوری دور میں ہی آسکتا ہے اور عوام کو احساس ہورہا ہے۔ عدالت کا اپنا کردار شفاف ہے۔ انہوں نے فریقین کو وقت دیا۔ افسوس وزیراعظم کے قانونی مشیر معاملہ فہمی نہ کرسکے اور مقدمہ ہار گئے۔

میاں نوازشریف میں حوصلہ تو بہت ہے مگر ہمت نظر نہیں آتی۔ ان کے چہرے پر پریشانی تو نہیں مگر کرب ضرور ہے۔ میاں صاحب آپ قسمت کے دھنی ہیں۔ یہ آپ کے صبر کی آزمائش ہے۔ مگر دوسروں کو آزمائش میں نہ ڈالیں۔ عدالت نے فیصلہ دیا۔ آپ نے قبول کیا۔ بس اب آپ کی جگہ ایک دوسرا شخص تخت نشین ہے۔ نئے وزیراعظم نے حلف اٹھانے سے پہلے قومی اسمبلی کے فلور پر آپ کی پالیسی کے برخلاف اپنا منشور دے دیا ہے۔ ان کی تقریر پر اسمبلی میں نیم خاموشی سی رہی۔ انہوں نے ٹیکس کے معاملات کو شفاف بنانے کے لیے بات کی اور ٹیکس کی اہمیت کا احساس دلایا۔ وہ آپ کے دور کے ٹیکس کی پالیسی سے متفق نظر نہیں آتے۔ تعلیم پر ان کی پریشانی سابقہ نظام کی ناقد نظر آئی۔ اسلحہ کے سلسلہ میں ان کی تشویش منطقی تھی۔ انہوں نے کسی حد تک سابقہ وزیرداخلہ کو متوجہ بھی کیا۔ پھر ان کا کہنا کہ پالیسی نہیں چہرہ بدلا ہے۔ وہ بات سیاسی ضرور تھی مگر جمہوریت کی تعریف بھی تو ایسے جملوں سے ہوسکتی ہے۔ یہ تبدیلی جمہوری نظام کے حوالہ سے ہوئی اورآپ سب اگر عدالتی فیصلہ کو آزمائش خیال کرتے ہیں توپھر یہ جمہوری نظام بھی عوام کی آزمائش ہی ہے۔

آزمائش سے سیاسی جماعتیں ہی نہیں پورا ملک گزر رہا ہے۔ ہم سب حالت جنگ میں ہیں۔ یہ جنگ عوام اور فوج لڑ رہی ہے۔ سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرون ملک دہشت گردی میں ان کا کردار نمایاں ہے۔ پھر چین کے ساتھ ترقی میں حصہ دار بننے کے لیے جو منصوبے شروع ہوچکے ہیں ان کے لیے بھی فوج کا کردار اہم ہے۔ اب اپنی فہم و فراست سے اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ آپ کے لکھنے اور بولنے پر تو پابندی نہیں۔ آپ کا تجربہ اس ملک کی سیاست کے کام آسکتا ہے۔ مگر ایسا سوچا جاسکتا ہے کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا۔ ہم سب کو اپنے اپنے حصہ کا ہی کام کرنا ہے۔ پہلے تو آپ کام دیکھتے تھے اور اب کام کرنے کا وقت آیا ہے اب آپ کے پاس وافر وقت ہے۔

اس دفعہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اور اس کی نگرانی کے لیے ایک محترم جج کو مقرر بھی کردیا ہے۔ ماضی کی روایت خوش گوار نہیں۔ عدالتوں نے اہم فیصلے کیے اور وقت کی سرکار کو ان پر عمل کرنے کے لیے ہدایت کی مگر نوکر شاہی کی برکت سے کسی بھی فیصلہ کی روح پرعمل نہ ہوسکا اور عوام کو مایوسی ہوئی اور عدالتی نظام پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ ہماری عدلیہ اور فوج نے ماضی سے کچھ نہ کچھ سبق حاصل کیا ہے۔ جبکہ ہمارے سیاست دان اور اشرافیہ ماضی سے خوف زدہ اور حال میں متکبر نظرآتی ہے۔ جتنی گرواٹ نوکر شاہی نظام میں نظر آتی ہے اس کا اندازہ کرنا ضروری ہے۔ عوام ایک عرصہ سے جمہوری نظام کے فرمودات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ ہمارے ہاں انتخابات کا معاملہ سدا سے مشکوک رہا ہے اور کوئی ایسی قانون سازی نہیں ہوسکی جو انتخابات کو شفاف بنا سکے۔ بنیادی جمہوریت کے نظام کو لاگو کرنے کے لیے نوکرشاہی کے کردار کو اہم بنا دیا گیا اور ابھی تک نچلی سطح پر عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تمام معاملات کے ناخدا سرکار کے ہرکارے ہیں اور ان کو سیاست دانوں کا تحفظ حاصل ہے۔ ایسے میں تھانہ اور تحصیل فرد واحد کے زیراثر رہتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ نئے وزیراعظم جو بظاہر ترقی پسند نظرآتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔

نئے وزیراعظم جناب خاقان عباسی امریکا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی زندگی میں آئے۔ امریکا میں اسمبلی کے ساتھی نوید قمر ان کے ساتھ تھے۔ انجینئرنگ کی تعلیم کے بعد سعودیہ میں کام کیا۔ راؤ قدیر جو فارسٹ کے اعلیٰ افیسر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاقان عباسی ایک مخلص دوست اور محنتی انسان ہیں۔ خاقان عباسی کے والد پاکستان ایئرفورس کے اعلیٰ آفیسر تھے۔ بپتا پڑی کہ ان کو ایئرفورس سے فارغ ہونے کے بعد اردن جانا پڑا۔ وہاں ان کے پرانے مہربان بریگیڈیئر ضیا الحق تھے اس وقت اردن میں پاکستانی افواج کے کماندار میجر جنرل نواز علی ملک تھے۔ جنرل نوازش علی ملک بریگیڈیئر ضیا سے خوش نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہم اپنی حدود کا خیال نہیں کرتے اور انہوں نے اپنی رائے کا اظہار بریگیڈیئر ضیا کی سالانہ رپورٹ میں بھی کیا۔ جنرل نوارش جب پاکستان آئے ہوئے تھے تو اچانک مری میں ان کا انتقال ہوگیا اوراس کے بعد بریگیڈیئر ضیا الحق کو اردن میں من مانی کرنے کا موقع مل گیا۔ خاقان عباسی کے والد یہاں کانٹریکٹر کی حیثیت میں کام کررہے تھے۔ شاہ اردن نے ان کو سعودی بادشاہ کے نام خط دیا اور راؤ قدیر کے مطابق ہوائی اڈوں کی تعمیر کا بڑا ٹھیکہ خاقان عباسی کے والد کو مل گیا۔

پھر اوجڑی کیمپ کے حادثہ میں ان کے والد ہلاک ہوگئے اورخاقان عباسی کو واپس آکر والد کا کام دیکھنا پڑا۔ اس کے بعد بھی ان کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہے۔ جب میاں نوازشریف باہمی معاہدے سے جدہ گئے تو خاقان عباسی دو سال تک جیل میں رہے۔ وہ دبنگ قیدی تھے اور سابق صدرآصف علی زرداری ان سے بہت متاثر تھے۔ پی آئی اے کے چیئرمین رہے۔ میاں صاحب کے والد کے معتقد تھے۔ پھر اپنی ایئرلائن بنائی اور خوب چلائی۔ چودھری نثار کے بعد کامیاب وزیر پٹرولیم رہے اور ڈار صاحب کو مفید مشورے بھی دیتے رہے اور نوکرشاہی کو قابو میں رکھا۔

اب ان کے لیے ایک امتحان اور آزمائش ہے۔ حیران کن بات ہے وہ جمہوریت پریقین رکھتے ہیں مگر مانتے نہیں۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ ربّ نے ان کوموقع دیا ہے کہ وہ جو سوچتے تھے اس کو اب کر بھی سکتے ہیں۔ اس کے لیے وہ اپنے آپ کو بدلتے ہیں یا توقع کرتے ہیں کہ دوسرے ہی بدل جائیں۔ 45 دن کے بعد پہلا وقفہ ہوگا اور اس کے بعد ہی اصلی کھیل شروع ہوسکتا ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔