عائشہ گلا لئی: ایک فوٹو جرنلسٹ کی چند یادیں


میں نے ان کو قریب سے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ ہم فوٹو جرنلسٹ عام فوٹو گرافروں سے تھوڑا مختلف ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فوٹو جرنلسٹ کی تین آنکھیں ہوتی ہیں۔ دو وہی جو سب کی ہوتی ہیں اور تیسری کیمرے کی آنکھ فوٹو جرنلسٹ کے کیمرے کی آنکھ دنیا کی حسین ترین آنکھوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ کسی پر مرکوز ہو جائے تو اس کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ کیمرے کے آنکھ کو محسوس کر کے سامنے والے کے رویے کا دارو مدار اس پر ہوتا ہے کہ وہ کر کیا رہا تھا۔ یا پھر کیا کرنا چاہتا ہے۔

میں نے بائیس سالہ تصویری صحافت میں لوگوں کو کیمرے کے سامنے گھبراتے، منہ چھپاتے، بھاگتے، روتے گڑگڑاتے، منہ پر خاک ملتے، اچھلتے کودتے، نعرے لگاتے، لیڈر کے پیچھے ایڑیوں کے بل پر کھڑے ہو کر سر نکالتے، جان کو خطرے میں ڈالتے اور ہنستے مسکراتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ میں کیمرے کی آنکھ کے حسن اور تباہ کاریوں سے بھی واقف ہوں۔ یہ نیا پار لگانے اور کشتی ڈبو دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ آنکھ ہنساتی اور رلاتی بھی ہے۔ کیمرہ کی آنکھ جان بچاتی ہے اور بعض اوقات جان لینے کا موجب بھی بن جاتی ہے۔ خیر میں کہ رہا تھا کہ میں نے ان کو پہلی مرتبہ قریب سے دیکھا تھا

ان دنوں میں روزنامہ جہان پاکستان میں تھا۔ نوازشریف کی حکومت کو غالبا ایک سال ہی ہوا تھا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی جانب سے حکومت کے خلاف دھاندلی کے شور کے ساتھ احتجاجی دھرنے کا آغاز ہوا۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر ایڈیٹر معظم فخر صاحب نے مجھے راولپنڈی سے اسلام آباد ڈیوٹی کرنے کو کہا اور وہاں میری رہائش کا انتظام بھی کر دیا۔ یہ میرے لیے سخت ترین تھے جب میں ڈیڑھ ہفتہ اپنے گھر بھی نہ جا سکا اور دن رات دھرنے کی کوریج میں مصروف رہتا۔

اگست کی جھلسا دینے والی حبس سے زیادہ ملک کا سیاسی موسم حبس زدہ تھا۔ کارکنوں کی غلیلیں، ڈنڈے، پتھر، اور عمران اور قادری صاحب کے جوش دلا نے کے ساتھ ساتھ ہوش اڑا دینے والے خطابات جہاں کارکنوں کے لیے مزید سے مزید تحریک کا باعث بن رہے تھے وہاں مجھ جیسے جمہوریت پسندصحافیوں کے کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا رہے تھے۔ دونوں دھرنے جڑواں تھے لیکن بہت سا فرق بھی واضح تھا۔ عوامی تحریک کے کارکن منظم تھے اور صحافیوں سے بالکل بدتمیزی نہ کرتے۔ حتی کہ اگر کسی کی پانی کی بوتل خالی ہوجاتی تو پانی بھی عنایت کر دیتے کوریج کے دوران تعاون کرتے۔ لیکن دوسری جانب صورتحال مختلف تھی۔ وہاں ہمیں بہت ڈر اور سہم کر کام کرنا پڑتا۔ بات بات پر ہجوم مشتعل ہو جاتا۔ کوریج کے دوران بے حد مشکلات پیش آتیں۔ خاص طور پر جب ایکسکلوزو تصاویر کے لالچ میں ہم اپنے صحافی گروپ سے علیحدہ ہو جاتے۔ کئی مرتبہ مشتعل نوجوان مارنے کو دوڑتے ڈراتے دھمکاتے۔ ایسے میں کچھ مخصوص میڈیا گروپوں سے اپنا تعلق ظاہر کر کے گلو خلاصی کرنا پڑتی۔ بعض اوقات وہ زبردستی ہم سے اپنے حق میں نعرے بھی لگواتے۔ اپنی جان اور کیمروں کی حفاظت سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے یہ ہماری ٹریننگ تھی۔ کمال مہارت سے تصاویر بنا کر نکل لینا ہی بہتر ہو تا ہے۔

دھرنے کی یاداشتیں اتنی ہیں کہ اس پر کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ لیکن اس وقت اختصار ضروری ہے۔ یہ سترہ اگست دو ہزار چودہ کی سہ پہر تھی آبپارہ والی سڑک پر عوامی تحریک اور اس کی قریبی سڑک پر عمران خان کے کارکن موجودتھے۔ میں عوامی تحریک کے دھرنے میں موجود تھا جہاں تھوڑی دیر میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا خطاب شروع ہونے والا تھا۔ ایسے میں اچانک مجھے ایک سورس سے اطلاع ملی کے کپتان والی سڑک پر مشتعل کارکن ریڈ زون کی سیکیورٹی کے لیے لگائے گئے کنٹینرز کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ میں کسی کو بتائے بغیر وہاں سے کھسکا اور تحریک انصاف والی سڑک پر جا پہنچا۔ قائدین غائب تھے اور تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکن نعرے لگاتے ہوئے ہوئے سیکیورٹی کنٹینرز کی جانب بڑھ رہے تھا جس کے پار سینکڑوں پولیس اہلکاروں کے دستے بھی موجود تھے۔ میں سمجھ گیا کہ کام شروع ہونے والا ہے۔ میں نے اپنی جیب کو ٹٹولا وہاں نمک کی ڈبیا کو محسوس کر کے اطمینان ہوا۔ نمک آنسو گیس سے بچاؤ کا ایک بہترین ذریعہ ہے اگر اسے تھوڑا گیلا کر کے منہ پر مل لیا جائے خاص طور پر آنکھوں کے نیچے۔

مشتعل کارکن نعرے لگاتے ہوئے سیکیورٹی کنٹینروں کی جانب بڑھ رہے تھے اور میں وہاں اکیلا فوٹو جرنلسٹ تصاویر بنا رہا تھا۔ قریب پہنچ کر کارکنوں نے کنٹینروں کے پیچھے موجود پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا اور گالی گلوچ سے پولیس کو اشتعال دلانے لگے۔ مجھے حیرت تھی کہ پولیس اہلکار جواب میں کچھ بھی نہیں کر رہے تھے بلکہ صرف اپنے ڈنڈوں سے اپنی ڈھالیں بجا رہے تھے۔ کارکنوں نے کنٹینروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کی بعض اس پر چڑھنے کی کو شش کی۔ میں نے کیمرہ سیدھا کیا ہی تھا کچھ کارکنوں نے مجھے دیکھ لیا اور میری طرف لپکے۔ میں گھبرا گیا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ ایسے ہجوم کے آگے بھاگنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ایسے میں جب کوئی اور میڈیا بھی موجود نہ ہو۔ سو میں اسی جگہ دم سادھے کھڑا ہو گیا جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے خوف سے کھسیانا ہو کر ہنسنا شروع کر دیا اور کیمرہ ان کی جانب کر کے کہا کہ نعرے لگاومیں آپ کی تصاویر بناتا ہوں۔ وہ تھوڑا سا ٹھٹھکے اور مجھ سے بدتمیزی کرنے لگے میں تصاویر بناتا رہا اور انہیں سراہنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ اچھل اچھل کر میری جانب آنے لگے۔ ایسے میں ایک فارن میڈیا کا کیمرہ مین بھی وہاں آن پہنچا۔ لیکن کارکن نہ باز آئے۔ اچانک ایک زنانہ پشتو آواز آئی۔ اور وہ سارے اس آواز کی جانب گھوم گئے۔ میں نے بھی آواز کی جانب نظر گھمائی۔ ایک نوجوان خوبصورت باوقار خاتون کھڑی تھیں میں نے ان کو قریب سے پہلی مرتبہ دیکھا تھا

وہ عائشہ گلا لئی تھیں۔ جو شاید رات کو ہونے والے کپتان کے خطاب کے انتظامات دیکھنے آئی تھیں۔ میں نے ان پر ممنون بھری نگاہ ڈالی۔ لیکن وہ کارکنوں سے مخاطب تھیں۔ سبز رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس۔ سبز رنگ کا ہی دوپٹہ نفاست سے سر پر ٹکا ہوا تھا۔ شانوں پر بڑی سی سفید چادر اوڑھے وہ باوقار انداز میں کارکنوں کو کچھ کہتی ہوئی آگے کو چل پڑیں۔ اور میں نے ان کی چند تصاویر بنا لیں۔ اس بلاگ میں موجود تصاویر اسی واقعے اور انہیں لمحوں کی ہیں۔ کارکن سب ان کے ارد گرد ہو لیے۔ وہ سیکیورٹی کنٹینرز کے قریب گئیں اور مشتعل کارکنوں کو منع کیا اور واپس جانے کو کہا۔ شاید وہ جانتی تھیں کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا کیوں کہ محض دو دن بعد انیس اگست کی رات ان سیکیورٹی کنٹینروں کو کمال مہارت سے نامعلوم ماہر کارکنوں کی جانب سے کرینوں کی مدد سے ہٹا کر ہلہ بول دیا گیا تھا۔

عائشہ گلا لئی کو اکثر چینلز اور کپتان کے جلسوں میں دیکھ رکھا تھا۔ وہ ہمیشہ دوپٹہ اور چادر میں ہوتی۔ شاید پٹھان کلچر وجہ تھی۔ کیوں کہ دھرنے اور جلسے میں مختلف حلیے کی خواتین شریک ہوتی تھی اس لیے وہ ان سے تھوڑا مختلف دکھائی دیتیں۔ لیکن محض حلیے کی بنیاد پر نہ تو کسی کو پارسا ٹھہرایا جا سکتا ہے اور نہ کسی کے کردار پر انگلی اٹھائی جا سکتی ہے۔ سترہ اگست کو عائشہ گلا لئی کی اچانک بنائی تصاویر میرے لیے کوئی اہمیت نہ رکھتی تھیں کیوں کہ اور بہت ہی اہم تصاویر بن رہی تھیں۔ وقت گزرتا رہا۔ دھرنے والے اپنے آخری حد تک گئے پارلیمنٹ ہاوس پر حملہ ہوا پی ٹی وی پر قبضہ ہوا۔ تشدد اپنی انتہا پر بھی پہنچا لیکن جڑواں دھرنے اپنے عروج کو پہنچ کر بھی ناکام ہوئے اور کپتان کے ایمپائر نے بھی انگلی نہ اٹھائی۔

لیکن کون جانتا تھا کہ دھرنوں کی ناکامی کے بعد نواز شریف کو پانامہ کیس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تین سال بعد وہ سپریم کورٹ کے ذریعے نا اہل قرار پائیں گے۔ اور ابھی تحریک انصاف نواز شریف کی نا اہلی کا جشن جی بھر کر منا بھی نہ پائے گی کہ عمران خان پر ان کی اپنی جماعت کی پٹھان ایم این اے عائشہ گلا لئی ایسے الزامات عاید کر دے گی کہ سب ششدر رہ جائیں گے۔ کپتان جو کہ اپنی دو بیویوں کو طلاق دے چکے ہیں اور تیسری شادی کے برملا خواہشمند ہیں۔ اور نواز شریف کی نا اہلی کے بعد اس وقت وہ اپنی دانست میں سیاست کے عروج پر ہیں۔ ایم این اے عائشہ گلا لئی کا عمران خان کو بدکردار قرار دے کر خواتین کو تحریک انصاف کو خواتین کی عزتوں کے لیے خطرناک جماعت قرار دینا خود ان کے لیے بھی خطرناک ہے۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ن لیگ اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ اور بہت سے سنجیدہ فقری دانشور یہ کہ رہے ہیں کہ عمران خان کو ریاست کی بڑی قوتوں کی حمایت حاصل ہے۔ عائشہ کے لگائے الزامات سے عمران خان اپنی عدالتی فتح کا جشن بھول کر اپنی سیاست اور عزت بچانے کی فکر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اگرچہ الزام جب تک ثابت نہ ہو جائے الزام ہی رہتا ہے اور الزام لگانے والی ثابت نہ کر سکے تو خود ملزمہ۔ یہ اور بات کہ کپتان خود الزامی سیاست کے باعث بعض حلقوں میں الزام خان پکارے جاتے ہیں۔

عائشہ نے عمران خان پر اتنے بڑے الزام لگائے کہ سیاسی منظر نامے پر وہ اچانک انتہائی اہم ہو گئی ہیں۔ ثبوت کے طور پر بقول ان کے موبائیل میں عمران خانب کی جانب سے بھیجے گئے بے ہودہ پیغامات ہیں۔ الزام جنسی ہراسمنٹ کے زمرے میں آتے ہیں۔ عائشہ نے نہ صرف اپنی عزت، سیاست کو داؤ پر لگایا بلکہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے وابستہ خواتین بھی انگشت بدنداں ہیں۔ اور ایسے ملک میں جہاں خواتین ملک کی باون فیصد آبادی ہونے کے باوجود کھل کر سیاست میں حصہ نہیں لے پاتیں بلکہ اکثر علاقوں میں ان کے ووٹ ڈالنے پر بھی پابندی ہے۔ لیکن افسوس کہ ان الزامات پر تحریک انصاف کا رد عمل عجیب انداز میں سامنے آیا ہے۔ خواتین ونگ والیاں عمران خان کے دفاع میں عائشہ کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ ان پر ن لیگ کے رہنما امیر مقام سے پانچ کروڑ لینے کا جوابی الزام بھی لگایا گیا ہے اور خیبر پختون خواہ میں ترقیاتی منصوبوں میں مالی خرد برد کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے انہی کی جانب سے خیبر پختون خواہ میں شفافیت کے دعوے کیے جا رہے تھے۔

فواد چوہدری کی جانب سے عائشہ کی غیر سیاسی بہن ماریا طور پکئی جو کہ سکواش کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کر رہی ہیں ان پر نیکر پہننے جیسے گھٹیا الزام بھی عائد کیے گئے۔ جو کہ واقعی قابل مذمت ہیں۔ ظاہر ہے سکوائش برقعہ پہن کر تو کھیلی نہیں جا سکتی۔ بلاشبہ ماریا طور پکئی سکواش کے میدان میں پاکستان کا سرمایہ ہیں۔ عمران خان جو کہ اس معاملے پر مسلسل خاموشی سادھے ہوئے تھے بولے تو کہا کہ یہ ن لیگ کی سازش ہے اوریہ بھی کہا کہ عائشہ کی بہن ماریا کو نشانہ نہ بنایا جائے اس کے یہ معانی یہ بھی ہیں کہ عائشہ کو ہی نشانہ بنایا جائے۔ لیکن سوشل میڈیا پر عائشہ کے ساتھ ساتھ ماریا کے کردار پر بھی بے ہودہ حملے جاری ہیں۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیتا وائٹ سکینڈل بھی ن لیگ کی سازش تھی۔ ہمارے پاس کوئی ایساپیمانہ تو نہیں ہے کہ عائشہ کے الزامات کو سچ یا جھوٹ ثابت کیا جا سکے لیکن اب جبکہ عائشہ اپنی عزت و جان کو داؤ پر لگا کر الزام لگا ہی چکی ہیں اور سینیر صحافی حامد میر کو کچھ موبائیل پیغامات پڑھا بھی چکی ہیں جن پر ان کا کہنا ہے کہ پیغامات عائشہ کے الزامات کو تقویت دیتے ہیں اگر ثابت ہو جائیں۔ ضروری ہے کہ تحقیقات کروا لی جائیں۔

کوئی حرج نہیں اگر عمران خان اپنا موبائیل تحقیقات کے لیے پیش کر دیں۔ کوئی حرج بھی نہیں اگر وہ قومی اسمبلی میں ہی کسی پارلیمانی کمیٹی کے آگے پیش ہو جائیں۔ وہ عائشہ پر ہتک عزت کا دعوی بھی دائر کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ انصاف سے مبرا کوئی نہیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ لیکن عائشہ کے خلاف تحریک انصاف کی ایسی اخلاق سوز مہم مناسب نہیں۔ سوچیں کہ ہمارے تنگ نظر معاشرے میں کسی بھی خاتون کا جنسی ہراس کے خلاف آواز اٹھانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ حتی کہ جو خواتین اپنے ہی گھر یا خاندان میں بھی رشتہ داروں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں وہ بھی بے چاری عزت جانے کے باوجود عزت بچانے کو خاموش رہتی ہیں کیوں کہ وہ جانتی ہیں کہ بولنے کے نتائج کتنے بھیانک ہوں گے۔ اگر عائشہ گلا لئی کے الزام سچے ہیں تو اس خاتون کے حوصلے اور بہادری کو سلام ہے اور اگر جھوٹے ہیں تو اسے دنیا و آخرت میں اللہ کے قہر سے کون بچا سکتا ہے؟
ختم شد

مصنف کا تعارف۔ خرم بٹ۔ بائیس سال سے فوٹو جرنلسٹ ہیں۔ مزاح نگار۔ کالم نگار۔ بلاگر۔ ون لائنر۔ بٹ گمانیاں کے نام سے طنز ومزاح لکھتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔