چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کیا کہا تھا؟


کوئی لمحہ غضب کا ہوتا ہے۔ حیدر آباد سے سکھر کی طرف روانہ ہوں تو چھوٹی سی ایک سڑک سندھ کے بیچوں بیچ بل کھاتی ہوئی گزرتی ہے۔ ہالہ شہر کا بازار بے حد سادہ ہے۔ دست کاری کی چند دکانیں ہیں، کہیں ریڑھی پر تھادل کا مشروب فروخت ہو رہا ہے۔ کسے یاد ہو گا کہ چالیس برس پہلے اس سڑک پر کھلی جیپ میں کھڑے ہو کر بے نظیر بھٹو نے ضیاالحق کو للکارا تھا۔ “ضیا الحق سمجھتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں بندوق ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ میرا ہاتھ بھی اس کے گریبان پر ہے”۔ بعد میں آنے والا اس تاریخی جملے کو یاد کرتے ہوئے ہالہ کے اس چوک کو دیکھتا ہے۔ مست توکلی نے لکھا تھا، میں تیرے پڑاؤ کے نشانات کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ تاریخ لکھنے والے تو آگے نکل گئے۔ تاریخ پڑھنے والے بہت موجود ہیں اور بہت ابھی پیدا ہوں گے۔

کوئٹہ میں باز محمد شہید فاؤنڈیشن نے شہید وکیلوں کی پہلی برسی کے موقع پر ایک سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھا۔ چئیرمین سینیٹ رضا ربانی مہمان خصوصی تھے۔ چوہدری اعتزاز احسن تشریف فرما تھے۔ اعتزاز احسن نے حسب توقع بہت خوبصورت گفتگو کی۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ عبدالخالق ہزارہ کی تقریر بے حد موثر تھی۔ لیکن یہ اجتماع رضا ربانی نے اپنے نام کر لیا۔ ان کی تقریر میں اس تدبر کا نشان تھا جو پچاس برس تک سیاست کے میدان میں چومکھی لڑتے رہنے سے پیدا ہوتا ہے۔ دو جملے آپ بھی ملاحظہ کیجیے۔ “پاکستان کے کسی سویلین شہری کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ درکار نہیں۔” پھر فرمایا، “میں پارلیمان کی طرف سے پاکستان کے فیصلہ سازوں کو، تمام اداروں کو، سیاسی جماعتوں کو، عدلیہ کو اور حساس اداروں کو دعوت دیتا ہوں کہ مل بیٹھیں اور اس ملک کے مستقبل کے بارے میں کچھ سمجھوتہ کریں۔ خوش قسمتی تھی کہ رضا ربانی کے یہ الفاظ اس طرح سنے کہ مقرر اور سامع کے درمیان چند گز کا فاصلہ تھا۔ یہ لفظ تو کڑی کمان سے نکلا ہوا وہ تیر تھے جو فاصلوں اور زمانوں کو قطع کرتے ہوئے تاریخ کے قلب تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ کہ اس وقت ہمارا حلقوم زخمی ہے۔

رضا ربانی کی آواز ایک درماندہ راہرو کی صدائے دردناک تھی۔ یہ وہ آواز ہے جو ہم نے 12 اگست 1948ء  کو بابڑا فائرنگ کے بعد باچا خان کے سینے سے نکلنے والی ہوک میں سنی۔ 21 فروری 1952 کو ڈھاکا یونیورسٹی میں سنی۔ یہ آواز ہم نے رستم خان کیانی کے لفظوں میں سماعت کی۔ یہ پکار ہم نے حسین شہید سہروردی سے سنی۔ یہ آواز ہم نے 1970ء میں ملک غلام جیلانی سے سنی۔ یہ آوزا ہم نے حیدرآباد ٹریبونل میں قوم پرست رہنماؤن سے سنی۔ یہ وہ آواز ہے جو ہم نے سپریم کورٹ میں بیان صفائی دیتے ہوئے بھٹو صاحب سے سنی۔ ہم نے یہ آواز میر غوث بخش بزنجو سے سنی۔ محمود اچکزئی سے سنی۔ بے نظیر بھٹو سے سنی۔ نواز شریف سے سنی۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے کانوں کو یہ بار سماعت بار بار اٹھانا پڑتا ہے۔ تفکر، فہم اور درد سے بھری ان آوازوں کو کبھی شنوائی نصیب نہیں ہوئی۔ امید قائم رکھنا سانس لینے والوں کی مجبوری ہے لیکن قرائن کہے دیتے ہیں کہ قائد اعظم کے اے ڈی سی عطا ربانی کے فرزند کی یہ پکار بھی ہوا میں تحلیل ہو جائے گی۔ مشکل یہ ہے کہ لڑائی کا پالا جم چکا ہے۔ وہ حد پار کر لی گئی ہے جس کے بعد حادثے پیش آیا کرتے ہیں۔ خواہش یہی ہے کہ روشنی کی کوئی کرن ڈھونڈی جائے، مشکل مگر یہ ہے کہ کہانی اس قدر الجھ گئی ہے کہ چاروں طرف گھپ اندھیرا ہے اور انہونی کا جان لیوا خوف ہے۔ ماضی میں ہم خوش قسمت نہیں رہے۔ شریف کنجاہی صاحب اس طرح کی صورت حال میں کہا کرتے تھے کہ شاید اس دفعہ ہماری تقدیر بدل جائے۔ شریف کنجاہی تو بہت ہی مرنجاں مرنج انسان تھے، ہماری کیفیت کو سید عابد علی عابد نے بہتر بیان کیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کشمیر پھر بھڑک اٹھا

مقدرات کی تقسیم ہو رہی تھی جہاں

جو غم دیے نہ گئے تھے وہ میں نے جا کے لیے

رضا ربانی ہمارے ملک کے سنجیدہ ترین سیاسی راہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملک میں وفاق کی علامت ایوان بالا کے قائد ہیں۔ ان کا دامن کسی الزام کے دھبے سے کبھی آلودہ نہیں ہوا۔ سیاسی طیف کے سب حصوں میں ان کا یکساں احترام کیا جاتا ہے۔ تمدنی حلقے انہیں ملک کا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ رضا ربانی صحیح وقت پر صحیح بات کہہ رہے ہیں۔ ہمارے دو ہی نصب العین ہیں۔ پاکستان کی سلامتی اور پاکستان میں بسنے والوں کے معیار زندگی میں بہتری۔ سیاسی عدم استحکام سے معاشی ترقی کی کونپل نمودار نہیں ہوتی۔ اہل نظر سمجھتے ہیں کہ ملک کو گوناگوں خطرات لاحق ہیں۔ خطرے ہی سے بہتری کا راستہ تراشا جاتا ہے۔ راستہ یہی ہے کہ قوم میں وسیع تر اور شفاف مکالمہ شروع کیا جائے۔

پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خط تنصیف کے دونوں طرف سیاسی قوتوں کا ایسا اتفاق رائے پیدا ہوا ہو، جیسا اس وقت قومی معاملات پر موجود ہے اور جسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ نواز پنجاب میں وسیع سیاسی تائید رکھتی ہے۔ معلوم کیجیے کہ اس جماعت کی قیادت کیا سوچ رہی ہے۔ دیہی سندھ کی نمائندگی پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ ان کا سیاسی موقف موجود ہے۔ بلوچستان کے قوم پرست پاکستان کی سلامتی سے لاتعلق نہیں ہیں۔ خیبر پختونخواہ کی نمائندہ سیاسی قیادت کا موقف جانا پہچانا ہے۔ اہل صحافت پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اہل دانش سے دریافت کیجئے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فیصلہ کرنے والوں کو ہوا کا دباؤ اور دیگر اقسام کے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ اس دباؤ کو وسیع تر اخلاقی قوت ہی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ اخلاقی توانائی تو مکالمے کی مدد سے اعتماد کا پل تعمیر کرنے سے ہی نصیب ہو سکتی ہے۔ اگر ہم تاریک جنگل میں بندوق چھتیائے ہوئے اپنی اپنی مچان پر بیٹھے رہیں گے تو جھگڑا طول پکڑے گا۔ معاملات کو معمول پر لانے کے لیے تو مکالمہ کرنا پڑے گا۔ شفاف مکالمے کے لیے رضا ربانی کی آواز پر جو بھی لبیک کہے گا، اسے اس ملک کی آنے والی نسلوں کا احترام نصیب ہو گا۔ بزرگ شاعر احمد مشتاق نے شاید اپنے شعر میں رضا ربانی کے اس خطاب ہی کی پیش گوئی کی تھی؛

اسی بارے میں: ۔  سب سے بڑا اور گہرا گڑھا۔ ۔ ۔

دل نہ چھوٹا کرو، سوکھا نہیں سارا جنگل

ایک جھنڈ سے ابھی پانی کی صدا آتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔