جی ٹی روڈ پر بریکیں مارتا جمہوری ڈانس


پہلی حکومت تو میاں صاحب نے یوں گنوائی تھی کہ اعلان کر دیا تھا کہ ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔ یہ سن کر صدر نے اسمبلی توڑی جو بحال ہوئی پھر اس صدر کو ساتھ ڈبو کر نوازشریف فارغ ہوئے۔ دوسری حکومت آرمی چیف کی برطرفی کی ڈکٹیشن دیتے ہوئے گل کی۔ اس بار سانس کھینچ کر بیٹھے رہے ہیں مدبر لُک بھی دی ہے پر مائی لارڈ نے اقامہ کارڈ دکھا کر باہر کر دیا ہے۔

نوازشریف کافی پہلے ہی یہ بھانپ گئے تھے کہ ان کی سرکار چلنی اس بار بھی کوئی نہیں۔ ان کے ساتھی انہیں کہانیاں سناتے رہتے تھے کہ ہم چلا کر دکھائیں گے۔ سپریم کورٹ سے دھڑام ہونے کے بعد ان ساتھیوں کی انہوں نے یہ کہہ کر تعریف ضرور کی ہو گی کہ ہن آرام اے۔

اندازہ ہی ہے کہ شاھد خاقان عباسی کو منتخب ہی باقی مدت کے لیے کیا گیا تھا۔ شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا اعلان ان کا متبادل وزیراعلی لانے کا اعلان صرف اپنی پارٹی میں کرنٹ چھوڑنے کو کیا گیا تھا۔ مسلم لیگ نون کے اہم لیڈر ہمارے بے وثوق سے کہتے پائے گئے ہیں کہ میں نے شہباز شریف سے کہہ دیا ہے کہ نہ تو آپ ڈمی وزیراعظم بنیں نہ مجھے ڈمی وزیر اعلی بنائیں۔

جب ایک سیٹ خالی ہوتی ہے تو کئی امیدوار سامنے آتے ہیں۔ نوازشریف نے جس طرح پہلے عبوری وزیراعظم لانے کا بولا ساتھ وزیر اعلی پنجاب کو اوپر لانے کی سکیم دی۔ اس کے ساتھ متبادل وزیراعلی پنجاب لانے کا بتایا پھر ایک مستقل وزیراعلی لانے کی سائنس بیان کی۔ اس ساری اتھل پتھل میں مرکز اور صوبے میں چار بار کابینہ بننی تھی۔ ہر ہر مسلم لیگی کو اپنے اندر ایک ٹھاٹھیں مارتا وزیر تو کم از کم دکھائی دینے لگ ہی گیا تھا۔ نوازشریف نے نہایت اطمینان سے ایک لفظ بولے بغیر، ایک ٹکا دیے بغیر امید دلائی اس کو بطور حربہ استعمال کیا۔ پارٹی ساری زیرو میٹر ہوئی اکٹھی پائی گئی ہے۔ مستقل ناراض سیاستدان چوھدری نثار بھی میاں صاحب کے ساتھ بیٹھے مسکراتے پائے جا رہے ہیں۔

جو بندہ انگریزوں کی سی آئی ڈی میں ملازم رہا ہے۔ جس نے دوسری سے لے کر ساتویں عالمی جنگ لڑ رکھی ہے۔ وہ سارے آج کل ایک ہی بات پوچھ رہے ہیں۔ کیا نوازشریف جی ٹی روڈ سے لاہور جائیں گے۔ ان ساری بزرگ روحوں کی تسکین کے لیے میاں صاحب نے اپنی نا اہلی والے دن ہی جی ٹی روڈ پر بریکیں مارتے لاہور جانے کا عزم ظاہر کر دیا تھا۔ اپنے پارٹی اجلاس میں اس سوال پر انہوں نے اپنے سارے لیڈروں کو لڑا کر دیکھا کہ پتہ لگے کہ وہ اب کیا مشورہ دیتے ہیں۔

نوازشریف ایک بات میں بڑے واضح ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اقامے پر نا اہل ہونا اس کہانی کا اختتام نہیں ہے۔ اگلے مراحل میں گرفتاری جیل بھی عین ممکن بلکہ ضروری ہے۔ ایسے میں ریویو کی درخواستیں وغیرہ سب بس دل خوش کرنے والی باتیں ہیں۔ وہ سیاستدان ہیں سمجھ گئے ہیں کہ اب سروائیول کا بھی اور واپسی کا بھی ایک ہی راستہ ہے جو ووٹر کے در پر جانے سے ہی کھلے گا۔

چلیں اب اپنے خبریوں کو خوار نہیں کرتے ویسے ہی فرض کرتے ہیں۔ فرض کریں نوازشریف اپنا سفر چارسدہ سے شروع کرتے۔ وہاں کھڑے ہو کر باچا خان ولی خان کو یاد کرتے۔ یہ کہتے کہ اگر ہم جمہوری پاکستان کی بنیاد پہلے رکھ لیتے تو ہمارے یہ لیڈر جیلیں تکلیفیں نہ جھیلتے۔ ہم مختلف قوم ہوتے۔ قوم پرستوں کی دکھتی رگیں چھیڑ کر وہ اٹک پار کرتے ہوئے پاکستان کی مارشل بیلٹ میں داخل ہوجاتے۔ ساری جی ٹی روڈ جب پنڈی سے آگے بڑھتی ہے تو آزاد کشمیر کے کئی حلقے ساتھ چلتے ہیں۔ وہی حلقے جہاں مسلم لیگ نون کی حکومت ہے۔ جہاں کے منتخب وزیراعظم کو بازاری انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ وہاں سے بھی کارکن آتے بلکہ انہیں لایا جاتا۔ راستے میں رک کر جب وہاں فوجی آمریتوں کے ہاتھوں قومی وقت کی بربادی کی داستان سنتے سناتے قافلہ جہلم تک پہنچتا۔ اس سے پہلے ہی کسی وقت وہاں جذبوں میں وہ مطلوبہ ابال آ جانا تھا جب گھروں سے فون آنے لگ جاتے کہ پتر ساڈی بڑی ہو رہی۔ گھر محلے میں اضطراب پھیل جائے تو ڈیوٹی پر کھڑا بندہ متاثر ہوتا ہے۔

آپ یہ مانیں نہ مانیں لیکن جن کو گھروں سے فون آنے تھے وہ سب پہلے ہی سمجھ گئے ہیں۔ مسلم لیگ کے بڈھے بڈھے ٹلے ٹلے نوجوان دکھائی دیتے بزرگ لیڈر بھی سب سمجھ گئے۔ رابطے ہوئے ہیں کہ بس جو ہونا تھا ہو گیا اب آگے کا سوچیں اور اچھا سوچیں۔ جی ٹی روڈ پر نہ جائیں اتنا پریشر بڑھانے کی ضرورت نہیں ویسے ہی بات کر لیتے ہیں۔ راستہ نکالتے ہیں۔

یہ روٹ ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ اب نوازشریف موٹروے پر راستے میں منتخب جگہوں پر خطاب کرتے لاہور پہنچیں گے۔ شاید داتا دربار جا کر تقریر کر کے گھر چلے جائیں۔ یا اپنے پہلے سے سوچے ہوئے منصوبے کے آخری حصے پر عمل کا اعلان کر دیں۔ آخری حصہ یہ ہے کہ نوازشریف اپنے نا اہلی کے بعد خالی کردہ سیٹ پر اپنے کاغزات نامزدگی جمع کرا دیں۔ ابھی ایک کنفیوژن ہے کہ ان کی نا اہلی کتنی مدت کی ہے۔ اس کنفیوژن کے خاتمے کے لیے بھی ایک لمبی قانونی جنگ لڑنی ہو گی۔

اس قانونی لڑائی کا ایک مختصر طریقہ کاغزات نامزدگی داخل کرانا ہے۔ ریٹرننگ افسر کے ہاتھوں مسترد یا منظور ہونے کی ہر دو صورت میں چیلنج ہوتے یہ چند دنوں میں سپریم کورٹ تک پہنچ جائے گا معاملہ۔ اس بار اس کیس کے پیچھے ایک پبلک پریشر بھی ہو گا۔

پبلک پریشر کی بھی عجب کہانی ہے جب دھرنے کے بعد پارلیمنٹ میں ساری پارٹیاں اکٹھی ہو گئیں تو وہ پریشر نظرانداز نہ ہو سکا۔ دھاندلی پر کمیشن کا فیصلہ کپتان کے خلاف آ گیا۔ اس بار پانامہ پر کپتان نے پریشر ڈالا تو وزیراعظم نا اہل ہو گئے۔ اب فیصلہ پتہ نہیں کیا آئے لیکن یہ پبلک پریشر آئینی ترمیم کا راستہ ضرور ہموار کر دے گا۔

جی ٹی روڈ پر بریک ضرور لگ گئی ہے لیکن جمہوریت فتح کا ڈانس کر کے رہے گی۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 252 posts and counting.See all posts by wisi