گلالئی پرحملہ کیوں؟


گلالئی عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف بغاوت اورجنگ شعوری یا لا شعوری طور پر لڑ رہی ہے، صرف اپنی ذات کی بقاء کے لئے لڑرہی ہے، یا اپنے طبقاتی مفاد کے لئے لڑرہی ہے، جو بھی وجہ ہو مگر سماج میں پہلے سے موجود قدامت پرست اور پدر شاہی قوتیں اب اُس کو اپنی شکل دی چکی ہیں اور گلالئی کے خلاف صف آرا ہو چکی ہیں۔ اب یہ سماج میں پدر شاہی لڑائی کی شکل اختیار کر چکی ہے، اور ساری بحث ”شریف اور پاک عورت“ اور ”شریف اور اچھے خاندان“ کے تصور کے گرد گھوم رہی ہے۔

کوئی اُس کو اوراُس کے پورے خاندان کو لغو خطابات دے رہا ہے، کوئی پشتون عورت کے تصور سے گرا رہا ہے، کوئی جرگے/قبائلی سزا کے تحت اُس کا گھر مسمار کرنے کے درپے ہے، تو کوئی اُس کا چہرہ تیزاب سے مسخ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ کوئی کرپشن اور رشوت کے الزامات لگا رہا ہے۔

پدر شاہی اور قبائلی نظام اپنی تمام تر طاقت کے ساتھہ گلالئی کے خلاف حرکت میں آچکا ہے اور اُس پرحملہ آور ہے۔ گلالئی کے حامی اور پدر شاہی/قبائلی نظام کے مخالفین دلیری سے لڑرہے ہیں، مگر صرف سوشل میڈیا پر۔ حقیقی ذندگی میں یہ جنگ گلالئی نے خود لڑنی ہے، اور اِس جنگ کو ایک فرد اکیلے نہیں لڑ سکتا۔ گلالئی کبھی پشتونولی رویات اور کبھی مذہب کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ کبھی ذاکر نائیک اور کبھی اپنے والد اپنے بھائی کی آڑ لے رہی ہے۔ مگر نظام کے خلاف ابھی تک چُپ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  یونیورسٹی میں ویلنٹائین مبارک کے چرچے

اِس فرسودہ نظام اور روایات کی دفاع کے لئے اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے کی خواتین گلالئی کے خلاف پیش پیش ہیں۔ گلالئی اپنے کیس کے طبقاتی اور پدر شاہی گٹھ جوڑ کے پہلوؤں کو سمجھے بغیر یہ لڑائی نہیں لڑسکتی، اور ویسے بھی یہ لڑائی اکیلے لڑنا مشکل ہے۔

پدر شاہی نظام عورت کے لئے دو دھاری تلوار ہے۔ جو عورت اِسکے ضابطوں اور اخلاقیات کی اطاعت کرتی ہے اُسے نہ صرف اِس کا جبر سہنا پڑتا ہے، چھپانا پڑتا ہے، بلکہ ثقافت کی آڑ میں اُس جبر کو منانا بھی پڑتا ہے۔ اور جو انکار کرتی ہے، اُسے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سماج اُس کی کردار کشی کرتا ہے، اُسے بدنام کرتا ہے، اور اُسے تنہا کرتا ہے۔ عورت مجبوراً سازباز کا سہارا لے کر خاندان اور سماج کے اندر اپنے لئے رُتبہ اور مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

پدر شاہی وہ سماجی نظام ہے جس میں سماجی، معاشی، سیاسی، ثقافتی اور خاندانی طاقت اور اختیارت بنیادی طور پر مردوں کو حاصل ہوتے ہے۔ اور انہیں اخلاقی برتری، سماجی مراعات، جائداد اور وسائل پر کنٹرول، اورحسب و نسب پر کنٹرول بھی حاصل ہوتا ہے۔

یہ نظام عورتوں کو تقسیم بھی کرتا ہے اور مرد کے پاس موجود پدر شاہی طاقت اور اختیار پانے کے لئے ہر عورت کو دوسری عورت سے مقابلہ کرنے اور پدر شاہی جبر میں شریک ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ ہر مرد کو عورت پر جبر کرنے پر اُکساتا ہے اور جو مرد اِس سے بغاوت کرتا ہے، سماج اُس کی کردار کشی کرتا ہے، اُسے ”بے غیرت“ کہتا ہے، ، اور اُسے بھی تنہا کرتا ہے۔ مرد بحیثیت ایک گروپ کے پدر شاہی ضابطوں سے باغی مرد کو اپنی پدر شاہانہ یکجہتی میں شامل رکھنے کے لئے مسلسل دباؤ میں رکھتے ہیں۔ اسی لئے جو بھی پدر شاہی نظام کے خاتمے اور فیمنسٹ سیاست کی بات کرتا ہے، اُسے بھی بدنام کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  برادر بزرگ کی سوانح کم علمی

پدر شاہی نظام، ثقافت اور اخلاقیات کو ماننے والوں کی اچھی خاصی تعداد بمع خواتین کے، اسی لئے گلائی کی کردار کشی میں مصروف ہیں۔
پدر شاہی نظام ریاستی، سماجی، معاشی اور خاندانی ہر سطح پر عورت کی برابری، ترقی اور آزادی کا رستہ روکتا ہے، عورت کی انسانی حیثیت چھینتاہے، خاندان کے ادارے کو پُرجبر بناتاہے، اور پورے سماج کو زنگ آلود کرتاہے۔

پدر شاہی کوئی نمک کا گولہ نھیں ہے جو سوشل میڈیا کے پانی میں ڈالنے پر پگھل کر ختم ہو جائے گا۔ یہ صدیوں پرانا سنگلاخ سماجی/ معاشی پہاڑی سلسلہ ہے، جسے توڑنا آسان نہیں۔ مشترکہ سیاسی جدوجہد اور جہدِ مسلسل ہی اس کا حل ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔