ہنا جھیل، شہید وکیلوں کی مائیں اور پنچایت کا انصاف


میں پہلی بار چالیس برس پہلے کوئٹہ آیا تھا۔ کوئٹہ کے بازار اور عمارتیں حافظے پر نقش ہیں۔ ایک منظر کوئٹہ سے کوئی سات آٹھ میل دور، ٹھہرے ہوئے گہرے پانی کا ہے جس کے بیچوں بیچ ایک ٹاپو تھا۔ اسے ہنا جھیل کہتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اب اس مقام پر ایک وسیع و عریض خشک میدان ہے۔ کوئی گرد و غبار کی دیوار کے پار جانے کی ہمت کرے تو خشک مٹی سے بنے لاکھوں رخنوں میں پھنسی ان گنت آنکھیں دیکھ سکتا ہے۔ یہ ان مچھلیوں کی آنکھیں ہیں جو ہنا جھیل خشک ہونے سے مر گئی ہیں۔ مچھلیوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جھیلوں کا خشک ہونا اچھا نشان نہیں۔

مڑ کے دیکھتا ہوں تو کسی آنکھ کی تصویر انسوؤں سے خالی نہیں سوائے دو آنکھوں کے۔ یہ آنکھیں میری دادی کی تھیں۔ بتایا گیا کہ دادی کئی برس تک اتنا روئی تھی کہ اس کے آنسو ختم ہو گئے تھے۔ اس کا سترہ سالہ بیٹا پاکستان آتے ہوئے کہیں مارا گیا تھا۔ دادی اپنے بہت سے بیٹے بیٹیاں لے کر پاکستان پہنچ گئی تھی لیکن کھڑی فصلوں میں پڑا اس بیٹے کا لاشہ اسے نہیں بھولتا تھا جس پر آہستہ آہستہ بارش کے قطرے گر رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ پچھلے برس، آٹھ اگست سے اب تک، کوئٹہ میں شہید وکیلوں کی ماؤں نے اتنے آنسو بہائے ہیں کہ ان کی آنکھیں رونا بھول چکی ہیں۔ آنسو بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ انہیں بہنا نہیں چاہیے تاکہ آنکھوں کا پانی سلامت رہے۔ عباس تابش کہتے ہیں۔

پانی آنکھ میں بھر کے لایا جا سکتا ہے

اب بھی جلتا شہر بجھایا جا سکتا ہے

شاعر کا دعویٰ سلامت رہے، مگر شہر اسی طرح جلتے رہیں تو آنکھ کا پیالہ خالی ہو جاتا ہے۔ شہروں کو جلنے سے بچانے پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ میرے چار چچا ہیں۔ میں نے تین چچا دیکھ لئے تھے۔ پوچھا کہ چوتھے چچا کہاں ہیں۔ بتایا گیا کہ وہ کوئٹہ میں رہتے ہیں۔ ڈاکیا پوسٹ کارڈ لاتا تھا۔ تین انچ چوڑا اور چھ انچ لمبا یہ گتے کا ٹکڑا کوئٹہ کے ان دیکھے چچا کی تصویربن گیا۔ پھر ایک روز ہم لوگ کوئٹہ میں کاسی روڈ پر چچا یعقوب سے ملنے آئے۔ دو کمروں کے گھر میں بہت سے لوگ پہلو بہ پہلو زندگی گزار رہے تھے۔ یہ گھر دن بھر محبت میں گندھی آوازوں سے گونجتا تھا۔ یہاں ایک قصہ سننے کو ملا۔ پاکستان آنے کے بعد ایک روز ابا اپنا مال بیچنے کے لئے سفر کر رہے تھے کہ ان کی جیب کٹ گئی۔ وہ شمالی پنجاب کے قصبے، ڈنگہ، سے گزر رہے تھے۔ اس شہر میں پشتو بولنے والے ایک شخص نے ان کی مدد کی۔ یہ یعقوب خان تھے۔ یہ نام افراد خانہ کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ اب ابا کے تین نہیں، چار بھائی تھے۔ ابا کے چار بھائی تھے۔ ایک کو مار دیا گیا۔ تین باقی رہے۔ کوئٹہ سے یعقوب خان آن ملے تو پھر سے چار ہو گئے۔ اب ابا رہے اور نہ یعقوب خان، ارشاد مستوئی رہے اور نہ باز محمد کاکڑ، بھائی مرتے رہے تو کوئٹہ خالی ہو جائے گا۔ شہر خالی کیسے ہوتے ہیں؟

باپ قتل کر دیے جاتے ہیں، بھائی چھین لئے جاتے ہیں، بیٹے غائب ہو جاتے ہیں۔ واللہ العلم بالصواب، بتایا گیا ہے کہ قتل ہونے والے، چھن جانے والے اور غائب ہو جانے والے ایک ہی میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ مگر ویرانے میں نصب کتبوں کو کوئٹہ نہیں کہا جاتا۔ کوئٹہ کہلانے کے لئے ضروری ہے کہ قتل ناموں کی روشنائی کو خشک ہونے کی مہلت مل سکے۔ اگر مردم شماری کے اعداد و شمار دستیاب بھی ہو جائیں تو قتل گاہوں کا سنگی چوکھٹا ادھورا رہے گا۔ ہر نام پر تاریک ہونے والی آنکھیں کون گنے گا۔ 70 ہزار سے زیادہ کی فہرست ہے۔ میں اپنے نام گنواتا ہوں۔ زرطیف آفریدی خیبرایجنسی میں امن مشاعرہ منعقد کرنے کی پاداش میں طالبانی شریعت کے نام پر شہید کیا گیا۔ پشاور کا جرار ملک قانون اور انسانوں سے ایک جیسی محبت کرتا تھا۔ اپنے بچے سکول چھوڑنے جا رہا تھا کہ نامعلوم سمت سے آتی ہوئی گولیاں اسے چاٹ گئیں۔ جرار ملک انسانی حقوق کا علم بردار تھا۔ گجرات میں میرا استاد شبیر حسین شاہ نوجوان نسل میں روشنی بانٹنے یونیورسٹی جا رہا تھا کہ اس کی گاڑی گولیوں سے چھلنی کر دی گئی۔ شبیر حسین بہت مدت سے روشن خیالی کا پرچم اٹھائے کھڑے تھے۔ کراچی سے سبین محمود کی آواز حوصلہ بندھاتی تھی۔ اپریل 2015 میں یہ آواز خاموش کر دی گئی۔ ملتان میں راشد رحمن ایک ملزم کا دفاع کرنا چاہتا تھا۔ راشد رحمن کو مار دیا گیا اور وہ بےگناہ جنید حفیظ ابھی تک اسیر ہے۔ اس کا وکیل بننے پر کوئی تیار نہیں۔ خیال تھا کہ ایک روز باز خان کاکڑ فائلوں کا پلندہ اٹھائے ملتان جائیں گے اور ان کے ہمراہ خبر تیار کرنے کے لئے پرجوش صحافی ارشاد مستوئی ہوں گے۔ انصاف کی امید قتل کر دی گئی ہے۔ لوٹا ہوں تو اک دھوپ کا ٹکڑا نہیں ملتا۔۔۔

سوچنا چاہیے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کے چاہنے والوں کو شکوہ ہے کہ بھٹو صاحب کو انصاف نہیں ملا، اگر اکبر بگٹی کے خون کا حساب پاک نہیں ہو سکا، اگر بے نظیر یہ گلہ کرتی ہوئی شہید ہو گئیں کہ انہیں انصاف نہیں مل سکا۔ اگر نواز شریف اور ان کے رفقا کو انصاف نہ ملنے کی شکایت ہے تو ماتحت عدالت سے ایک اقلیتی شہری کو انصاف کیسے ملے گا۔ جہاں مشتعل ہجوم عدالت کے احاطے میں موجود ہوتا ہے اور اسے تشدد پر انگیخت کرنے والے تقدیس کا جامہ اوڑھے ہمراہ ہوتے ہیں۔ ایک ناخواندہ محنت کش کو تھانے میں انصاف کیسے مل سکے گا جسے آوارہ گردی کے الزام میں زیر دفعہ 109 دھر لیا جاتا ہے۔ کوئٹہ کے ہزارہ مقتول ہم وطنوں کو ایسا انصاف کیسے مل سکے گا جسے دستور کی شق 10 الف سے ہم آہنگ قرار دیا جا سکے۔ ملتان کی سترہ سالہ لڑکی کو پانچ مردوں کی پنچایت سے کیسے انصاف ملے گا؟ پنچایت کا انصاف تو یہی ہے کہ کبھی پانچ آن بیٹھے، کبھی تین مقدمہ سنتے ہیں اور پھر۔۔۔ پانچ فیصلہ سناتے ہیں۔ انصاف کا مقصد ہے، کمزور کو طاقتور کی زورآوری سے محفوظ رکھنا۔ کمزور اور طاقتور کوئی حتمی اصطلاحات نہیں بلکہ اضافی معاملہ ہیں۔ ہر طاقتور سے زیادہ طاقتور بھی کوئی ہوتا ہے اور کمزور سے زیادہ کمزور بھی ممکن ہے۔ ابھی تو آئین میں موجود ایک شق کے مندرجات نے تباہی پھیلائی ہے۔ ہمارے دستور میں ایسی درجنوں اصطلاحات موجود ہیں جن کی ایک سے زیادہ تشریح ممکن ہے۔ اگر ہم دستور میں موجود ابہام کی مختلف صورتوں کو دور کر لیتے ہیں تو باز محمد کاکڑ اور ان کے رفقا واپس لوٹ آئیں گے۔ ارشاد مستوئی کا قلم زمزمے لکھے گا۔ ہنا جھیل میں ٹھنڈا پانی ٹھاٹھیں مارے گا۔ ماؤں کی آنکھوں میں دکھ کی چبھن شفقت کی ٹھنڈک میں بدل جائے گی۔ اور اگر ایسا نہیں کر پاتے تو ہم مذہب، قومی سلامتی اور انصاف کے نام پر قتل ہوتے رہیں گے۔ سفر کا دیگر احوال یہ ہے کہ 8 اگست 1977 کو لاہور کے ایر پورٹ پر بھٹو صاحب کا استقبال کیا تھا۔ 6 اگست 2017 کو میاں نواز شریف کا لاہور میں استقبال کریں گے۔ ایں قافلہ عمر عجب می گزرد۔

(2 اگست کو کوئٹہ میں باز محمد کاکڑ شہید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام امن سیمنار میں پڑھا گیا)۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔