کرکٹ اور سپورٹس مین سپرٹ


آپ کرکٹ کھیلتے ہیں؟

یا شیخ نہیں کھیلتا

آپ نے جارج کوکر کی فلاں فلم دیکھی ہے؟

نہیں دیکھی قبلہ

آپ کرکٹ دیکھتے بھی نہیں ہیں؟

نہیں دیکھتا مرشد

آپ کیا کرتے ہیں پھر؟

سرکار نوکری پیشہ ہوں۔ جب بیچنے کا سامان ختم ہو جاتا ہے تو گھر آ کر کتاب کھول لیتا ہوں۔ اس سے دل اکتا گیا تو چند پودے ہیں، کیکٹس وغیرہ، ان سے بات کر لی۔ پھر بیوی بچوں کا وقت شروع ہو گیا یا کچھ لکھ لیا، بس یہ روٹین ہے۔

کرکٹ اور فلم سے کیوں دور رہتے ہیں؟

کرکٹ کھیلنا کبھی آیا ہی نہیں۔ نجف خان کہتا تھا، تو بھاگتا ہے تو کسی مہنگی گاڑی کی طرح لگتا ہے۔ میں خوش ہو جاتا تھا۔ ایک دن پوچھا: تو ایسا کیوں کہتا ہے نجف خانا؟ کہنے لگا، جیسے ایک اعلیٰ گاڑی رفتار بڑھنے پر روڈ گرپ حاصل کرنے کے لیے سڑک پر بچھ جاتی ہے، ویسے ہی تیز بھاگتے ہوئے تیری ٹانگیں کھل جاتی ہیں، نہ بھاگا کر ایسے۔ کرکٹ اسی دن چھوڑ دی اور فلم کے لیے اتنی دیر بیٹھنا پڑتا ہے، وہ مشکل کام ہے، پھر یکسوئی بھی نہیں ہو پاتی۔ دماغ آوارہ ہے، گھومتا رہتا ہے۔ کافی چیزیں نکل جاتی ہیں۔ فلم تو دور کی بات، کتاب کا پڑھا یاد نہیں رہتا۔

تو کرکٹ کیوں نہیں دیکھتے؟

یا شیخ، وقت کا ضیاع جانتا ہوں۔

درویش مایوس ہو جاتا ہے۔ تفکر کی گہری پرچھائیاں اس کے چہرے پر ہیں۔ مورکھ کو کیا سمجھائے۔ سگریٹ سلگایا، کمرے کی کھڑکی کھولی اور گویا ہوا؛ “وقت کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ ہر لمحہ آپ کو ایک نئی بات سکھا جاتا ہے۔ اپنا ریسیور طاقت ور رکھیے بس۔ یاد رکھیں، کرکٹ ایک خوب صورت کھیل ہے۔ زندگی کا حسن اس کے اندر موجود ہے۔ کاروبار زیست کی تمثیل آپ کرکٹ میں پائیں گے۔ میری اس بات کا مطلب آپ جائیں اور تلاش کریں”۔ انہیں چائے اور سگریٹ کی صحبت میں چھوڑ کر الٹے قدموں بارگاہ سے واپسی ہوئی۔

کرکٹ کی تاریخ 1787 میں میریلیبون کرکٹ کلب کے قیام سے شروع ہوتی ہے۔ وہ کھیل جو لندن کے شرفا کا کھیل ہے اور طبقہء امرا اسے کھیل کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ اگلے برس اس کھیل کے تاریخ ساز اصول طے کیے جاتے ہیں۔ مثلاً پچ پر دونوں جانب وکٹوں کا فاصلہ 22 گز ہو گا یا ایک بلے باز کیسے آئوٹ مانا جائے گا۔ وقت آگے سفر کرتا ہے۔ کھیل دن بہ دن مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ گھوڑوں کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں اور ٹیموں پر شرطیں لگنا شروع ہو گئیں ہیں۔ اس سب کی وجہ سے عام لوگوں میں بھی کھیل سے لگاؤ بڑھتا جا رہا ہے اور کھیل کا مزاج عوامی ہو چلا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ہی مقبوضہ ملک آسٹریلیا سے کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ 1877، ملبورن میں کھیلا جاتا ہے۔ اس کے بعد آسٹریلیا 1882 میں ایک دورہ کرتا ہے اور اوول کے میدان میں انگلینڈ کو سات وکٹ سے شکست دے دیتا ہے۔ ”دی سپورٹنگ ٹائمز‘‘ لندن میں ایک سرخی لگتی ہے، ”اس انگلش کرکٹ کی یاد میں جو اوول کے میدان میں 29 اگست 1882 کو وفات پا چکی ہے اور جس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ آسٹریلیا بھجوائی جائے گی۔ غم و افسوس کے ان لمحات میں ہم آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں‘‘۔ اور اس کے بعد پھر وہ ہوتا ہے جسے ہم ایشز سیریز کے نام سے جانتے ہیں۔ 1882-83 میں تین میچوں کی ایک سیریز آسٹریلیا میں شروع ہوتی ہے۔ انگلینڈ اس سیریز میں آسٹریلیا سے ایک کے مقابلے میں دو ٹیسٹ جیت کر فاتح قرار پاتا ہے اور ٹرافی کا حق دار بنتا ہے۔ ایشز دراصل پانچ انچ کی ایک گلدان نما ٹرافی ہے جس میں کرکٹ کی گیند یا وکٹوں پر رکھی جانے والی بیلز کی راکھ ہے۔ یہ بات کس قدر سچ ہے اسے گوروں پر چھوڑئیے، بس یہ جاننا کافی ہے کہ جیتنے والے کو جو ٹرافی دی جاتی ہے وہ اسی نمونے پر ہوتی ہے۔ غور کیجیے‘ کس طرح سے امرا کا ایک کھیل ہر دلعزیز ہوتا جا رہا ہے۔ آقا اپنے زیر نگیں لوگوں سے کھیل رہے ہیں، تاریخ پر لگا نسلی تفاخر اور غلامی کا داغ دھلتا جا رہا ہے۔

1915 میں پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک حملہ ایسا بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے برطانوی کرکٹ کے سرمایہء افتخار ڈبلیو جی گریس بے چین ہو جاتے ہیں۔ دل کا دورہ پڑتا ہے اور سوئے عدم روانہ ہو جاتے ہیں۔ انتہائی شاندار آل راؤنڈر تھے۔ ایک ڈیشنگ بیٹسمین اور تباہ کن سلو میڈیم بولر۔ گریس پہلے کرکٹر تھے جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں دو ٹرپل سنچریاں سکور کیں اور بہت سے دوسرے اعزازات اپنے نام کیے۔ اب چشم فلک ایک اور دن دیکھتا۔ گورا، کالوں سے بھی کھیلتا ہے۔ یعنی دماغ میں کہیں دور پرے یہ احساس جاگنا شروع ہو گیا ہے کہ بھئی اس نسلی فخر کے دھندے سے نکلو اور کچھ نیا کرو۔ تو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ 26 جون 1928 کو لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جاتا ہے۔ انگلینڈ یہ ٹیسٹ میچ 58 رنز سے جیت جاتا ہے۔ اور تاریخ پڑھنے والے طالب علموں کے دل بھی جیت لیتا ہے کہ بھئی کیسے لوگ تھے۔ گورے اور کالے میں کوئی فرق روا نہ رکھا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد انگلینڈ میں کرکٹ سرگرمیوں کی بحالی شروع ہوتی ہے۔ پانچ برس کے وقفے کے بعد فرسٹ کلاس میچز شروع ہوتے ہیں۔ کھلاڑیوں اور جنگ سے دہشت زدہ لوگ ان مقابلوں میں جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔ کاروبار زندگی کچھ معمول پر آتا ہے۔
برصغیر میں کرکٹ پارسی اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ پارسی بے ضرر اور کاروباری لوگ تھے۔ حکومتی اہلکاروں کے لیے قابل بھروسہ تھے۔ تو ایران سے آنے کے بعد یہاں کرکٹ کی شروعات کر دی۔ وقت گزرتا ہے، برصغیر سے انگریز دو ملک بنا کر نکل جاتا ہے۔ 1952 میں پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ ملتا ہے۔ نیلی آنکھوں والے فضل محمود اگست 1954ء میں لندن کے تاریخی میدان اوول میں پاکستان کو شاندار فتح سے ہمکنار کرواتے ہیں اور اس کے بعد ایک طویل تاریخ ہے… تو کرکٹ وہ قدر مشترک ہے جو برطانیہ کی تمام نوآبادیات میں پائی جاتی ہے اور نشان اس چیز کا ہے کہ کھیل کے میدان میں سب برابر ہیں، یہی سبق عام طور پہ سپورٹس مین سپرٹ بھی کہلاتا ہے۔

ہم لوگ چھوٹے ہوتے تھے پلاسٹک کی انڈہ بال اور چھوٹا سا بیٹ لے کے گلی میں کھیلنے نکل جاتے تھے۔ جب کوئی بھی جھگڑا ہوتا تو بڑے سمجھاتے کہ بیٹا کھیل ہے، کھیل میں تحمل اور بردباری ہونی چاہیے، لڑائی ہی کرنی ہے تو گھر بیٹھ جاؤ، لڑو مرو جو مرضی کرو، گلی میں کھڑے ہو کے یہ حرکتیں نہیں کرنی۔ یہی سبق بڑے ہو کر سکول کالج لیول پر ملا، لیکن بڑے بڑے مہان کھلاڑی ایسے بھی تھے جو زندگی بھر یہ سب کچھ نہیں سمجھ پائے۔ کوئی بات نہیں، ہر انسان کی فطرت الگ ہے، کبھی پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کٹتا ہے اور کبھی دنیا بھر کا سمجھانا بے کار جاتا ہے۔ سیاست میں لیکن ”ہو کئیرز‘‘ والا رویہ نہیں چل سکتا۔ خاموش ووٹر بھی سب کچھ دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے، فیصلہ بوتھ میں جا کر ہو جاتا ہے۔

زندگی کے عام معمولات ہوں یا پھر یوم تشکر کی تقریریں کرنا ہوں، غصہ اور تلخ کلامی آپ کی شکست بن سکتا ہے۔ سپورٹس مین سپرٹ کھیل کے میدان میں اور باہر، دونوں جگہ زندگی کا تقاضا ہوتا ہے۔ یہ واحد چیز ہے جس کے بغیر اپنے تئیں جیتی بازی بھی ہاری جا سکتی ہے۔ فتح پر خوش ہوں یا اپنی ہار پہ افسوس ہو، رویہ اگر مہذب رہے گا، زبان کنٹرول میں رہے گی تو کامیابی ہی کامیابی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہر دو صورتوں میں جذبات کے ابال کی راہ لگ گئے تو پھر اور کچھ بھی نہیں ہو گا۔ بزرگ کہہ گئے تھے کہ آدمی اپنے غصے سے پہچانا جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 284 posts and counting.See all posts by husnain