پی ٹی آئی تبدیلی نہیں لا سکتی۔۔۔


جمعرات کو اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں تحریکِ انصاف کے سربراہ نے لکھا کہ ‘ میں پی ٹی آئی کے حامیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ عائشہ گلالئی کی بہن کو نشانہ بنانے سے اجتناب کریں۔’

پاکستانی سوشل میڈیا پر اخلاق باختہ اور شرافت سے عاری پوسٹس کے بارے میں کئی بار لکھا جا چکا ہے۔ اور یہ ایک موذی مرض کی طرح آہستہ آہستہ عام سوشل میڈیا صارفین سے لے کر ہمارے سیاستدانوں اور وزار کی تحریر تک پہنچ گیا ہے۔

اسے حسنِ اتفاق کہیے یا کچھ اور مگر ہر ایسی قابلِ اعتراض ٹویٹ کے بعد پتا چلتا ہے کہ ٹویٹ کرنے والے کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔ اس ہفتے کے سوشلستان میں ہم سوشل میڈیا پر عائشہ گلالئی پر ہونے والے حملوں اور اس موضوع سے جڑی بحث کا ذکر کریں گے۔

عائشہ گلالئی کی جانب سے لگائے گئے الزام کے بعد سے اُن پر الزامات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور مختلف اینکر اور اینکر کے بھیس میں چھپے سیاسی کارکن یا ایسے سیاسی کارکن جو پارٹ ٹائم اینکری کرتے ہیں سب عمران خان کا دفاع کر رہے ہیں۔

شاید اسی لیے ماروی سرمد نے سوال کیا کہ `جیسے ہی عائشہ گلالئی نے بیان دیا ٹرولز کی فوج میں سے ہر ایک اور پارٹی کے اراکین اور ٹی وی اینکرز عمران خان کا دفاع کرنے کی کوششوں میں جتے ہوئے ہیں۔ سوائے عمران خان کے۔’

ایک اور صارف نے سوال کیا کہ ’صادق اور امین کے وار سے بچنے کے لیے تو یہ خاموشی نہیں؟‘

پی ٹی آئی کی رہنما فوزیہ قصوری نے عمران خان کے دفاع میں لکھا کہ ’میں نے 24 سال میں عمران خان کو بعض مواقع پر انصاف کرتے ہوئے نہیں پایا مگر وہ بدتمیزی کرنے والے یا توہین کرنے والے نہیں ہیں۔‘

فوزیہ نے سوشل میڈیا اور اس کے علاوہ بدتمیزی اور بدزبانی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میرا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ یہ بدزبانی اور بدتمیزی کا کلچر اور سوشل میڈیا پر مخالفین کے گھٹیا پوسٹرز بہت قابلِ مذمت ہیں اور یہ کسی کے فائدہ میں نہیں ہے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی رہنما بشریٰ گوہر نے لکھا : ’عائشہ گلالئی کو بدنام کرنے کی آڑ میں پی ٹی آئی نے اپنی صفوں میں بدعنوانی اور نشستوں کے ٹکٹ خریدنے کے معاملے کو دبا دیا ہے۔‘

پیپلز پارٹی کی رہنما ناز بلوچ جنھوں نے حال ہی میں پی ٹی آئی چھوڑی لکھا کہ ’خواتین پاکستان کی طاقت ہیں اور جب تک وہ خواتین کو ان کی جائز نمائندگی اور جس عزت کی وہ مستحق ہیں وہ نہیں دیں گے۔‘

عائشہ گلالئی اور ان کی بہن کے خلاف الزامات اور بدزبانی کا سلسلہ دو روز تک جاری رہا جس پر پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے اپنے سپورٹرز سے درخواست کی عائشہ گلالئی کی بہن کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

جمعرات کو اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے لکھا کہ ’میں پی ٹی آئی کے حمایتیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کریں۔‘

سوال عائشہ گلالئی کی بہن کو نشانہ بنانے سے اجتنابیہ ہے کہ پارٹی کے حمایتیوں کو عائشہ گلالئی کو نشانہ بنانے کے بارے میں کیا پالیسی ہے؟

کیونکہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے عائشہ پر حملے اب بھی جاری ہیں۔

صبا عالم نے اس معاملے میں ایک اہم مسئلے کی جانب اشارہ کیا کہ ’عائشہ شاید سچ بول رہی ہو گی یا نہیں مگر انھوں نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ایک عورت ہراسانی کے بارے میں رپورٹ نہیں کر سکتی۔‘

صنوبر عباسی نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا: ’عائشہ گلالئی کو جتنا برا بھلا کہا گیا ہے اپنا مسئلہ بیان کرنے پر شاید یہی وہ وجہ ہے کہ ان گنت پاکستانی خواتین کبھی بھی اپنی آواز بلند نہیں کرتیں۔‘

)طاہر عمران(


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 366 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp