سیاست دانوں کے فیشن


محمد علی جناح! وہ شخص کہ جس نے جب دنیا کے نقشے پر پاکستان کی بنیاد رکھی تو ساتھ ہی ملک کjinnahو (اپنی منفرد شخصیت کی وجہ سے) فیشن کی دنیا میں بھی ایک مقام دے ڈالا۔ جناح صاحب کے لباس کی وضع قطع بطور لیڈر ان کی شخصیت کی عکاس تھی۔ ایک ایسے رہنما جو سوٹ اور ٹائی کے ساتھ دو رنگے (عموما کالے اور سفید) لیدر کے نفیس جوتے پہنا کرتے تھے۔ انیس سو بیس کی دہائی کے اوائل میں ان کا انداز اور سٹائل انگریز اشرافیہ سے مشابہت رکھاتھا لیکن وقت کے ساتھ خصوصا ایک نوزائیدہ مملکت کے قائد کے کردار میں وہ اپنے لباس میں بھی تبدیلی لائے جو پاکستان کی تاریخ کا حصہ بن گئی۔

جناح کے سوٹ اور ٹائی کی جگہ کالی گھیردار شیروانی نے لے لی اور وہ اپنے چوڑی دار پاجاموں کی جگہ لٹھے کی کلف لگی شلوار پہننے لگے۔ اور سر پر قراقلی ٹوپی (جسے اب جناح کیپ کا نام دے دیا گیا ہے) کے چناؤ نے ہمیشہ ان کی شخصیت کو ممتاز کیے رکھا۔

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کے اتار چڑھاؤ میں کئی سیاست دانوں اور رہنماؤں نے اپنا حصہ ڈالا اور باقی دنیا کے رہنماؤں کی طرح ان کے لباس کا انداز بھی ان کے سیاسی خیالات اور لیڈرشپ کی طرف اشارہ کرتا تھا۔

پاکستان کے فوجی آمر بھی اپنی وضع قطع اور انداز میں ایک خاص کشش رکھتے تھے۔ صدر ایوب خان اپنے تحکمانہ انداز، سوٹ اور سگار کی وجہ سے مشہور تھے جو ان کی شخصیت کا حصہ بن چکے تھے۔ دنیا کے دیگر آمروں کی طرح وہ بھی یونیفارم کا استعمال محض پیشہ ورانہ ضرورت کےتحت ہی کرتے تھے۔ شاید جنرل ضیاالحق ہی وہ واحد فوجی آمر تھے جو اپنے فوجی فرائض منصبی کے علاوہ بھی اپنی وردی سے ہی وفادار تھے۔ ممکن ہے ایسا کرکے وہ لوگوں پر اپنی طاقت کے احساس کو تقویت دینا چاہتے ہوں۔ بہرحال ان کے لباس میں شاید ہی کبھی کوئی عوامی انداز شامل رہا ہو۔

اگر کسی معاشرے کے مخصوص دور کے فیشن کا اندازہ لگانا ہو تو اس دور کے سیاسی رہنماؤں اور ان کے لباس کی وضع قطع سے بہتر اور کوئی تعلق نہیں ہوسکتا جو وہاں کے عام انسان پر وقت کی سیاست کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں اس کی سب سے مضبوط ترین مثال ذوالفقار علی بھٹو کی ہے جنہوں نے ‘روٹی کپڑا اورمکان’ کا نعرہ لگایا اور عوامی لباس کو اپنی قوم پرستی کی علامت بنایا۔ انہوں نے سادہ شلوار قمیض پہن کر اپنے ووٹروں میں شامل ہونے اور ان سے تعلق جوڑنے کی کوشش کی۔

پاکستان میں مردوں کے کپڑوں کے حوالے سے معروف ڈیزائنر امیر عدنان کا کہنا ہے کہ ‘بھٹو نے شلوار قمیض کو ایک فیشن بنادیا۔’

‘انہوں نے ایک عام آدمی کے لباس کو سہل بنادیا اور روایتی شیروانی کی لمبائی کو بھی قدرے کم کرکے اپنا ایک منفرد انداز دیا جو چینی رہنما ماؤ کے کوٹ سے متاثر ہو کراختیار کیا گیا تھا۔ وہ پہلے لیڈر تھے جنہوں نے کڑھائی والے کالروں کا رواج ڈالا۔ میں یقین سے تو نہیں کہ سکتا مگر مجھے لگتا ہے کہ ان کا یہ انداز جناح کی شیروانی سے موافقت رکھتا تھا۔’

پاکستان کی دوسری بھٹو سربراہ بے نظیر بھٹو اپنے لباس اور ذاتی انداز کے معاملے میں اپنے والد کے کہیں قریب بھی نہیں تھیں۔ خاص طور پر جب وہ اپنی پیشہ وارنہ ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہوتی تھیں۔ ان کی ڈھیلی ڈھالی جیکٹیں اس بلٹ پروف جیکٹ کو چھپانے کے لیے ضروری تھیں جو وہ مستقل زیر لباس پہنا کرتی تھیں۔ انیس سو نوے کی دہائی کے اوائل میں سیاست پاکستان میں انتہائی ایک خطرناک کھیل کی صورت اختیار کرچکی تھی جس کا عکس اس وقت کے سربراہان کے لباس سے بھی جھلکتا ہے۔

مگر ایک سربراہ جو ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ملک کے فیشن پر اثر انداز ہوئے وہ جنرل پرویز مشرف تھے جنہوں نے شیروانی کو پھر سے مشہور کردیا۔

امیر عدنان، جنہوں نے پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپائی کے لیے بھی شیروانیاں تیار کیں کہتے ہیں کہ ‘پرویز مشرف شیروانی کو دوبارہ فیشن میں لے آئے’۔

‘مشرف نے بھارت میں آگرہ دورے کے دوران سفید شیروانی زیب تن کی۔ وہ شیروانی اس لحاظ سے خاص تھی کیونکہ اس کا کالر کشمیری کڑھائی سے مزین تھا۔ اس کا سفید رنگ امن اور کالر پر کشمیری کڑھائی اس وقت کے اہم مسئلے ‘کشمیر’ کی علامت تھے۔ میں اس ڈیزائن سے مسئلے کی سنگینی میں بھی کہیں خوبصورتی کو اجاگر کرنا چاہتا تھا، اور یہ درست ہے کہ ان کی شیروانی میں ایک سوچا سمجھا سیاسی پیغام تھا۔

موجودہ دور کی طرف آتے ہیں اورحال ہی میں حکومت سے علیحدہ ہونے والے وزیراعظم نواز شریف کے اسٹائل کی بات کرتے ہیں۔ ان کی سیاست اور فیشن کے ناقدین ان کے انداز حکومت اور لباس میں مماثلت تلاش کرتے ہیں۔ ان کے بقول ان کے انداز لباس کی بھی کوئی سمت اور وضع قطع نہیں ہے۔ نواز شریف کے انداز اور فیشن میں دولت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ وزیر اعظم اپنی بیش قیمت اور محدود ایڈیشن والی گھڑیوں کے شوق سے جانے جاتے ہیں۔ شلوارقمیض اور واسکٹ پہننا ان کی بھولی بسری عادت ہے حالانکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کبھی کبھار شلورا قمیض کے ساتھ ہیٹ کا بھی استعمال کرتے ہیں جو سمجھ سے باہر ہے۔

)آمنہ حیدر عیسانی(


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 590 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp