زمین سے باہر زندگی کے امکانات


اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا زمین کے علاوہ بھی کسی سیارے پر زندگی موجود ہے؟

گزشتہ چند سالوں میں سائنس نے بےانتہا ترقی کی ہے لیکن اس کائنات کی وسعت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاحال ہمارا علم انتہائی کم ہے

ہر ستارے کے گرد ایک ایسا علاقہ ہوتا ہے جہاں مناسب ہوائی پریشر اور پانی مائع حالت میں موجود ہوسکتا ہے, جسے habitable zone کہتے ہیں, (ایسے سیاروں کی تلاش کے لئیے ناسا کا کیپلر اور K2 مشن کام کررہا ہے, جس نے اب تک زمین جیسے پچیس سو کے قریب قابل رہائش سیارے دریافت کیئے ہیں, جبکہ مزید تحقیق جاری ہے) اگر اس حصے میں کوئی سیارہ موجود ہو تو وہاں زندگی کا امکان ہوسکتا ہے, البتہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ مخلوق جو اس سیارے پر موجود ہو وہ ہمارے تخیل جیسی ہی نظر آۓ, مریخ اور زمین بھی سورج کے habitable zone میں ہی موجود ہیں

زمین پر ایک ایسا خوردبینی جاندار (Tardigrade) بھی دریافت ہوا ہے جو کہ 500 ملین سالوں سے بھی زیادہ وقت سے زمین پر موجود ہے اور ہر طرح کے موسمی حالات کا سامنا کرسکتا ہے ٹارڈیگریڈ منفی 200 ڈگری کی منجمد کردینے والی ٹھنڈ سے لے کر 150 ڈگری کے کھولتے ہوئے پانی میں بھی زندہ رہ سکتا ہے, سورج کی تابکار شعاعوں کو جھیل سکتا ہے گہرے سمندر کی تہہ میں شدید دباؤ برداشت کر سکتا ہے, 30 سال تک بغیر خوراک اور پانی کے زندہ رہ سکتا ہے, یہاں تک کہ یہ جاندار خلا میں بھی زندہ رہ سکتا اور نسل میں اضافہ کرسکتا ہے

Tardigrade

ٹارڈیگریڈ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا زمین سے باہر کی دنیا کے جاندار کاربن بیسڈ زندگی کی جگہ کسی مختلف آرگینک حالت میں موجود ہوسکتے ہیں اور کیا آکسیجن اور پانی کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں؟ سائنسدانوں کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ کسی اور سیارے پر سیلیکون بیسڈ زندگی موجود ہو جو پانی اور آکسیجن استعمال ہی نہ کرتی ہو
آج سے اربوں سال پہلے ہمارے پڑوسی سیارے مریخ کی سطح پر بھی دریا بہتے تھے جن کا رخ مریخ پر موجود بڑی جھیلوں اور کم گہرے سمندروں کی طرف تھا اور کرہ ہوائی کی گھنی تہہ مریخ کے گرد موجود تھی جوکہ گزرتے وقت کے ساتھ magnetic field کی غیر موجودگی میں Solar wind کی وجہ سے تحلیل ہوتی گئی, آج بھی مریخ کے کچھ حصوں پر بہتے پانی کے آثار پائے گئے ہی, مریخ پر زندگی سطح کے نیچے خوردبینی جانداروں کی صورت میں موجود ہوسکتی ہے، مریخ کی سطح کا جائزہ لینے کے لیئے وہاں روورز بھیجے گئے ہیں جو روازنہ کی بنیاد پر زمین پر معلومات بھیجتے ہیں

ہماری قابل مشاہدہ کائنات (Observable universe) میں تقریبا 1,000,000,000,000,000,000,000,000 سیارے ہیں, اگر ہم سائنسی لحاظ سے دیکھیں تو کئی بلین سیارے قابل رہائش علاقہ میں ہیں۔

ان دنوں ملٹی ورس (Multiverse) مفروضہ پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کے مطابق ہماری کائنات اکیلی نہیں بلکہ ایک ایسے بڑے جہان کا حصہ ہے جس میں مزید لاتعداد کائناتیں ہوسکتی ہیں

ہمارے قریب ترین ستارہ Alpha Centaury ہے جو ہم سے 4.3 نوری سال کی دوری پر ہے , اگر ہم اپنی موجودہ رفتار جو کہ 39,897km/hour ہے سے سفر کریں تو ہمیں اپنے نزدیک ترین ستارے تک پہنچنے میں سوا ایک لاکھ (114145) سال لگیں گے, جبکہ زمین سے دور ترین دریافت ہونے والی galaxy ہم سے 13,300,000,000 نوری سال دور ہے, اس آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہماری کائنات کتنی بڑی ہے

یہ امید کی جا سکتی ہے گزرتے وقت کے ساتھ ہم مزید ترقی کرتے جائیں گے, انسانوں کی جگہ مصنوعی زہانت (Artificial Intelligence) لیتی جائے گی اور خلا میں ہمارا سفر مزید بہتر اور آج سے کہیں زیادہ تیز ہوتا جائے گا اور ہماری رسائی آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوجاۓ گی

سیاروں کے علاوہ کسی سیارے کے چاند پر بھی زندگی موجود ہوسکتی ہے, دور نہ جائیں زمین کہ قریب ہی موجود نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے Jupiter کو دیکھ لیں اس کے گرد 69 چاند گردش کررہے ہیں جن میں سے 2 سیاروں Europa اور Ganymede پر زندگی موجود ہونے کی امید ظاہر کی جارہی ہے, یورپا کی سطح برف سے ڈھکی ہے, برف کے نیچے مائع پانی کا ایک بڑا سمندر ہے جس میں زمینی سمندری جانداروں سے ملتی جلتی زندگی موجود ہوسکتی ہے, Saturn کے چاند Titan پر بھی زندگی موجود ہونے کے امکانات ہیں

ہم یہ اندازہ کرسکتے ہیں کے اکثر ایسے سیاروں پر زندگی کسی نہ کسی حالت موجود ہوسکتی ہے, یہ بھی ہو سکتا ہے وہ کسی خوردبینی شکل میں ہوں یا دیوہیکل! لیکن یہ بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ کیا وہ انسانوں کی طرح ذہین ہیں؟ ان میں سوچنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں؟ اگر ان میں ہم سے بہتر انداز سے سوچنے کی صلاحیت موجود ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے ترقی اور ٹیکنالوجی میں وہ ہم سے بہت آگے نکل چکے ہوں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کاشف عباس کی دیگر تحریریں
کاشف عباس کی دیگر تحریریں