میں نظریاتی آدمی بن چکا ہوں: نوازشریف


سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے، کوئی کرپشن، کک بیک یا سرکاری خزانے میں کرپشن کی ہوتی تو کوئی بات تھی، ثبوت تو دور کی بات کرپشن کا الزام تک نہیں ہے۔

پنجاب ہاؤس میں صحافیوں سےغیررسمی گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایک بیٹے نے پیسے باہر سے بھجوائے،دوسرے بیٹے سےتنخواہ نہیں لی،اس پراعتراض سمجھ سےبالاترہے،کسی وزیراعظم سے اس بڑا اور کیا مذاق ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تنخواہ لی ہی نہیں تو ظاہر کیسے کرتے، باپ دادا کی کمپنیوں کو ٹٹولا گیا لیکن پھر بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کا ڈکٹیٹر کہتا ہے جمہوریت سے ڈکٹیٹرشپ بہتر ہے، جانے وہ کون سی دنیا میں رہتا ہے، پاکستان آنے کی جرات نہیں، یہاں آئے اور پبلک میں بات کرے تو اس کو پتا چلے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ قانون کی پاسداری کی بات کی ہے، مجھے2007 میں وطن واپسی سے پہلے مشرف سے ملانےکی بہت کوشش کی گئی لیکن میں نے پرویز مشرف سے ملنے سے انکار کردیا، مشرف کی ملنےکی شدید خواہش تھی کیونکہ وہ این آر او کرنا چاہتے تھے، مجھ سےکہا گیا یہ آپ کےمفاد میں ہے لیکن میں نے این آر او سے انکار کردیا۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ میں نظریاتی آدمی بن چکا ہوں اور میرا نظریہ مضبوط ہوچکا ہے، میری ملک بدری ایک ٹھوکر تھی، انسان ٹھوکریں کھا کرسیکھتا ہے، ہرشخص اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جس نے دو مرتبہ آئین کو پامال کیا اس کو کسی عدالت نے پکڑا اور سزا دی؟ کیا کوئی ایسی عدالت ہے جو اس ڈکٹیٹر کو سزا دے سکے؟ انہوں نے کہا کہ اکبربگٹی کو بےدردی سے ماراگیا،حالات کو خراب کیا گیا، کیا کسی نے ذمے داروں سے کچھ پوچھا؟ کسی کا احتساب ہوا، کیا کسی کوسزا ملی؟

صحافیوں سے گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہوں اور اس پر آج بھی عمل ہوسکتا ہے، میثاق جمہوریت بہتر بنانا ہے تو اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت سےدائیں بائیں ہوئے تو خدانخواستہ انتشار پیدا ہوگا، ملک جمہوریت پر قائم رہے گا تو سلامت رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ملک کو بہت مشکل سے بہتر کیا، دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور کراچی میں امن اور معاشی حالات بہتر کیے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ گالم گلوچ کا جواب نہیں دیا نہ وہ زبان استعمال کی، پاکستان کی سیاست کو اچھی سمت میں لے جانا چاہتا ہوں۔ میں تنہائی کا شکار نہیں، جو بات جتنی کہنی ہے وہ کہہ رہا ہوں۔

میاں نوازشریف نے کہا کہ جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کا حامی تھا لیکن سیکورٹی والوں نےمنع کیا، آج یا کل نہ گیا تو چند دن بعد جی ٹی روڈ سے لاہور جاؤں گا۔

واضح رہے کہ میاں نوازشریف آج مری سے اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں وہ آج رات پنجاب ہاؤس میں قیام کریں گے اور کل صبح لاہور جائیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔