خواتین کی جنسی ہراسانی کے تین واقعات اور ایک درخواست


میں عائشہ گلالئی کا شکر گزار ہوں۔ میں ماروی میمن کا شکر گزار ہوں۔ میں ان دونوں کو گالیاں فرمانے اور عائشہ کے چہرے پر تیزاب پھینکے کی خواہش کرنے والے تحریک انصاف کے ”ٹائیگرز اور ٹائیگرسز“ کا شکر گزار ہوں۔ میں عائشہ گلالئی کا گھر گرانے کی دھمکی دینے والے پشتون رہنما کا شکر گزار ہوں۔ میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے عائشہ گلالئی اور ان سے پہلے ناز بلوچ کو گالیاں دیں، ان کے کردار پر انگلی اٹھائی، ان کو بازاری قسم کے خطا بات سے نوازا، دھمکیاں دیں، اور کامیابی سے یہ ثابت کیا کہ وطن عزیز میں ذہنی، شعوری اور سماجی تربیت کی کس قدر ضرورت ہے، اور یہ بھی کہ تعلیم اکثریت کا کچھ نہیں بگاڑ سکی اپنے ہردل عزیز اسلامی جمہوریہ میں، اور نامعلوم کیا یہ تربیت کا اثر ہے جو گھروں اور معاشرے سے ملتی چلی آ رہی ہے۔

شکرگزاری کے اس لمبے سلسلے کے بعد، موضوع پر کچھ واقعات کے حوالے سے عرض کرکے تمام قارئین کو اک درخواست کرکے اجازت چاہنی ہے۔

واقعہ نمبر 1: سنہ 2010 میں میری بڑی بیٹی، یسریٰ فاطمہ، دس برس کی تھی اور ہم اسلام آباد کی اک نواحی آبادی، مارگلہ ٹاؤن میں کرایہ کے مکان میں رہتے تھے۔ وہ چھٹی جماعت میں تھی، اور بڑے آرام سے گھر کے قریب مارکیٹ میں آیا اور جایا کرتی تھی۔ میری بیٹی نے یکدم مارکیٹ آنا جانا چھوڑ دیا، میرے استفسار پر یسریٰ نے بتایا کہ وہ جب مارکیٹ جاتی ہے تو سارے مرد اسے گھورتے ہیں، اور گھورتے رہتے ہیں۔ میں نے اپنی بیٹی سے اس موضوع پر مزید بات کی تو ان کی کہی اک بات میرے ذہن میں ساری عمر کے لیے اٹک گئی ہے، کہنے لگیں کہ: ”ابو، ایسا لگتا ہے کہ وہ آنکھوں سے بنی اک قبر میں اترتی جا رہی ہے۔ “ میری بیٹی اس وقت دس برس کی تھی۔ مگر بہرحال، یہ اسلامی جمہوریہ ہی تھا۔

واقعہ نمبر 2: میرے دور کے اک رشتہ دار کی آٹھ سال کی بیٹی اپنے رشتے کے ماموں کے پاس پڑھنے جاتی تھی، اور یہ تقریبا روزانہ کا معمول تھا۔ اک روز اس بچی نے اپنی والدہ سے شکایت کی کہ ”ماموں مجھ سے گندہ گندہ کھیلتے ہیں۔ “ والدہ نے شروع کی شکایت پر کوئی کان نہ دھرے، مگر ہر دوسرے تیسرے دن بچی اپنے رشتے کے اس ماموں کے پاس پڑھنے جانے سے انکاری ہوتی تھی، جس پر اس کی سرزنش اور کبھی کبھار ہلکی سی ٹھکائی بھی ہو جایا کرتی تھی۔ یہ سلسلہ کوئی چھ سات ماہ چلا۔ بات میرے علم میں آئی تو میں نے اس بات پر طوفان اٹھایا، اور اپنے اندر کے دیہاتی پنجابی کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا، اور اس بچی کی جان بچائی۔ یہ معاشرہ تب بھی اسلامی جمہوریہ ہی تھا۔

واقعہ نمبر 3: میرے اک دوست ہیں، ندیم احمد۔ ان کی کسی زمانے میں اک غیرسرکاری ادارے میں ایڈز کے معاملہ پر ملازمت تھی، اور اس میں انہوں نے سیکس۔ ورکرز کا اک سروے کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ایڈز کے حوالے سے آگاہی بھی دینا تھی۔ یہ سال 2003 کی بات ہے۔ عمومی فرمے میں کٹے ہوئے پاکستانی، اور بالخصوص پنجابی مسلمان نوجوان کے لیے ایسے موضوعات پر بات کرکےانسان خود کو اک برا مسلمان اور پاکستان کا دشمن ہی ثابت کرتا ہے، مگر یہ ”انکشاف“ اک بار پھر کرتا چلوں کہ: ہاں، پاکستان میں خواتین اور مرد، جسم فروشی کا کام کرتے ہیں اور آپ کے اس بات کو تسلیم نہ کرنے سے یہ حقیقت، بہت ساری دوسری حقیقتوں کی طرح تبدیل نہیں ہوتی۔ خیر، اپنے سروے کے دوران، ندیم اک ایسی خاتون سے ملا جس کی عمر بمشکل 21 سال تھی مگر وہ عرصہ 7 سال سے اس چنگل کا شکار تھی۔ معلوم کرنے پر یہ سامنے آیا کہ خاتون کے ساتھ پہلی مرتبہ جنسی زیادتی اک مقامی ہسپتال کے اک سینئر ڈاکٹر نے کی تھی، جب ان ڈاکٹر صاحب نے دل کے دورے کا شکار، اس خاتون کے والد صاحب کا علاج کرنے سے انکار اس وقت تک کیے رکھا، جب تک اس بیٹی نے خود کو ڈاکٹر صاحب، اور ان کے دوستوں کے لیے پیش نہ کیا۔ یہ بھی اسلامی جمہوریہ میں ہی ہوا تھا۔

پاکستان، اور دنیا کے ہر معاشرے میں خواتین کو جنسی اور سماجی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ زندہ معاشرے (اور لوگ) ایسے مسائل کو جانتے، سمجھتے، ان پر بات کرتے اور ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مردانہ حکمرانی کے مارے ہوئے معاشروں میں اپنی جنسی ہراساں کرنے کی داستان پر بات کرنے والی عورت ہی ملزم و مجرم ہوتی ہے، اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار تلواریں لے کر میدان میں اتر آتے ہیں۔ جیسا کہ ابھی بھی اترے ہوئے ہیں۔

آخر میں درخواست یہ کرنا ہے کہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں سے دوستی کیجیے۔ ان کو Empower  کیجیے اور اس بات کا اعتماد دیجیے کہ وہ آپ کے ساتھ اپنے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی واقعہ کی پیشگی یا بعد از اطلاع اطمینان کے ساتھ دے سکیں۔

عورت صرف جسم اور جنس ہی نہیں۔ جیتی جاگتی انسان ہے۔ اس کے بھی آدرش ہیں، اور اس کے مسائل مردوں کے معاشرے میں، مردوں سے درجنوں گنا بڑے اور مشکل ہیں۔ کتنے مشکل ہیں، اس کا اندازہ آپ عائشہ گلالئی، ناز بلوچ، ماروی میمن پر ہونے والے حالیہ تبریٰ سے لگا سکتے ہیں۔ اور یہ خواتین ابھی معاشرے کی Empowered  خواتین ہیں۔ ذرا ان کا تو سوچیں کہ جن کا سماجی لیول کہیں نیچے اور کم ہوگا۔ آخری اک درخواست مرد حضرات سے بھی ہے کہ کسی بھی واقعہ میں، براہ مہربانی، عورت کو اپنے معاملات میں شٹل کاک نہ بنایا کیجیے، گو کہ اس درخواست کا حتمی اثر مجھے ابھی سے معلوم ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔