ہمیں اپنے جنرل صاحب کا انتظار ہے


خواجہ سعد رفیق نے آج سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں آئین شکن اور عوام دشمن قرار دیا ہے۔ ان سویلین لوگوں کا یہی تو مسئلہ ہے کہ ہر معاملے میں کتابی باتوں سے رہنمائی لیتے ہیں۔ حقائق کی روشنی میں معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت ان میں عنقا ہے۔ جنرل صاحب اپنے متعدد انٹرویوز میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ کبھی ملک ایسے دوراہے پر کھڑا رہتا ہے، کہ آئین اور ملک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ نادان لوگ ایسی باتوں کو نظریہ ضرورت کا نام دے کر اسے دفنا دینے کے دعوے کرتے ہیں۔ ارے کم عقلو! جب تک ضرورت باقی رہے گی، نظریہ ضرورت بھی باقی رہے گا۔

ایسا غلط بھی کیا کہا ہے جنرل صاحب نے۔ کبھی مسم امہ کی تاریخ میں دور دور تک جمہوریت کی جھلک بھی نظر آتی ہے؟ اب دور کیا جانا۔ اسی خطہ زمین کو لے لیجیے۔ کیا غزنویوں، غوریوں، لودھیوں، خلجیوں اور مغلوں کے طرزِ سیاست میں کہیں جمہوریت نام کی چڑیا پرواز کرتی نظر آتی ہے۔ حد کرتے ہیں آپ لوگ بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کا عروج تب تک رہا جب تک وہ آمریت کے زیرِ سایہ رہے۔ آپ لوگ مغرب کی تہذیب سے کیا مرعوب ہوئے کہ اس کفریہ نظامِ سیاست کو اپنا لیا۔ یہ تو تائیدِ غیبی ہے کہ اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے اس خطہ پاک کو قدرت نے ایسے ایسے نابغہ روزگار سپوت عطا کیے جو عسکری مہارت کے ساتھ ساتھ حکمرانی اور جہاں بانی کے فنون میں بھی طاق تھے۔ جذبہ ایمانی کی کمی نہ کہیے تو اور کیا کہیے، کہ بجائے ربّ کبریا کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لانے کے آپ حضرات اس احسانِ عظیم کے منکر ہیں۔

یاد کیجیے وہ وقت جب کروڑوں نہیں تو لاکھوں کی تعداد پر مشتمل ایک جمّ  غفیر روزانہ جی۔ایچ۔کیو کے باہر صبح سویرے ڈیرے لگا لیتا تھا، اور جمہوریت سے پیچھا چھڑانے کے لیے آہ و وزاری کرتا تھا۔ مدد کے لیے جنرل صاحب کو دیوانہ وار پکارا کرتا تھا۔ جنرل صاحب جی۔ایچ۔کیو کی چھت پر بنے ایک خفیہ جھروکے سے عوام کی حالتِ زار دیکھتے اور جی ہی جی میں پیچ و تاب کھاتے تھے۔ ہجوم شام ڈھلے آنکھوں میں مایوسی اور نامرادی لیے بوجھل قدموں سے گھروں کو لوٹ جاتا۔ یہ تو جنرل صاحب کی حب الوطنی اور خداترسی تھی کہ انہوں نے قوم کو اس دگرگوں صورتحال سے نکالنے کیِ خاطر بادلِ نخواستہ اپنے نازک کندھوں پر یہ بارِ گراں اٹھایا۔ اور اسی بوجھ کو اٹھانے کی وجہ سے ان کی نازک کمر آج تک تکلیف کا شکار ہے۔

مورخ اگر سویلین نہ ہوتا تو بارہ اکتوبر 1999 کی وہ شام تاریخ کے صفحات پر سنہرے حروف سے رقم کرتا جب ایک جانب تو دن کی روشنی اندھیرے کی چادر اوڑھ رہی تھی، اور دوسری جانب اس قوم کی قسمت کی اندھیری رات میں امید کی نئی کرن نمودار ہوئی تھی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تاریخ نویسی کا محکمہ بھی دائمی طور پر دفاع وطن کے ذمہ دار اداروں کے ماتحت کر دیا جائے تاکہ آئیندہ ایسی بددیانتی نہ ہو۔ جب وہ بینکنگ، ریئل اسٹیٹ، انشورنس،زراعت، آئل سیکٹر سے لے کر ملک کے داخلی اور خارجی معاملات تک میں اپنی خدمات ادا کر سکتے ہیں تو اس معمولی سی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا کون سا مشکل ہے۔

آمریت کتنے جتن کر کے قوم کی گاڑی کو ترقی کی پٹڑی پر چڑھاتی ہے، مگر یہ کم عقل سویلین لوگ پھر سے جمہوریت کا ڈھول بجانے لگتے ہیں اور کانٹا بدل کر گاڑی کو دوسری پٹڑی پر ڈال دیتے ہیں۔ ہمیں تو اس اسٹیشن ماسٹر کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ انہیں کانٹا بدلنے کیوں دیتا ہے۔ یہ بھی اسٹیشن ماسٹر اور ان سویلین لوگوں کی کوئی ملی بھگت لگتی ہے۔ اس اسٹیشن ماسٹر کی بھی ٹائم پر کمبل کُٹ لگ گئی ہوتی، تو دماغ ٹھکانے آ گیا ہوتا۔ کتنا مشکل ہوتا ہے دوبارہ سے قوم کی گاڑی کو دوبارہ سے پٹڑی پر چڑھانا۔

جیسا کہ جنرل صاحب کئی مرتبہ پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ وہ ڈرتے ورتے کسی سے نہیں ہیں۔ اور اب جب کہ یہ نوازشریف والا کانٹا بھی نکل گیا ہے تو مورے سیّاں بھئے کوتوال، اب ڈر کاہے کا۔ ہم جنرل صاحب سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ پاکستان کی دھرتی پر دوبارہ سے قدم رنجہ فرمائیں، اور نازک کمریا کا بل ابھی نکلا نہ ہو تو بے شک اپنی پرائیویٹ نرسوں کا دستہ ہمراہ لیتے آئیں۔ جس دوا سے انہیں آرام آ تا ہے وہ تو یہاں بھی کمیاب نہیں۔ کمی تو ویسے نرسوں کی بھی نہیں، مگر خدشہ ہے کہ بیرونِ ملک رہ کر آپ کا ذوق نہ بدل گیا ہو۔ مگر آئیے گا ضرور۔ اس مرتبہ ہم اسٹیشن ماسٹر کا بندوبست پہلے ہی کر رکھیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔