نواز شریف سوچتے تو ہوں گے۔۔۔


کوہ مری کے پرفضا مقام کے دامن میں، اپنی شاندار رہائش گاہ میں بیٹھے، سابق وزیر اعظم نواز شریف سوچتے تو ہوں گے۔ وزیروں کی فوج ظفر موج کے بغیر، سرکاری پروٹوکول کے بنا اور ہر وقت ارد گرد منڈلانے والے افسران کی قطار کی عدم موجودگی میں نواز شریف سوچتے تو ہوں گے۔ ان سے خطا کیا ہوئی ہے؟ قصور کیا ہے ان کا؟ مجرم کیوں بنا دیا گیا ہے انہیں؟ حکومت سے کیوں ہٹا دیا گیا ہے انہیں؟ اگر کوئی جرم ہوا ہے تو ثبوت کیوں نہیں ملتا؟ اگر کوئی خطا نہیں ہوئی ہے تو خطا کار کیوں بنا دیا گیا ہے انہیں؟ پاناما میں تو چھ سو لوگوں کے نام تھے تو پھر انکے یک طرفہ کیس کی سماعت کے بعد پاناما کو کیوں بھلا دیا گیا ہے؟ فیصلہ ثبوت پر ہوتا ہے۔ ثبوت کے بنا کیوں مجرم بنا دیا گیا ہے انہیں؟

کوئی کرپشن ہوتی تو بات بھی تھی، بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر مجرم ٹھہرا دیا گیا ہے انہیں؟ یہ کیسا فیصلہ ہے جس کا دنیا بھر کے میڈیا میں تمسخر اڑایا جا رہا ہے؟ یہ کیسا فیصلہ ہے کہ جس کے سنانے والے اب اس فیصلے سے کنی کترا رہے ہیں؟ یہ کیسا فیصلہ ہے کہ جس پر کروڑوں عوام بلبلا رہے ہیں؟یہ کیسا فیصلہ ہے کہ جو تاریخ کی کتاب میں سیاہ باب کہلائے گا؟ یہ کیسا فیصلہ ہے جو انصاف کے علم کو ہمیشہ سرنگوں دکھائے گا؟ یہ کیسا فیصلہ ہے جس کی کتابت دھرنے سے شروع ہو گئی تھی؟ یہ کیسا فیصلہ ہے جس کی تفتیش اربوں، کھربوں سے شروع ہو کر بس ایک اقامے پر رک گئی تھی۔ یہ کیسا فیصلہ ہے کہ جمہوریت پھر زیر دام آ گئی ہے؟ یہ کیسا فیصلہ ہے، کسی کی قربانی کسی کے کام آ گئی ہے؟

نواز شریف سوچتے تو ہوں گے کہ کیا سڑکیں بنانا جرم ہے؟ کیا ملک کو ترقی کا راستہ دکھانا جرم ہے؟ کیا معیشت کو بہتر بنانا جرم ہے؟ کیا بجلی کی لوڈشیڈنگ گھٹانا جرم ہے؟ کیا ریلوے کا بہتر انصرام جرم ہے؟

 کیا خوشحالی کا پیغام جرم ہے؟کیا جمہوریت کا نعرہ جرم ہے؟ کیا ہر ضمنی انتخاب جیتنا جرم ہے؟ کیا مخالفوں  سے عزت سے بات کرنا جرم ہے؟ کیا گالیاں نہ بکنا جرم ہے؟ کیا درون خانہ سازشوں کا رستہ روکنا جرم ہے؟ کیا بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہش جرم ہے؟ کیا افغانستان میں امن کی تمنا جرم ہے؟ کیا ایران سے بہتر تعلقات کی امید جرم ہے؟ کیا سول بالادستی کا نعرہ جرم ہے؟ کیا جمہور کے حق کا تقاضا جرم ہے؟ کیا الیکشن جیتنا جرم ہے؟ کیا پارلیمنٹ کا رکن ہونا جرم ہے؟ کیا اسمبلی کا ممبر ہونا جرم ہے؟ کیا تیسری بار وزیر اعظم بننا جرم ہے؟ کیا اس ملک کے آئین کے تحفظ کی قسم اٹھانا جرم ہے؟ کیا قانون پر عملداری جرم ہے؟ کیا عوام کی طرف داری جرم ہے؟

نواز شریف سوچتے تو ہوں گے کہ جب ستر سال سے کسی جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری ہی نہیں کی، جب کسی منتخب وزیر اعظم کو پانچ سال چلنے ہی نہیں دیا گیا۔ جب کبھی 58 ٹو بی کا پھندا لگا، جانا ہے۔ کبھی صادق اور امین کی ہتھکڑی لگا دینی ہے۔ کبھی گولی سے مار دینا ہے، کبھی پھانسی سے لٹکا دینا ہے، کبھی کرپشن کے الزام میں نکال دینا ہے، کبھی پاناما کا بہانہ بنا دینا ہے، کبھی توہین عدالت پر معزول کر دیا جانا ہے اور کبھی شہید کر دیا جانا ہے تو پھر کیا ضرورت ہے اس ملک میں جمہوریت کی؟ کیا ضرورت ہے وزیراعظم منتخب کرنے کی؟ کیا ضرورت ہے آئین کے تحت حلف اٹھانے کی؟ کیا ضرورت ہے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کروانے کی؟ کیا ضرورت ہے پارلیمانی کمیٹیوں کی؟ کیا ضرورت ہے سینٹ کی؟ کیا ضرورت ہے جلسے جلوس کرنے کی؟ کیا ضرورت ہے ووٹ ڈلوانے کی؟ کیا ضرورت ہے الیکشن کے ڈھونگ کی؟ کیا ضرورت ہے عوامی نمائندوں کی؟ کیا ضرورت ہے جمہو ر کے نعرے کی؟ کیا ضرورت ہے عوام کی بات کی؟ کیا ضرورت ہے خوشحالی کے خواب کی؟کیا ضرورت ہے میری ، ہماری اور آپ کی؟

نواز شریف سوچتے تو ہوں گے کہ بجائے انتخابات کے ڈھکوسلے کے، بجائے جمہویت کے دھوکے کے، بجائے ووٹ کے کے نعرے کے، پہلے ہی اس دھرتی کے مالکوں سے پوچھ لیا جائے۔ کون سا شخص جناب کو کتنے عرصے کے لئے وزیر اعظم قبول ہے؟ کون سے وزیر کا کتنا اختیار ہے؟ کون سے شخص کی زبان بندی آں جناب کو بھاتی ہے؟ کون سے فرد کی گفتار سرکار کو سرشار کرتی ہے؟ کس محکمے میں کتنا کام کرنا ہے؟ کون سے ملک سے دشمنی رکھنی ہے؟ کس ملک کا اقامہ جائز ہے؟ کس ریاست پر شفقت کی نگاہ رکھنی ہے؟ کون سے فرقے کو سزا دینی ہے؟ کس قبیلے کو کافر قرار دینا ہے؟ کس شخص کو اس دفعہ غدار کہنا ہے؟ کس پر کرپشن کا کیس ڈالنا ہے؟ کس کو کھلی چھوٹ دینی ہے؟ کس کی ذرا سی خطا پر جان لینی ہے اور کس کی خو فناک غلطیوں سے سے پردہ پوشی کرنی ہے؟ کس جنگ میں شرکت حلا ل سمجھنی ہے اور کس ملک سے جنگ کو حرام قرار دینا ہے؟ کس کے قیدیوں کو خوشدلی سے رہا کرنا ہے۔ کس کے قیدیوں کو نشان عبرت بنانا ہے؟

خارجہ پالیسی میں کس ملک کا دھیان رکھنا ہے۔ کس سے مخاصمت جتانی ہے؟ کس زمین پر قبضہ خوشدلی سے کرنا ہے، کس قبضے پر میڈیا میں طوفان بپا کرنا ہے؟ کون سے دہشت گرد مجرم ہیں اور کن کو سینے سے لگا کر رکھنا ہے ؟ کونسی جنگ آزادی کی ہے اور کون سا محاذ فتنہ پردازوں کا ہے؟ کس کے کہنے پر بولنا ہے۔ کس کے حکم پر چپ رہنا ہے؟ کس کی حمایت کرنی ہے کس کی نسلوں کو توم ڈالنا ہے؟ خزانے میں سے کس کو، کتنا حصہ دینا ہے؟ کس کو مالا مال کر نا ہے؟ کس کو بھوکا مار دینا ہے؟ کہاں ملک کے تحفظ کا نعرہ لگانا ہے اور کہاں لبوں کو سی لینا ہے؟ یہ فیصلے اگر الیکشن کے جھنجٹ کے بغیر ہی ہو جائیں تو بہتر ہے، یہ فیصلے کسی جمہوری حکومت کے بنا ہی ہو جائیں تو سہولت ہے۔ یہ فیصلے کسی عدالتی قتل کے سوا ہی ہو جائیں تو بہتر ہے۔ یہ فیصلے کسی ووٹ کے بغیر ہی پوچھ لئے جائیں تو بہتر ہے۔ یہ انتخابات میں قوم کا وقت بہت ضائع ہوتا ہے؟ یہ عدالتی کارروائیوں میں ٹائم بہت خراب ہوتا ہے۔ سرکار ہمیں پہلے سے بتا دیا کریں کہ کہاں نعرہ لگانا ہے؟ کہاں جان دینی ہے؟ بہت سہولت ہو جائے گی۔ یہ جمہوریت سے ،جمہور سے ، ووٹ کی طاقت کے نعرے سے، عوام کی حاکمیت کے غبارے سے جان چھوٹ جائے گی۔ ایسے آپ کا مقام بھی ارفع رہے گا۔ ہم رزیلوں کو بھی اپنی حیثیت یاد رہے گی۔

کوہ مری کے پرفضا مقام کے د امن میں، اپنی شاندار رہائش گا ہ میں بیٹھے سابق وزیر اعظم نواز شریف یہ سب سوچتے تو ہوں گے۔ لیکن ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یہ زمین اب اتنی بنجر بھی نہیں رہی۔ سنگلاخ دھرتیوں پر ہی بالاخر جمہوریت کے پھول کھلتے ہیں۔ ابھی اس ملک میں سچ بولنے والے چند ایک زندہ ہیں۔ ابھی اس دھرتی حق بات کرنے باقی ہیں، ابھی اس وطن میں مٹھی بھر نڈرا ور بے باک لوگ حیات ہیں، ابھی اس ملک میں بہت سے بھوکے ننگے صحافی جمہوریت کے نام لیوا ہیں، ابھی اس ارض پاک پر کڑوروں لوگ جمہوریت کے متوالے ہیں۔ ابھی اس دھرتی پر انصاف کرنے والے باقی ہیں۔ ابھی اس ملک میں سچی خبریں دینے والے کچھ چینل باقی ہیں۔ جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ۔ جو آمریت کے خلاف سینہ سپر ہونا چاہتے ہیں، جو جبر کے اس ماحول سے تنگ ہیں، جو امید کی کرن، ترقی کی امنگ اور عوام کے ووٹ کی بالا دستی میں یقین رکھتے ہیں۔ جو آپ کے مری کے قیام سے خوش نہیں ہیں۔ جو آپ سے مقابلے کی التماس کرتے ہیں۔ جو آپ سے سینہ بسر رازوں کا انکشاف چاہتے ہیں۔ جو آپ سے جمہوریت کے خلاف سازشیوں کے نام چاہتے ہیں۔ جو ڈکٹیٹروں سے اب نجات چاہتے ہیں۔ جو سسلین مافیا کے خلاف انقلاب چاہتے ہیں۔ اور جوڈیشل مارشل لا کا احتساب چاہتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 82 posts and counting.See all posts by ammar