سیاچن کا تنازع ایک غلطی ہے


جب اگست 1947 میں برصغیر ہند کی تقسیم کے موقع پر برطانوی حکومت نے انخلا سے پہلے لارڈ سرل ریڈکلف کو قائم ہونے والی دونوں ریاستوں کی سرحدیں متعین کرنے کی ذمہ داری سونپی تو کسی کو یہ اندازہ نہ تھا کہ اس ان دیکھی لکیر کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات ستر سال گزرنے کے باوجود ان دونوں ملکوں پر کالی گھٹاؤں کی طرح چھائے رہیں گے۔

ان سات دہایوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان انہی سرحدی حدود کی خاطر تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں جن میں سے ایک کے نتیجے میں پاکستان کو ملک کے مشرقی حصے سے ہاتھ بھی دھونے پڑے تھے لیکن لاکھوں جانوں کے ضیاع کے باوجود سرحدی تنازعات جوں کے توں موجود ہیں۔

مگر ان تمام تنازعات میں سے سب سے پیچیدہ، اور لاحاصل لڑائی دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ، سیاچن گلیشیئر پر گذشتہ 33 برس سے جاری ہے۔ اس لڑائی کے بارے میں امریکی سکالر اور جنوبی ایشیائی امور کے ماہر پروفیسر سٹیفن کوہن کہتے ہیں کہ ’یہ جنگ ایسی ہے جیسے دو گنجے شخص ایک کنگھی کی خاطر لڑ رہے ہوں۔’

ہمالیہ کے بعد دنیا کے عظیم ترین پہاڑی سلسلے قراقرم کی برفیلی چوٹیوں پر موجود، تین کھرب مکعب فٹ برف سے بنا ہوا 45 میل لمبا اور تقریباً 20000 فٹ کی بلندی سے شروع ہونے والا برف کا یہ منجمد دریا قطب شمالی اور قطب جنوبی کو چھوڑ کر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گلیشیئر ہے۔

شمال مغرب کی جانب سے شروع ہو کر بل کھاتا ہوا یہ گلیشیئر جنوب مشرق کی طرف سانپ کی مانند نیچے آتے ہوئے انڈیا کے زیر انتظام وادی نبرا میں ختم ہوتا ہے جہاں جنگلی گلابوں کی بہتات ہے اور اسی مناسبت سے بلتی زبان میں اس گلیشیئر کا نام سیاچن، یعنی جنگلی گلابوں کی سرزمین ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ 33 برس سے جاری اس جنگ میں انسانوں کا مقابلہ انسانوں سے کم اور قدرت سے زیادہ ہے۔ سردی کے موسم میں سیاچن گلیشیئر پر درجہ حرارت منفی 60 ڈگری تک گر جاتا ہے اور برفانی طوفان اور ہواؤں کے جھکڑ 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں اور اپنے ساتھ اوسطً 40 فٹ برفباری لاتے ہیں۔ اس گلیشیئر پر سالانہ آٹھ ماہ برفباری ہوتی ہے اور اونچائی کی وجہ سے صرف 30 فیصد تک آکسیجن رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہاں سانس لینا دشوار تر ہو جاتا ہے۔

غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 1984 سے شروع ہونے والی اس جنگ میں پاکستان اور انڈیا کے اب تک تقریباً تین سے پانچ ہزار فوجی جانیں گنوا چکے ہیں جن میں 70 فیصد سے زیادہ اموات موسم اور اس خطے کی دشواریوں کےباعث ہوئی ہیں۔ 2003 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے سیاچن پر جاری لڑائی اس لحاظ سے دنیا کی منفرد ترین جنگ ہے جہاں 14 سال سے کوئی گولی نہیں چلی اور اس عرصے میں یہاں ہونے والی تمام اموات قدرتی وجوہات کی وجہ سے ہیں۔

2015  میں انڈیا کی لوک سبھا میں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق انڈین فوج سیاچن کے محاذ پر اپنے سات سے آٹھ ہزار فوجیوں کے لیے تقریباً 500 ملین ڈالر خرچ کرتی ہے جبکہ پاکستان کی فوج اس خطے میں موجود اپنے چار سے پانچ ہزار فوجیوں کے لیے 60 سے 70 ملین ڈالر صرف کرتی ہے۔

1905  میں فرنٹیئر سروے آف برٹش انڈیا کے سپرنٹنڈنٹ تھامس ہالڈرچ نے تنبیہ کی تھی کہ ’سیاچن گلیشیئر تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہے اور وہ ایسا علاقہ ہے جو مہذب معاشرے سے بہت دور ہے۔ وہاں جانا محض حماقت ہے اور خود کو شرمندہ کرنے کے مترداف ہے۔’

اس واضح تنبیہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو کسی بھی ذی ہوش شخص کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایسی دشوار، ناقابل استعمال اور عسکری اعتبار سے غیر کلیدی مقام پر یہ لاحاصل جنگ کیوں جاری ہے، اور کب تک جاری رہے گی۔

بنیادی طور پر سیاچن کے تنازع کی جڑ درحقیقت نقشہ کشی اور جغرافیائی وضاحت میں کمی کی وجہ سے ہے اور اس تنازع کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے اوراق میں سرحدوں کی حد بندی کے باب کو سمجھنا ضروری ہے۔

اگست 1947 میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور انڈیا دو علیحدہ ریاستوں کی صورت میں وجود میں آئے۔ مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کے حکمران ڈوگرا ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے دو ماہ بعد اکتوبر میں انڈیا کے ساتھ ضم ہونے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ریاست کے مسلمانوں کی جانب سے بغاوت کی لہر اٹھی جو کہ 1948 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان پہلی جنگ کا شاخسانہ بنی۔

اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اکتوبر 1949 میں پاکستان کے اُس وقت کے دارالحکومت کراچی میں پاکستانی اور انڈین نمائندوں نے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر سیز فائر لائن پر اتفاق کرنے کے لیے ملاقات کی جس میں نقشے پر سیز فائر لائن کے تحت سرحد کی حدود کا تعین کیا گیا۔

اس معاہدے کے تحت سیز فائر لائن کی آخری حد کو این جے 9842 کا نام دیا گیا جو کہ سیاچن گلیشیئر کے جنوبی حصے کے قریب واقع ہے۔ معاہدے کے مطابق اس مقام سے ’گلیشیئرز کے شمال کی جانب’ حصے کو سرحد تصور کیا گیا اور دونوں فریقین نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا۔ اس جملے پر رضامندی کا مطلب تھا کہ سیز فائر لائن کی آخری مقررہ حد کے بعد بھی تقریباً 50 میل کی سرحد غیر مقررہ تھی لیکن کیونکہ وہ علاقہ صرف برف سے لبریز تھا اور انسانی رہائش کے قابل نہیں تھا، پاکستان اور انڈیا نے اس حصے کی حد بندی پر زور نہیں دیا۔

پاکستان اور انڈیا نے اس کے بعد 1965 اور پھر 1971 میں جنگ کے میدان میں سامنا کیا۔ دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان کھونے کے بعد شکست خوردہ پاکستان نے جولائی 1972 میں انڈیا میں شملہ کے مقام پر نئی سرحدوں کی حدود کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کی۔

انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے اس معاہدے پر دستخط کیے لیکن اس دستاویز میں سرحدی حدود کی تعیناتی سیز فائر لائن کے بجائے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نام سے کی گئی اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ’دونوں فریقین اپنے باہمی اختلافات اور کسی بھی قانونی مداخلت سے بالاتر ہو کر ایل او سی کو یکطرفہ طور پر نہیں بدل سکتے۔’ اس معاہدے کو تشکیل دینے والوں نے بھی سرحدوں کی آخری حد این جے 9842 تک جا کر چھوڑ دی۔ ان کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ بارہ سال بعد یہاں شروع ہونے والی جنگ کیا مشکلات برپا کرے گی۔

قیام پاکستان کے بعد قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں براستہ بلتستان کوہ پیمائی کرنے والی غیر ملکی ٹیموں نے حکومت پاکستان سے باضابطہ اجازت ناموں کی درخواست کرنی شروع کی اور ایک اندازے کے مطابق 1972 سے لے کر 1980 کے اوائل تک حکومت پاکستان نے تقریباً 21 اجازت نامے جاری کیے جس کے تحت کوپیما ٹیموں نے قراقرم اور سیاچن گلیشیئر کے اطراف میں اپنے مشن پورے کیے۔

سیاچن گلیشیئر پرعسکری جارحیت کے بیج 1977 میں بوئے گئے جب ایک جرمن کوہ پیما نے انڈیا کی سرحد سے قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں جانے کے لیے اجازت طلب کی اور انڈین فوج کے افسر کو امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے بنایا گیا نقشہ دکھایا۔ اس نقشے میں این جے 9842 سے آگے 50 میل کے حصے کو پاکستان کی سرحد میں شامل دکھایا گیا تھا جو کہ اس سے پہلے غیر متعین تھا۔

انڈین فوج کے کرنل نریندر بل کمار نے اپنے افسران کو اس نقشے کے بارے میں بتایا جس کے بعد انھیں سیاچن گلیشیئر کی جانب کو پیمائی کرنے کا اور علاقے کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم ملا۔ اس واقعہ کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی اس خطے میں نقل و حرکت پر نظر رکھنی شروع کر دی اور غیر ملکی کوہ پیما ٹیموں کا اس علاقے میں داخلہ کم سے کم ہوتا گیا۔

1983  کے وسط میں دونوں فوجوں نے باضابطہ طور پر ایک دوسرے کو شکایتی نوٹس بھیجے اور سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے خلاف تنبیہ کی لیکن اس وقت تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ اب یکے بعد دیگرے فوجی دستوں کی اس علاقے میں کوہ پیمائی کے بعد اس بنجر، بیابان، برف کے دریا پر امن کے دن ختم ہونے والے ہیں۔

13 اپریل 1984 کو انڈین فوج نے آپریشن میگھ دھوت کا آغاز کیا جہاں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے چالیس فوجی جوانوں کو اگلے چار دن میں گلیشیئر پر اتارا گیا۔ چار دن بعد 18 اپریل کو پاکستان نے جواب میں اپنے فوجی دستے بھیجنے شروع کیے اور اس کے ساتھ ہی دنیا کا بلند ترین میدان جنگ سج گیا۔

(اس مضمون سمیت) عمومی طور پر یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ جنگ سیاچن گلیشیئر پر ہو رہی ہے لیکن زمینی حقائق کے مطابق یہ جنگ سیاچن گلیشیئر تک رسائی کے لیے ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1984 کے بعد سے پاکستانی فوج سیاچن گلیشیئر پر کوئی مستقل چوکی بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مقابلے میں انڈین فوج کو بہتر اور اونچی پوزیشن پر رسائی حاصل ہے۔ گلیشیئر کے مغربی سرے پر موجود سالتورو پہاڑی سلسلے پر انھوں نے اپنی مستقل چوکیاں قائم کی ہوئی ہیں جن سے وہ پاکستانی چوکیوں پر نظر رکھتے ہیں۔

سیاچن پر جنگ شروع ہونے کے بعد پہلے پانچ سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان کئی جھڑپیں ہوئیں اور دونوں فریقین کے فوجیوں نے بہادری اور ہمت کی ناقابل یقین مثالیں قائم کرتے ہوئے حیران کن جرات کا مظاہرہ کیا لیکن بڑی تعداد میں جنگی اموات اور موسم کی سختیوں کے باعث بہت جلد پاکستان اور انڈیا کی عسکری قیادت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس جنگ میں قدرت اورحالات کو شکست دیے بغیر مکمل کامیابی کا دعویٰ کرنا ایک خواب رہے گا۔

پاکستان اور انڈیا کے دیگر سرحدی تنازعات کے برعکس سیاچن کے جنگی محاذ کی خاص بات یہ ہے کہ گذشتہ 33 برس میں ان دونوں ممالک نے جنگی حالات میں رہتے ہوئے بھی اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لیے متعدد بار کوششیں کی ہیں اور اب تک ان دونوں کے درمیان 13 مشترکہ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔

ان تمام مشترکہ اجلاسوں میں سب سے سودمند ملاقات جون 1989 میں اسلام آباد میں ہوئی تھی اور اس میں شامل چند مندوبین کے مطابق سیاچن پر امن قائم کرنے کا اس سے بہتر موقع دوبارہ کبھی نصیب نہیں آیا۔

اگست 1988 میں پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی موت کے بعد ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے جن کے کے بعد بینیظیر بھٹو نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ ان کی کامیابی کے بعد انڈین وزیر اعظم راجیو گاندھی نے جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں انھوں نے اپنی پاکستانی ہم منصب سے تعلقات استوار کیے۔

جون 1989 کے اجلاس میں اہم کردار ادا کرنے والے پاکستان کے اس وقت کے سیکریٹری خارجہ ہمایوں خان نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا کہ سارک اجلاس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی تھی اور اس اجلاس میں شرکت کرنے والے انڈین وفد کے سربراہ، سیکریٹری دفاع نریش چندرا کا رویہ بھی بہت مثبت تھا۔

’اس اجلاس میں یہ طے ہوا تھا کہ دونوں فوجیں عسکری قیادت سے تصدیق کے بعد 1972 میں کیے جانے والے شملہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اس معاہدے سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی جائیں گی۔’

جولائی میں انتقال کر جانے والے نریش چندرا نے اپنی وفات سے چند ہفتے قبل بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ہمایوں خان کے بیان کی مکمل تائید نہیں کی۔

’اس اجلاس میں یہ ضرور طے پایا گیا تھا کہ فوجوں کی نئے سرے سے تعیناتی صرف عسکری قیادت کی منظوری کے بعد ہوگی لیکن ہمارا مرکزی اختلاف اپنی جگہ پر موجود تھا جہاں ہم نے الزام کی مکمل تردید کی تھی کہ انڈیا نے شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔’

نریش چندرا نے اس ملاقات کی ناکامی پر اپنے ملال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن قائم کرنے کا سنہرا موقع تھا جو کہ کھو دیا گیا۔’

تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اجلاس کی تکمیل کے بعد مشترکہ اعلامیہ انھوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب، سیکریٹری دفاع اجلال حیدر زیدی کے ساتھ طے کیا اور ان دونوں نے یہ عہد کیا تھا کہ اعلامیہ کے حوالے سےمیڈیا میں تفصیلات نہیں دی جائیں گی۔

لیکن ہمایوں خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر انھوں نے انڈین سیکیرٹری خارجہ ایس کے سنگھ کی موجودگی میں دونوں فوجوں کے شملہ معاہدے سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جانے پر اتفاق کرنے کے بارے میں میڈیا کو بتایا جس کی تائید ایس کے سنگھ نے بھی کی۔

مگر جتنی دیر میں جہاز انڈین وفد کو لے کر نئی دہلی پہنچا، اعتراضات اور اختلافات کی بوچھاڑ ہو چکی تھی اور اس کا خمیازہ ایس کے سنگھ کو بھگتنا پڑا جنہوں نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔

جنوبی ایشیائی امور کے ماہر اور امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ ورسنگ نے بی بی سی کو جون 1989 میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں بتایا کہ ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیاچن کے بارے میں ہونے والے اجلاسوں میں سب سے کارآمد اجلاس یہی تھا لیکن یہ کہنا قطعی غلط ہوگا کہ مسئلے کا حل تقریباً مل گیا تھا اور انڈین ہٹ دھرمی اس اجلاس کی ناکامی کا سبب بنی۔’

جون 1989 میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے علاوہ 1992 اور 2005 میں ہونے والی ملاقاتوں میں بھی ایسا لگتا تھا کہ پیش قدمی ہو رہی ہے مگر وہ صرف نظر کا سراب نکلیں۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1999 میں کارگل کے واقعے کے بعد سیاچن پر بھی اس کے اثرات ہوئے لیکن 2003 تک پاکستان کے نئے سربراہ، فوجی جنرل پرویز مشرف اور انڈیا کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اعتماد کی فضا بحال کرنے میں مثبت پیشرفت کی اور اسی سال کے آخر میں ایل او سی کے ساتھ ساتھ سیاچن کے محاذ پر بھی جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنے میں کامیابی حاصل کی لیکن فوجوں کی واپسی اور سرحدوں کی حد بندی کا معاملہ حل نہ ہو سکا۔

گذشتہ 14 برس سے سیاچن پر بندوقیں استعمال نہ ہونے کے باوجود دونوں فریقین اپنے بنیادی موقف پر کسی قسم کی بھی لچک دکھانے سے قاصر ہیں۔ انڈیا اس بات پر مصر ہے کہ اس محاذ پر اس کی عسکری برتری اور ان کی حقیقی زمینی پوزیشن یا ایکچول گراؤنڈ پوزیشن لائن (اے جی پی ایل) کو قانونی حیثیت دی جائے اور اسے بلا چوں چرا تسلیم کیا جائے۔

دوسری جانب پاکستان کا نقطہ نظر ہے کہ شملہ معاہدے کی پاسداری کی جائے اور اس کے تحت فوجوں کی پوزیشن متعین کی جائے۔

ممبئی 2008 کے واقعے کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں جو سرد مہری اور سختی سامنے آئی ہے اس سے سیاچن کے حل کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ انڈین فوج کے سابق کرنل اور دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’کارگل کی لڑائی کے بعد انڈیا اب پاکستان پر قطعی طور پر اعتماد نہیں کر سکتا اور پاکستان کو اے جی پی ایل تسلیم کرنا ہوگی۔’

انڈین آرمی کی سابق جنرل سید عطا حسنین نے اسی نقطے کا اعادہ کرتے ہوئے بی بی سی کو مزید بتایا کہ ’معاملہ اب اے جی پی ایل سے کہیں آگے جا چکا ہے اور سیاچن کا مسئلہ جموں کشمیر کے تنازع سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔’

پروفیسر ورسنگ نے بھی اس نقطے کی تائید کی اور کہا کہ ’مسئلہ کشمیر اور سیاچن کی جنگ کو الگ الگ تنازع سمجھنا اب ممکن نہیں ہے اور اب یہ سرحدی حد بندی کے بجائے ایک سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔’

اپریل 2012 میں پاکستانی فوج کے سیاچن گلیشیئر کے نزدیک قائم بٹالین ہیڈ کوارٹر گیاری پر برفانی طوفان آیا جس کے نتیجے میں 140 افراد زندہ دفن ہو گئے۔ اس سانحے کے بعد پاکستان فوج کے اس وقت کے سربراہ جرنل اشفاق پرویز کیانی نے ایک دفعہ پھر فوجوں کی واپسی اور سیاچن کے محاذ کو ختم کرنے کی تجویز دی جس کے بعد اسی سال دونوں ملکوں نے ایک بار پھر مشترکہ اجلاس معنقد کیا لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔

ایسا ہی حادثہ پچھلے سال انڈین آرمی کے ساتھ بھی ہوا جب ان کے بھی نو فوجی برفیلے طوفان میں دفن ہو گئے لیکن انڈیا کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اپنے بیان میں انڈین فوج کی واپسی کے امکان کو مکمل طور پر خارج قرار دیا۔

سیاچن کے معاملے پر ہونے والی بحث پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ عسکری اہمیت سے زیادہ انا کا مسئلہ بن چکا ہے اور ایک ایسی جنگ جہاں مقابلہ دشمن سے زیادہ قدرت سے ہو، وہاں پر یہ ضد کرنا کہ ’دشمن کو ایک انچ بھی جگہ نہیں دی جائے گی’ غیر مناسب لگتا ہے۔

حیران کن طور پر اسی خیال کا اظہار اس شخص نے کیا جسے سیاچن کی جنگ شروع کرنے والے پہلے آپریشن کا خالق تسلیم کیا جاتا ہے۔ انڈین آرمی کے جنرل منوہر لال چبر جنھوں نے 1984 میں آپریشن میگھ دھوت کا آغاز کیا، انھوں نے 16 سال بعد دفاعی امور کے جریدے ڈیفینس جرنل میں پاکستان فوج کے سابق افسر اکرام سہگل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:’سیاچن کا تنازع ایک غلطی تھی اور دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ پر جاری اس لڑائی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔’

(عابد حسین)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 375 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp