بلیک آؤٹ کے اندھیرے میں جرائم پلتے ہیں


bakht....

“بلیک آوٹ” کا مطلب تاریکی ہے اورمکمل تاریکی ۔ مے نوش ڈکٹیٹر کا دوربڑوں کو آج بھی یاد ہے جب دشمن کے طیارے گھس آتے تو ملک بھر میں تاریکی کا راج ہوجاتا ، عوام کو ہدایت ہوتی تھی کہ دن کی روشنی ہی میں سارے کام نمٹادیے جائیں شام تک کوئی شعلہ ، کوئی چنگاری زندہ رہے نہ کوئی دیپک اور کوئی دیا۔ تاریکی کی کوکھ سے مزید ظلمتیں اور جہالتیں ہی پھوٹتی ہیں۔ آزادی ، برابری اور انسانی حقوق جمہوریت کے اولین ترین اصول ہیں۔

کل ہم بنگلہ دیش سے میچ ہار گئے .پرسوں تو ہم ان سے ہی ہارگئے تھے ۔خاکم بدہن! ہم نہیں آمریت ، طاقت اور جبر احساس کمتری اور احساس محرومی  کے ماروں سے ہار گئی تھی ۔ یہ احساس محرومی اور کمتری بلیک آوٹ سے ہی جنم لیتا ہے جب انسانوں کے بعد آوازوں کو بھی دار پر لٹکادیا جاتا ہے ۔ دار چیز ہی ایسی ہے جو اس پر کھینچا جاتا ہے اوپر کو اٹھتا ہے، نیچے آتا ہے تو امر ہوچکا ہوتا ہے ۔ بھٹو مرحوم ہی کی بات کرلیں۔ ایک فوجی آمر کا وزیر خارجہ رہا اور دوسرا انہیں اپنا جانشین بنا کر چلتا بنا ، خود اپنے سیاسی مخالفین کو اس نے جینے نہ دیا مگر پھانسی پر چڑھا تو اس کا نام ہی تین نسلوں کو انتخابات میں جتوانے کے لیے کافی  ہے ۔ اب تو پیپلز پارٹی بھی مر گئی مگر بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔

بنگلہ دیش میں جب مے نوش ڈکٹیٹر ستیزہ کار تھا تب بھی ہم بلیک آوٹ کا شکار تھے ۔ ہمیں فتح وظفر کی خبریں ہی مل رہی تھیں ۔ ہمیں جو بتایا جارہا تھا وہ سب غلط نکلا اور بنگال ایک دیش بن گیا۔ بھٹو کے بعد بھی ایک فوجی آمر آیا۔ بلیک آوٹ اس نے بھی کیے ، یہاں تک کہ اخبارات میں سرخیوں کی بجائے سنسر بورڈ کی قینچیاں چھپنے لگیں۔ بڑے لوگوں سے یہ بھی پوچھیں انہیں یاد ہوگا جب پورے پورے صفحے پر قینچی چھپ جاتی ۔

مگر صاحب اب کی بار تو غضب ہوگیا جی غضب ۔ اب کی بار تو جمہوریت میں آمریت کی روح حلول کرگئی ، کوئی غضب کا “عامل “جمہوریت کو مسخر کر بیٹھا ۔ بلیک آوٹ اور ایسا بلیک آوٹ کہ جگنو بھی سیاہ بوٹ کے “تسموں” میں قید کیے گئے ۔ اسے کیا سمجھا جائے لبرل ازم کی جانب قدم ؟ وہی مصطفی کمال اتاترک والا لبرل ازم ؟ کہ اپنی مرضی کے سوا ریاست کوئی آپشن ہی نہ چھوڑے ۔ نظریات کا پرچار ہر ایک کا جمہوری حق ہے ۔ ایک مولوی منبر پر بیٹھ کر جہاد کی بات کرسکتا ہے تو وزیر اعظم  کواپنے ہاوس میں  شرمین عبید کی فلم دیکھنے کے بعد  لبرل ازم کی انگڑائی لینے کی بھی اجازت ہے، انہیں بھی اپنی مرضی سے درافشانی کرنے کی آزادی ہے ۔   آزادی سب کے لیےہے  پر ایک بات سمجھنے کی ہے کہ عوام کے لیے آپشن ختم نہ کیا جائے ۔ یہی جمہوریت ہے ۔ دیر وحرم  کےراستے کھلے رکھیں  اور نہیں تو کم از کم اتنا  حق دیں اس قوم کو ۔ جمہوریت کو اکثریت کی آمریت نہ بنائیں ۔ زبان خلق کو پھندوں میں پھنسانے کی کوشش نہ کی جائے ۔  عمل کا رد عمل ہوتا ہے ، قانون جرم وسز ا ہو یااصول عشق ومستی سب ازل سے رہے ہیں ۔ اپنی ذمہ داری نبھائیں اور شوق سے نبھائیں ، جی میں جو آئے لبرل ازم ہو یا اسلام پسندی ، انتخاب آپ ہی کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ اب تک آپ نے کیا ہے ۔ شریعت بل بھی آنجناب کا کارنامہ سمجھاجاتا تھا کسی دور میں  ،اب شاید حالات وہ نہیں رہے تو کارنامہ کرنے کا انداز بدل گیا ہے ۔  ایسی تبدیلیاں کرتے رہیے کہ اقتدار کی صحت کے لیے ضروری ہوتی ہیں  مگر اقتدار کو آمر کی چھڑی نہ بنایا جائے ، جن جمہوری اصولوں کا پہلے دن حلف لیا ہے اسی کی پیروی کریں ، حدوداور تعریف  متعین کریں  لبرل ازم کے نام پر خلق خدا کو اذیتیں  نہ دیں۔

ایک جملہ معترضہ ، شرمین عبید ایک آرٹسٹ ہے ، فلمیں بناتی ہیے ، سب بناتے ہیں وہ بھی بنائے ، اِس موضوع پر بناتی ہے  اُس موضوع پر کیوں نہیں بناتی ، یہ بھی اس کی ہی مرضی ، خواتین کے حقوق بہت ہی اہم مسئلہ ہے اسی پر ہی بنائے ۔ ہمیں مفت میں ہر سال  آسکر مل جاتا ہے تو بناتی رہے ،  مگر نہ معلوم اسے دیکھ کر لبرل انگڑائی کیوں سوجھی ہمارے وزیر اعظم کو ۔ خواتین کے حقوق کے لیے اس کے اپنے پاس کردہ شریعت بل میں کچھ بھی نہیں ہے کیا؟

مشرف کے سیاہ کارناموں سے تنگ آئے ہوئے عوام جمہوریت کی دعائیں مانگتے تھے ، جمہوریت بھی امریت  کا لبادہ اوڑھ لے تو یہ قوم کہاں جائے ؟ لفظوں  کو اندھیروں میں ڈھکنے کی کوششیں آمریت کرتی ہے  سوچ پر پہرے بٹھانے کا کام انہیں کا ہوتا ہے ۔ حالانکہ حرف اپنی آزادی حاصل کرکے ہی  رہتے ہیں  اور افکار کو تنگائے میں مقید نہیں کیا جاسکتا ، گھٹن اسی سے پیدا ہوتی ہے اور بغاوت گھٹن سے ۔ ہمارے حکمرانوں میں کیوں اب تک کئی دھائی پہلے کے حکمران زندہ بیٹھے ہیں جن کا خیال تھا ریاست اور مملکت ان کی جیب کی گھڑی ہے ۔ شاہانہ رعب ودبدبہ ان کے  دماغ سے کیوں نہیں نکلتا۔

لبرل ازم آپ کا آئیڈیل ہے تو طریقہ بھی اصولی رکھا جائے ۔  عوام کو اپنی مرضی کے لیے آزاد رچھوڑا جائے ۔ عوام کی اکثریت آپ کو ووٹ دے تو یہ آپ کا بھاری مینڈیٹ ہے۔ راولپنڈی میں جمع لوگ ناخواندہ اور جاہل کیسے ہوگئے  ؟ ان کی آواز دبانے کی سعی کیوں کی گئی۔ ان کا جم غفیر  کیا پیغام دینا چاہتا تھا اس پیغام کو محصور کیوں کیا گیا ؟ ایسا ہوتا ہے تو سوالات اٹھتے ہیں ۔ سوالات جواب چاہتے ہیں بلیک آوٹ اس کا علاج نہیں ہوتا۔کیوں کہ “بلیک آوٹ” کا مطلب تاریکی ہے اورمکمل تاریکی۔ تاریکی کی کوکھ سے مزید ظلمتیں اور جہالتیں ہی پھوٹتی ہیں۔ آزادی ، برابری اور انسانی حقوق جمہوریت کے اولین ترین اصول ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “بلیک آؤٹ کے اندھیرے میں جرائم پلتے ہیں

  • 15-03-2016 at 2:52 pm
    Permalink

    khoob likha hay or daleel say likha hay…. main aik secular insaan hoon or ap ki baat ki taeed karta hooon…. keep it up

    • 23-03-2016 at 12:05 am
      Permalink

      احسن رسول صاحب بہت شکریہ تائید ۔ آپ کے لیے دلی احترام میں اضافہ ہوا۔

Comments are closed.