ماریہ طورپکئی کیا کہتی ہیں؟


”مجھ ایسی لڑکیوں کو پاگل خانے بھیج دیا جاتا ہے یا پھر یہ لوگ ہمیں سنگسار کر دیتے ہیں۔ جو بہت خوش قسمت ہوں ان کی شادی مخالف قبیلے کے کسی فرد سے ہو جاتی ہے تاکہ خون کے چند دھبے دھوئے جا سکیں۔ میں اس طرح کی انتقامی شادی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ یہ ایک ایسی سزا تھی جو میری آزاد خیال ماں اور میرے باغی باپ کا دماغ گھما چکی تھی اور آخرکار جس کا انجام ان دیکھے فریقین کی شادی تھا۔ قبائلی بزرگوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان دونوں کی جرات پسندی اور ایک ہی جیسا مزاج کیا قیامت ڈھا سکتا ہے۔ انہوں نے کم از کم مجھ ایسی لڑکی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا ہو گا اور پھر وہ پشتون باغیوں کے اس خاندان کو بڑھنے سے کبھی روک بھی نہ پائے۔ مجھے تو گھر والے بھی ایک الگ قسم کی بیٹی سمجھتے تھے۔ مجھے گڑیوں سے نفرت تھی، میرے لیے فینسی کپڑے پہننا تکلیف دہ تھا اور کوئی بھی چیز جو بالکل عورتوں والی ہو اسے میں فوراً مسترد کر دیتی تھی۔ میری زندگی کا مقصد کبھی بھی باورچی خانہ یا گھر کی چار دیواری میں محدود رہنا نہیں تھا۔‘‘

22 نومبر 1990 کو میں ایک گاؤں میں پیدا ہوئی۔ وہ بہت سے دوسرے ایسے ہی علاقوں جیسا چھوٹا اور خاموش سا تھا، بالکل ایک غیر اہم نشان جیسا جو کسی وسیع سبز وادی میں کہیں موجود ہو۔ میری ماں چھبیس برس کی تھی اور میری پیدائش کے وقت اس کے پاس ہسپتال، ڈاکٹر یا دوائیوں جیسی کوئی چیز نہ تھی۔ چند پڑوسی عورتیں آئیں اور سرگوشیاں کرتی ہوئی واپس چلی گئیں۔ مرد لوگ آم کھانے، شکر کی ڈلیاں چوسنے یا نماز پڑھنے کے لیے مسجد جا چکے تھے، وہ بہرحال وہاں سے تسلی بخش حد تک دور تھے۔ جہاں میں پیدا ہوئی وہ کمرہ بالکل اندھیرا تھا اور مقفل، کوئی آواز باہر منتقل نہیں کر سکتا تھا۔ بہرحال جب یہ سب کچھ ہو گیا تو پورے قبیلے کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ میرا اس دنیا میں پہلی مرتبہ رونا خوشی لیے تھا یا وہ درد بھری آوازیں تھیں، میں زندہ پیدا ہوئی تھی یا مردہ، انہیں کوئی پروا نہیں تھی۔ میں اس دنیا میں بالکل اپنی بہن عائشہ گلالئی کی طرح آئی جو مجھ سے چار سال پہلے آ چکی تھی، ایک لڑکی کے روپ میں، اور یہ قبیلے کے چہرے پر ایک اور بدنما داغ تھا!

میرا باپ شمس قیوم وزیر جو ابھی تیس کا بھی نہیں ہوا تھا، ایک شریف النسل آزاد خیال آدمی تھا، جس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ وہ عام پشتون آدمیوں میں ایک باغی تھا۔ اس نے مجھے یا میری بہن کو کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم اپنے بڑے بھائی تیمور خان سے کسی بھی طرح کمتر ہیں یا سنگین خان اور ببرک خان جو مجھ سے چار برس بعد جڑواں ہوئے تھے، وہ ہم سے زیادہ لاڈلے ہیں۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔ وہاں رہنے والے دوسرے پشتون خاندانوں کے برعکس جہاں خواتین سے ملازموں کے جیسا برتاؤ ہوتا تھا، ہم لوگ اینٹوں اور گارے کے بنے اپنے بڑے سے مکان میں بے فکری اور برابری کی زندگی گزارتے تھے اور اپنے مسلم عقیدے پر عمل پیرا رہتے تھے۔‘‘

یہ دو تین اقتباس ماریہ طورپکئی کی انگریزی کتاب ”اے ڈفرنٹ کائنڈ آف ڈاٹر‘‘ سے ترجمہ کرنے اس لیے ضروری تھے کہ وہ خاتون جو اچانک ہر جگہ زیربحث آ چکی ہیں، ان کے بارے میں کوئی بھی مفروضہ قائم کرتے ہوئے بنیادی باتیں جان لی جائیں۔ یہ کتاب ان کی سرگزشت ہونے کے ساتھ ایسی لڑکیوں کے لیے بھی ایک دلچسپ کہانی ہے جو کھیل کے میدان بلکہ کسی بھی میدان میں کچھ کر کے دکھانا چاہتی ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں پیدا ہونے والی ایک لڑکی کس طرح تمام تر پابندیوں کے باوجود کامیاب کھلاڑی کے طور پر سامنے آئی، یہ چیز غور کرنے کے قابل ہے۔ وہ بچپن سے ہی ٹام بوائے قسم کی تھیں اور ایسا ہونا روائتی معاشرے کے ناممکنات میں سے ہے۔

کتاب میں ایک سین ہے جس میں چند لوگ والی بال کھیل رہے ہیں اور ماریہ انہیں چھپ کر دیکھ رہی ہیں، یہ سلسلہ اس وقت رکتا ہے جب گیند ایک تھرو کے نتیجے میں ان کے قریب آ گرتی ہے۔ اب یہ گیند واپس پھینکتی ہیں تو وہ تمام لوگ ان کے پاس آتے ہیں، ان پر تشدد کرتے ہیں اور انہیں ڈانٹ کے گھر بھیجتے ہیں کہ لڑکی یہ تمہارے دیکھنے یا کھیلنے کی چیزیں نہیں ۔ کیتھرین ہولسٹئین جنہوں نے یہ کتاب معاون لکھاری کے طور پر لکھی ہے، یا تو اس منظر میں اس قدر ڈرامائی رنگ انہوں نے بھرے یا واقعی یہ سب ماریہ طورپکئی کو بھگتنا پڑا… اگر فی الحقیقت کسی چار پانچ برس کی بچی کے ساتھ اتنا ظلم ہوا ہو اور اس طرح سے طمانچے کھائے جائیں تو شاید ری ایکشن بالکل درست طور پر ماریہ جیسا ہی سامنے آئے گا۔

ماریہ نے اپنے لڑکیوں والے تمام کپڑوں کو جلا دیا، ابا نے بجائے ڈانٹنے کے نہ صرف لڑکوں والے کپڑے لا دئیے بلکہ نائی کے پاس لے گئے اور کہا کہ اپنی مرضی سے بال کٹوا لو، جیسے مرضی چاہے جیو، جو اچھا لگے وہ کرو۔ ماں باپ کی طرف سے دئیے گئے اعتماد کا نتیجہ تھا کہ ماریہ پندرہ سولہ برس کی عمر تک لڑکوں کے مدمقابل کھیلتی رہیں بلکہ کتنوں کو تو مار پیٹ بھی دیا ہو گا۔ چنگیز خان کے نام سے ماریہ نے ویٹ لفٹنگ بھی کی اور آٹھ ہفتوں کی ٹرینینگ کے بعد لڑکوں کے ایک مقابلے میں سلور میڈل تک جیتا۔

اس سے پہلے کہ جسمانی تبدیلیاں ان کو بطور لڑکی آگے بڑھنے سے روکتیں، وہ سکواش اکیڈمی میں داخلہ لے کر اپنی انتھک محنت اور لگن کی وجہ سے خود کو منوا چکی تھیں۔ بالآخر مزید عمر بڑھنے پر ان کے لیے ایک لڑکے جیسے روپ میں چھپنا ممکن نہ رہا۔ معاملہ سامنے آنے پر طالبان کی طرف سے دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ ماریہ طورپکئی رات کے اندھیروں میں پریکٹس کے لیے جانے لگیں۔ حالانکہ وہ ایک اچھی اور ٹیلینٹڈ کھلاڑی کے طور پر پہچانی جاتی تھیں لیکن نیشنل سکواش فیڈریشن کی طرف سے دی گئی سکیورٹی بھی آخر کار ناکافی دکھائی دینے لگی اور اغوا، تشدد یا قتل سے بچنے کی خاطر انہوں نے گھر بیٹھنے اور ایک بیڈروم کی دیوار سے سکواش کی پریکٹس کرنے کا سوچا۔ تین سال تک پاکستان کی نمبر ون سکواش کھلاڑی گھر کی دیواروں میں سر مارتی اور گیند اچھالتی رہیں۔ آخر قدرت کو رحم آیا اور ان کی مسلسل دنیا بھر کو بھیجی جانے والی ای میلز میں سے ایک کا جواب آ گیا۔ جوناتھن پاور جو دنیا کے ٹاپ سکواش پلئیرز میں سے ہیں، انہوں نے ماریہ کو 2011 میں ٹورنٹو بلوا لیا۔ پانچ چھ برس کی ٹریننگ کے بعد اس وقت دنیا کی ٹاپ موسٹ ساٹھ خاتون سکواش کھلاڑیوں میں ان کی رینکنگ موجود ہے۔

ایک لڑکی جو اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی ہر جگہ پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہے، اپنے ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اپنے خاندان کا نام روشن کر رہی ہے، اس سے کس بات پر لڑنا بھئی؟ کیا اب کسی کو کھیلنے کے لیے بھی ہم سے اجازت لینا پڑے گی؟ دیکھیے ہمیں کچھ بھی پسند نہیں آتا تو اختیار ہمارا ہے کہ ہم اٹھیں اور ٹی وی کا چینل بدل دیں۔ ثانیہ مرزا ہوں، ماریہ طورپکئی یا ٹی وی پر کسی اشتہار میں دکھائی دینے والی کرکٹ کھیلتی بچیاں ، اگر وہ ٹیلیویژن کے ڈبے میں بند ہیں تو ہمیں کیا کہتی ہیں ؟ ہم کچھ اور دیکھ لیں اگر پسند نہیں آتا۔ نہ وہ ہمیں دکھانے کو کھیلتی ہیں نہ ہم ان کو دیکھنے کھیل کے میدان میں جاتے ہیں تو وہ کیوں ہماری مرضی پر چلیں؟

زندگی ہمیں بہت کچھ دیتی ہے، اپنا حصہ وصولنے کے بعد دنیا بھر کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی اجازت جدید اخلاقیات میں ہرگز موجود نہیں ۔ ملالہ کے ہوں یا ماریہ طورپکئی کے والدین، قابل صد تحسین ہیں کہ ان کے آنگن میں ان کی بیٹیاں اپنی مرضی سے جی سکیں، اپنی مرضی سے رہ سکیں۔ باقی اِدھر اُدھر دیکھیں تو

زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 284 posts and counting.See all posts by husnain