گلالئی اسکینڈل :عمران جمائما اور ریحام کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام


تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، قومی اسمبلی کی رکن محترمہ عائشہ گلالئی کے حوالے سے اپنا اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد پانچویں روز تک اپنی مطلقہ بیویوں جمائما گولڈ اسمتھ اور محترمہ ریحام خان سے اپنی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنے میں سخت ترین کوششوں کے باوجود ناکام رہے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ عمران خان جمائما اور ریحام خان کی ہمدردیاں بٹورنے کیلئے پہلے دن سے کوششیں کررہے ہیں تاکہ وہ اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے اپنا مقدمہ تیار کرسکیں۔ نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ صادر ہونے کے بعد جمائما نے ٹوئٹ جاری کیا تھا کہ پاکستان کا آئندہ وزیراعظم اپنی آئینی میعاد پوری کرے گا۔ جو بظاہر ان کے سابق شریک حیات کی حمایت میں بیان تھا۔ قبل ازیں ایک اور موقع پر بھی جمائما گولڈ اسمتھ نے عمران خان کو مشکل صورت حال سے نکالنے کیلئے بیانات یا ٹوئٹ پیغامات جاری کئے تھے۔

ذرائع کے مطابق خان کی سابق بیویوں ہی کو نہیں، ان کے دیگر افراد خانہ کو بھی عائشہ گلالئی کے انکشافات پر سخت تکلیف پہنچی ہے ان کا خیال تھا کہ خان اپنی عمر کے ستر کے عشرے میں داخل ہونے کے قریب اور اپنی سیاسی جماعت کے پھیلائو کے بعد اپنی حرکتوں سے ’’باز‘‘ آگئے ہوں گے لیکن عائشہ گلالئی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وہ انگشت بدنداں رہ گئے ہیں۔

قومی اسمبلی میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تحریک پر اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایوان کی مشترک کمیٹی قائم کرنے کے لئے کارروائی شروع کردی ہے دوسری جانب تحریک انصاف نے کمیٹی کے قیام کو مسترد کردیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کسی ایسے فورم میں جانے کے لئے آمادہ نہیں ہوں گے جہاں انہیں عائشہ گلالئی کے عائد کردہ الزامات کی صفائی پیش کرنا لازم ہو۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کے ایک سرکردہ رہنما نے بتایا ہے کہ وہ پیر کو قومی اسمبلی میں اپنا موقف پیش کریں گے۔

اسی بارے میں: ۔  کندھا المیڈا کا، بندوق نواز لیگ کی ،اور نشانہ؟

دریں اثناء اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ رحمٰن نے بتایا کہ محترمہ عائشہ گلالئی اور عمران خان کے بلیک بیری موبائل فونز پر ہوتی گفتگو اور پیغامات کا تبادلہ ایک نہیں دو اداروں سے بآسانی مل سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ریکارڈ حاصل کرنا چنداں دشوار نہیں ہوگا۔ ایوان صدر میں اپنی حلف برداری کے موقع پر غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ از حد سنگین اور تشویشناک ہے تاہم وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گی ۔

نمائندے نے ایک اور ذریعے سے تصدیق کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے کہ وہ اس معاملے میں بات کرنے کے مجاز نہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ عمران ایسے معاملات میں کوششیں نہیں کرتے۔ ماضی میں بھی کسی نے عمران کی حمایت کی تو وہ اپنے طور پر کی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ یہ سب غلط ہے ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔