بھارہ کہو میں چند افراد خطرناک حد تک نواز شریف کے قریب آ گئے


نوازشریف کی مری سے اسلام آباد آمد کے دوران سیکیورٹی کے ناقص انتظامات نے کئی سوال پیدا کردیے۔ نوازشریف کار سے باہر نکلے تو ایک شخص کا ہاتھ نواز شریف کی گردن تک جا پہنچا، یہ ہاتھ کس کا تھا، ایجنسیوں نے تلاش شروع کر دی۔

سابق وزیر اعظم اور کروڑوں ووٹ حاصل کرنے والے لیڈر کو سیکیورٹی حکام نے اکیلے کیوں چھوڑا، کیا لاہور جاتے ہوئے بھی سیکیورٹی کی صورت حال ایسی ہی ہو گی، واقعے نے سوال اٹھا دیا۔

ہفتے کو سابق وزیراعظم نواز شریف مری سے اسلام آباد آ رہے تھے کہ بھارہ کہو کے مقام پر عوام ان کے استقبال کے لیے امڈ آئے۔ اس استقبال کے مناظر پر میاں نواز شریف کے حامی خوش تو بہت ہوں گے لیکن بعض مناظر ایسے ہیں جن پر انہی کے مداحوں اور خیرخواہوں کو واضح تشویش ہونی چاہیے۔

نواز شریف اپنے مداحوں کو دیکھ کر گاڑی سے نہ صرف گاڑی سے باہر نکل آئے بلکہ مداحوں میں سے کچھ ان کے اتنے قریب آ گئے کہ انہیں نواز شریف کو چھونے کا موقع بھی مل گیا، پاکستان جیسے ملک میں یہ مناظر بہت تشویش ناک ہیں۔

نواز شریف کچھ روز میں جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد سے لاہور جانا چاہتے ہیں، اس سفر میں سیکیورٹی کا خاص خیال رکھنا پڑے گا اور اگر نواز شریف کے حامیوں کو ان کی سلامتی عزیز ہے تو پھر بھارہ کہو جیسے مناظر سے گریز کرنا ہو گا۔

بھارہ کہو میں ان کے استقبال کی ویڈیو میں ایک شخص نواز شریف کو ان کے چہرے اور گردن کے قریب چھوتا ہوا نظر آ رہا ہے، ہجوم میں یہ جاننا ناممکن ہوتا ہے کہ مداحوں کے اس مجمعے میں کوئی دشمن تو موجود نہیں۔

ایسی ہی ایک صورت حال میں جب بے نظیر بھٹو مداحوں کے ایک مجمع کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہی تھیں تو پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا بدقسمت واقعہ پیش آیا تھا جس کے منفی اثرات سے پاکستان آج تک نہیں نکل سکا۔

جی ٹی روڈ کے سفر میں نواز شریف کی سیکیورٹی کے لیے کچھ اصول یا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر طے کر لینے چاہئیں، نواز شریف کو گاڑی سے نکل کر خود کو غیر محفوظ کرنے سے گریز کرنا ہو گا،اگر انہیں کہیں خطاب کرنا ہے تو اس سے پہلے اس جگہ کی سیکیورٹی ہر لحاظ سے فول پروف بنانا ہو گی،اس کے علاوہ انہیں اپنے اردگرد سیکیورٹی کا مضبوط حصار قائم کرنا ہو گا۔

امریکا کے سابق صدر رونلڈ ریگن پر حملے میں ریگن کے اردگرد لوگوں کے حلیے سے قطعاً محسوس نہیں ہو تا کہ وہ سیکیورٹی اہل کار ہیں لیکن جب فائرنگ ہوتی ہے تو یہ سب اہل کار نہایت ذمہ داری اور حاضر دماغی سے ریگن کو ایک لیموزین میں دھکیل دیتے ہیں۔

ایک سابق وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے نواز شریف اعلیٰ ترین سطح کی سیکیورٹی کے حق دار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں خود اور ان کے مداحوں کو بھی ان کی سیکیورٹی کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔

بشکریہ روز نامہ جنگ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔